شمالی وزیرستان میں دھماکہ، چار فوجی اہلکار ہلاک

فوجی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شمالی وزیرستان میں سڑک کے کنارے نصب بم پھٹنے کے نتیجے میں تین فوجی افسر اور ایک سپاہی ہلاک ہو گیا ہے۔

جمعے کی شب فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا شمالی وزیرستان کے علاقے خاڑ قمر میں سڑک کے کنارے نصب کردہ بم سے سکیورٹی اہلکاروں کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔

دھماکے میں چار ہلاکتوں کے علاوہ تین سپاہی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ہلاک شدگان سکیورٹی اہلکاروں میں ایک لیفٹیننٹ کرنل، میجر، کیپٹن اور لانس حوالدار شامل ہیں۔

مزید پڑھیے

پی ٹی ایم کارکنوں کی ہلاکتیں، پارلیمانی کمیشن کا مطالبہ

میرانشاہ میں دھرنا ختم لیکن’کورٹ مارشل کی شرط پر تنازع‘

’دہشت گرد شمالی وزیرستان میں واپس آ گئے ہیں‘

پریس ریلیز کے مطابق یہ وہی علاقہ ہے جہاں کچھ روز قبل سکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن میں کچھ سہولت کاروں کو گرفتار کیا تھا۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران 10 سکیورٹی اہلکار ہلاک اور 35 زخمی ہو چکے ہیں۔ اس میں جمعے کو ہونے والی ہلاکتیں بھی شامل ہیں۔

اس دھماکے کے بعد وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے جاری پیغام میں واقعے کی مذمت کی گئی اور ہلاک شدگان کے اہل خانہ سے تعزیت کی گئی۔

انھوں نے وزیرستان میں پاک فوج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوے کہا ہے کہ چند دشمن عناصر قبائلی علاقوں کے غیور عوام کو ورغلا رہے ہیں۔ مگر ریاست ان عناصر کو امن میں خلل ڈالنے کی اجازت نہی دے سکتی۔

خار قمر میں ہی پی ٹی ایم کے کارکنوں کی ہلاکت کا واقعہ چند روز قبل اس وقت پیش آیا تھا جب اس تنظیم کے اراکین اور خاڑکمر چیک پوسٹ پر تعینات فوجی اہلکاروں میں تصادم ہوا تھا اور اس واقعے میں پانچ فوجی اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ پشتون تحفظ مومنٹ کے رہنما محسن داوڑ اور علی وزیر جو کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی بھی ہیں چیک پوسٹ پر پی ٹی ایم کے کارکنوں کے ’فوج کے ساتھ تصادم‘ کے بعد سے اپنے چند ساتھیوں سمیت حراست میں ہیں۔

شمالی وزیرستان کو کچھ ہی ماہ قبل عام عوام کے لیے کھولا گیا تھا تاہم خار قمر واقعے کے بعد وہاں کرفیو لگا دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں