رتوڈیرو میں ایچ آئی وی کیسے پھیلا: ’ڈاکٹر ایک ہی ڈرپ کی سوئی دو تین مریضوں کو لگاتا تھا‘

نواب خاتون کا خاندان
Image caption نواب خاتون کا خاندان

نواب خاتون کا سب سے چھوٹا بیٹا تین برس تک نامعلوم بیماری سے جنگ لڑتے لڑتے چند روز قبل جان کی بازی ہار گیا۔ مزمل علی کی عمر پانچ برس تھی۔ نواب خاتون اور ان کے شوہر محمد بخش اب ڈھائی لاکھ روپے کے مقروض ہیں۔

یہ رقم مزمل علی کے علاج کے لیے انھوں نے قرض پر حاصل کی تھی جو اب سود سمیت واپس لوٹانا ہو گی۔ مگر نواب خاتون کو نہیں معلوم کہ اتنے پیسے کہاں سے آئیں گے۔ ان کے پاس زمین کا محض ایک ایکڑ ہے جس پر کھیتی باڑی سے وہ اپنا گھر چلاتے تھے۔

ان کے شوہر محمد بخش کی نظر بھی کمزور ہو گئی ہے۔ وہ زیادہ کام کاج کے قابل نہیں رہے۔ نواب خاتون کہتی ہیں ’رو رو کر ان کا یہ حال ہوا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

رتوڈیرو میں ایچ آئی وی وائرس کیسے پھیلا؟

آٹو ڈس ایبل سرنج سے ایڈز اور ہیپاٹائٹس سے بچاؤ ممکن

ایڈز کے بارے میں آٹھ غلط تصورات

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ کے تعلقہ رتوڈیرو کے ایک گاؤں غلام حسین ہکڑو میں ان کا ایک کمرے کا چھوٹا سا مکان ہے۔ نواب خاتون نے بی بی سی کو بتایا ’صرف یہاں سے رتوڈیرو شہر جانے کے لیے بھی سو، ڈیڑھ سو روپے کرایہ لگتا ہے۔ ہمارے پاس وہ بھی نہیں ہوتا تھا۔‘

’پھر بھی میں اپنے بیٹے کو کہاں کہاں نہیں لے کر گئی۔ سرکاری ہسپتال والوں نے تو کہا، یہاں کہاں لے آئی ہو اس کو لے جاؤ۔ پھر میں اسے رتوڈیرو میں ایک نجی ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی۔‘

تقریباً ایک ماہ قبل تک انھیں نہیں معلوم ہو پایا تھا کہ ان کے بیٹے کو بیماری کیا ہے۔ تین سال پہلے اسے بخار ہوا تھا تو وہ اسے رتووڈیرو کے اس مشہور بچوں کے ڈاکٹر کے پاس لے کر گئیں تھیں جہاں سب جا رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC/Usman Zahid
Image caption رتوڈیرو کا سرکاری ہسپتال

ڈاکٹر مظفر گھانگھڑو کو تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ سینکڑوں بچوں میں ایچ آئی وی وائرس دانستہ پھیلانے کے مرتکب ٹھہرے تھے۔ تاہم پولیس نے تحقیقات کے بعد انھیں دانستہ ایچ آئی وی وائرس پھیلانے کے الزام سے تو بری کر دیا لیکن وہ تاحال زیر حراست ہیں۔

نواب خاتون بیٹے کی موت کا ذمہ دار ڈاکٹر کو کیوں ٹھہراتی ہیں؟

انھی دنوں نواب خاتون بھی اپنے بیٹے کو رتوڈیرو کے ہسپتال میں لگے کیمپ سے ٹیسٹ کروانے لے گئیں۔ ان میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہو گئی جبکہ نواب خاتون اور ان کے شوہر کے ٹیسٹ نفی میں آئے۔

مزمل علی اس کے بعد زیادہ دن زندہ نہیں رہ پائے۔ ’میرے بیٹے کا بخار نہیں اتر رہا تھا، سانس اکھڑ رہا تھا، آنکھیں چڑھ گئیں، پھر اس کی قمیض اتار دی انھوں نے، لیکن وہ ٹھیک نہیں ہوا۔‘ نواب خاتون کی آواز بھر آئی۔

وہ اب بھی نہیں جانتیں کہ ایچ آئی وی کیا ہے مگر اب وہ اتنا جانتی ہیں کہ ان کے بیٹے کو یہ وائرس ٹیکے کی سوئیوں سے لگا اور اسی کی وجہ سے وہ اتنا عرصہ بیمار رہا اور بیماری کا پتا بھی نہیں چل سکا۔

وہ اپنے بیٹے کی موت کا ذمہ دار ڈاکٹر مظفر نامی اسی ڈاکٹر کو سمجھتی ہیں جو اس وقت گرفتار ہیں۔ ’اس ڈاکٹر نے میرے بیٹے کو ایسا ٹیکہ لگایا کہ وہ دوبارہ کبھی صحت یاب نہیں ہو پایا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جب بھی ان کا بیٹا بیمار ہوا ڈاکٹر نے اسے ٹیکہ ہی لگایا۔ ’وہ اس کو ڈرپ لگاتا تھا اور اسی ڈرپ کی سوئی نکال کر دوسرے اور پھر تیسرے مریض کو بھی وہی لگاتا تھا۔‘

نواب خاتون کا بیٹا اکیلا نہیں۔ متاثرین میں 85 فیصد سے زائد بچے ہیں۔

رتوڈیرو شہر سے چند ہی کلومیٹر کے فاصلے پر دو دیہات ایسے ہیں جہاں مجموعی طور پر ساٹھ سے زیادہ بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہو چکی ہے۔ جبکہ رتوڈیرو تعلقہ میں ایچ آئی وی کے مریضوں کی تعداد 750 سے تجاوز کر چکی ہے جن میں پچاسی فیصد سے زیادہ بچے ہیں جن کی تعداد 600 سے زیادہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رتوڈیرو میں زیادہ تر بچے ایسے ہیں جن کے والدین میں یہ وائرس موجود نہیں

ان میں زیادہ تر ایسے بچے ہیں جن کے والدین میں یہ وائرس موجود نہیں یعنی ان سے بچوں کو منتقل نہیں ہوا۔ سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے سربراہ سکندر میمن نے بی بی سی کو بتایا کہ 60 فیصد سے زائد بچے وہ ہیں جن کی عمریں پانچ برس سے کم ہیں۔ ان میں تقریبا آدھے سے زیادہ بچوں نے تاحال اپنی زندگیوں کی پہلی سالگرہ بھی نہیں دیکھی۔

اس طرح رتوڈیرو میں ایچ آئی وی کی اس حالیہ لہر کی وجہ جاننے کی کوشش کرنے والے جنسی زیادتی کو اس وائرس کے پھیلنے کی وجہ ہونے کے امکان کو بھی رد کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی زیادہ تر متاثرہ بچوں میں منتقلی خون بھی نہیں ہوئی۔

ایچ آئی وی وائرس زیادہ تر انھی تین طریقوں سے پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

وائرس اتنے زیادہ بچوں میں کیسے پھیلا؟

مور بزدار کی بھی یہی الجھن ہے۔ ان کی عمر اب 50 کے قریب ہے اور پانچ برس کا ان کا ایک ہی بیٹا ہے۔ دیکھنے میں بھلا چنگا ہے ’بس کھانسی اور بخار کی شکایت رہتی تھی اسے۔‘

اس کے لیے وہ بھی اسے ڈاکٹر مظفر گھانگرو کے پاس لے جاتے تھے۔ ’وہ پیسے زیادہ لیتا تھا۔ ڈرپ لگاتا تھا اور ٹیکہ۔ 300 روپے تک لے لیتا تھا ایک ڈرپ کے اور ٹیکے اور دوائیاں اس کے علاوہ تھیں۔‘

ایسا نہیں کہ مور بزدار اتنا خرچ باآسانی برداشت کر سکتے ہیں۔ انھیں بھی قرض لینا پڑتا تھا۔ ’کبھی بھائی سے مانگ لیے تو کبھی کسی اور سے، مگر ڈاکٹر گھانگرو کے علاوہ بچہ ٹھیک ہی نہیں ہوتا تھا۔`

مور بزدار کہتے ہیں اس ڈاکٹر کو دکھانے کے بعد بچہ کچھ روز ٹھیک رہتا تھا۔ وہ یہی سمجھتے تھے کہ کھانسی زکام ہے۔ ایچ آئی وی کے بارے میں تو انھوں نے کبھی سنا ہی نہیں تھا۔

کچھ روز قبل ان کے گاوں میں ایک ٹیم آئی جس نے تمام بچوں کے ٹیسٹ کروانے کا کہا۔ ٹیسٹ کے بعد معلوم ہوا کہ ان کے بیٹے کے علاوہ کم ازکم 20 بچے ایچ آئی وی کے متاثرہ ہیں۔

رتوڈیرو سے محض 15 سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اس گاؤں میں داخل ہوں تو ٹولیوں کی شکل میں کھیلتے بچے گاڑی کی طرف خود ہی آ جاتے ہیں۔ انھیں یہ تو نہیں معلوم کہ ایچ آئی وی کیا ہے مگر انھیں یہ ضرور معلوم ہے کہ ان کے گاؤں میں کن بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہو چکی ہے۔

وہ خود ہی ایسے بچوں کو آپ سے ملوانے لے آتے ہیں۔ ان کے لیے یہ ایک نئی چیز ہے جس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ان دنوں میڈیا اور ڈاکٹروں کی ٹیمیں اکثر وہاں آتی رہتی ہیں۔

ایک کے علاوہ اس گاؤں کے تمام متاثرہ بچوں کے والدین ایچ آئی وی سے پاک ہیں۔ تاہم مور بزدار کے مطابق وہ سب بچے بھی ڈاکٹر مظفر گھانگھڑو کے مریض رہ چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں ٹیسٹ کیا گیا۔

کیا ذمہ دار صرف ایک ہی ڈاکٹر ہے؟

ڈاکٹر سنیل کمار ڈوڈانی سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورالوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کراچی کے شعبہ وبائی امراض میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ وہ رتوڈیرو میں ایچ آئی وی کی حالیہ لہر کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کی معاونت بھی کر رہے ہیں اور حال ہی میں تحقیق کے مقصد سے علاقے کا دورہ کر چکے ہیں۔

ان کا ماننا ہے کہ ایچ آئی وی کے اس حالیہ پھیلاؤ کا ذمہ دار صرف ایک ڈاکٹر نہیں ہو سکتا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ متاثرہ افراد میں عمومی تین طریقوں سے وائرس کا شکار ہونے والے مریضوں کی تعداد صرف 10 فیصد ہے۔

باقی 90 فیصد جن میں تقریبا تمام تر بچے شامل ہیں ان میں وائرس کے پھیلاؤ کی وجوہات دو ہی ہو سکتی ہیں، استعمال شدہ سرنج کا بار بار استعمال اور شیئرنگ انفیوژن یعنی ایک ہی شیشی سے محلول کو مختلف مریضوں کو منتقل کرنا۔

ان کے خیال میں ’یہ دونوں عوامل رتوڈیرو میں موجود بڑی تعداد میں نجی ڈاکٹروں کے طبی طور طریقوں میں شامل تھے۔‘

اس کا مطلب یہ ہوا کہ کئی ڈاکٹر یا ان کے کمپاونڈر ایک ہی سرنج کو کئی مریضوں پر استعمال کر رہے تھے۔ ساتھ ہی ٹیکوں میں استعمال ہونے والا محلول بھی ایک ہی شیشی سے مختلف مریضوں کو لگایا جاتا تھا۔

یعنی اگر ایک مرتبہ وہ محلول متاثر ہو گیا تو آگے دیگر مریضوں تک پہنچ جائے گا۔

’ٹکیہ‘ نہیں ٹیکہ

ڈاکٹر سنیل کمار ڈوڈانی کا ماننا ہے کہ رتوڈیرو اور قریب کے علاقوں میں لوگوں میں ٹیکے یا ڈرپ لگوانے کا رجحان کافی زیادہ پایا جاتا ہے۔

’ٹکیہ(گولی) کی نسبت انجیکشن زیادہ جلدی اثر دکھاتا ہے لہذا لوگ چھوٹی چھوٹی بیماریوں کے لیے بھی انجیکشن لگوانے کو ترجیح دیتے ہیں۔‘ اس صورت میں انفیکشن کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

’ہمارے مشاہدے میں یہ بھی آیا کہ نجی کلینک حتیٰ کہ بڑے ہسپتالوں میں بھی طبی فضلے اور سرنجوں وغیرہ کو جلا یا دبا کر تلف کرنے کا انتظام موجود نہیں تھا، اگر کہیں تھا تو کام نہیں کر رہا تھا۔‘

Image caption رتوڈیرو کی آبادی لگ بھگ تین لاکھ 30 ہزار ہے جبکہ تاحال تشخیصی کیمپ میں 26000 کے قریب افراد کی سکریننگ ہوئی ہے

ڈاکٹر سنیل کمار ڈوڈانی کے مطابق اس طرح وائرس کے پھیلاو کا خطرہ بھی زیادہ ہو رہا تھا اور سرنجوں کے دوبارہ استعمال کا بھی۔

اتائی ڈاکٹر

سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے سربراہ سکندر میمن رتوڈیرو سے 20 کلومیٹر دور لاڑکانہ میں موجود ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر یہی بات سامنے آ رہی ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کی بنیادی وجہ سرنج ہے۔

’تاہم تحقیقات جاری ہیں اور حتمی وجہ اس کے بعد ہی سامنے آ پائے گی۔‘

سکندر میمن کے مطابق استعمال شدہ سرنج کو استعمال کرنے کے ذمہ دار علاقے میں موجود اتائی ڈاکٹر تھے۔ انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ’ممکن ہے کہ ایسے ڈاکٹروں کو چیک نہیں کیا جاتا تھا۔‘

’اب ہم اس پر کام کر رہے ہیں اور کئی ایسے ڈاکٹروں کے خلاف ایکشن لیا گیا ہے۔‘

تاہم یاد رہے کہ بچوں میں ’غیر دانستہ‘ ایچ آئی وی پھیلانے کے الزام میں گرفتار ڈاکٹر لائسنس یافتہ تھے۔

سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے سربراہ کے مطابق ’انڈیکس پرسن‘ یعنی پہلے معلوم کیس کا بھی پتہ لگائے جانے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ حالیہ ایچ آئی وی کی وبا شروع کہاں سے ہوئی۔

اس تمام عمل میں دو ماہ تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ اس سے پہلے سکندر میمن اور پاکستانی حکام کے سامنے روز بڑھتے ہوئے بچوں کی وہ تعداد ہے جن میں ایچ آئی وی کی تصدیق کی جا رہی ہے۔

Image caption ڈاکٹر عمران ارنابی رتوڈیرو کے ایک مقامی ڈاکٹر ہیں جنھوں نے سب سے پہلے علاقے میں اس مسئلے کی نشاندہی کی

’سائیں میرے پاس مرغی تک نہیں‘

سکندر میمن کے مطابق رتوڈیرو کی آبادی لگ بھگ تین لاکھ 30 ہزار ہے جبکہ تاحال رتوڈیرو تعلقہ ہسپتال میں قائم تشخیصی کیمپ میں 26000 کے قریب افراد کی سکریننگ ممکن ہوئی ہے۔

سکندر میمن کو خدشہ ہے کہ متاثرہ افراد کی تعداد بڑھے گی۔ ان کی سامنے دوسرا چیلنج ان لوگوں کو علاج مہیا کرنا ہے۔ اس غرض سے لاڑکانہ میں ایک سنٹر قائم کیا گیا ہے۔

’یہ ایمرجنسی کی صورتحال نہیں ہے کیونکہ ایچ آئی وی کا وائرس آٹھ سال سے قبل ایکٹیویٹ نہیں ہوتا یعنی اس سے پہلے ان مریضوں کو ایڈز نہیں ہو سکتا۔‘

تاہم وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ایچ آئی وی کی ساتھ ہونے والی دوسری انفیکشن سے مریض کی موت ہو سکتی ہے۔

مور بزدار بھی حال ہی میں اپنے بیٹے کو لے کر لاڑکانہ گئے تھے۔ ’انھوں نے کھانسی اور بخار کا شربت دے کر ہمیں واپس بھیج دیا۔‘

وہ مطمئن نہیں تھے۔ ان کے خوف کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس سے قبل ان کا بڑا بیٹا چھ برس کی عمر کو پہنچ کر مر گیا تھا۔ وہ بھی ایسے ہی بیمار رہتا تھا اور اس کی بھی بیماری کا پتہ نہیں چلتا تھا۔

اب مور بزدار کی بیماری کا تو پتہ چل چکا ہے مگر انھیں یہ نہیں معلوم کہ وہ اپنے اکلوتے رہ جانے والے بیٹے کو بچا پائیں گے یا نہیں۔

ایچ آئی وی کا علاج اگر حکومت سے نہ ملے تو بہت مہنگا ہے اور مور بزدار ایک جھونپڑی نما کمرے میں رہتے ہیں۔ کمائی کا ذریعہ مویشی تھے مگر اب نہیں رہے۔

’بکری تو دور کی بات سائیں میرے پاس مرغی تک نہیں ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں