جعلی اکاؤنٹس کیس: آصف زرداری گرفتاری کے بعد 10 روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے

کراچی پریس کلب کے باہر پی پی پی کے کارکن
Image caption کراچی پریس کلب کے باہر پی پی پی کے کارکن

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور ملک کے سابق صدر آصف علی زرداری کو دس روزہ جسمانی ریمانڈ پر قومی احتساب بیورو کے حوالے کر دیا ہے۔

آصف زرداری کو پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جعلی بینک اکاؤنٹس کے کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد نیب نے گرفتار کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

آصف علی زرداری کو کن الزامات کا سامنا ہے؟

انھیں منگل کو سخت حفاظتی انتظامات میں اسلام آباد کی احتساب عدالت لایا گیا جہاں ان کے 14 روزہ ریمانڈ کی استدعا کی گئی تاہم جج ارشد ملک نے ان کا دس دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انھیں 21 جون کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

احتساب عدالت میں آصف زرداری کی پیشی کے موقع پر سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ سمیت اہم پارٹی رہنما موجود تھے۔

کمرہ عدالت میں میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو میں سابق صدر کا کہنا تھا کہ ان کی گرفتاری دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’سلیکٹڈ وزیراعظم کو کچھ نہیں پتا، یہ سب وزیر داخلہ کروا رہے ہیں۔‘

اس سوال پر کہ کیا انھیں پارلیمان سے باہر رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے آصف زرداری نے کہا کہ ’اس سے فرق کیا پڑے گے، میں نہیں ہوں گا تو بلاول ہو گا، بلاول نہیں ہو گا تو آصفہ ہو گی۔‘

خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے آصف زرداری کے علاوہ ان کی بہن فریال تالپور کی بھی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد کر دی تھی لیکن نیب نے تاحال ان کی گرفتاری کی کوشش نہیں کی۔

نیب کے ترجمان بلال پنو کے مطابق آصف زرداری کی گرفتاری کے متعلق قومی اسمبلی کے سپیکر کو مطلع کر دیا گیا ہے اور ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کو بھی طبی معائنے کے لیے بلایا گیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کارکنوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے تاہم مختلف شہروں سے مظاہروں کی اطلاعات ہیں اور کراچی میں پریس کلب کے باہر لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوگئی ہے۔

خیال رہے کہ سابق صدر 28 مارچ سے لے کر اب تک عبوری ضمانت پر تھے جس میں پانچ مرتبہ توسیع کی گئی۔

اس سے پہلے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پیر کو سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر اور وکیلِ صفائی فاروق ایچ نائیک کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سماعت کے دوران فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اس کیس میں چیئرمین نیب کے پاس وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا اختیار نہیں لیکن پھر بھی انھوں نے ایسا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں نیب کی بدنیتی بھی سامنے آئی۔

فاروق نائیک کے مطابق وارنٹ انکوائری یا انویسٹیگیشن کے دوران جاری کیا جاتا ہے جبکہ اس کیس کا عبوری ریفرنس تو احتساب عدالت میں آ چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

آصف علی زرداری کو کن الزامات کا سامنا ہے؟

بے نامی کھاتے اور بد نامی

’مائی لارڈ رجسٹری نہیں کیش جمع کراؤں گا‘

جعلی اکاؤنٹس سے اربوں روپے کس کس کو منتقل ہوئے؟

انھوں نے سوال اٹھایا کہ جب معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے تو اس مرحلے پر کیا چیئرمین نیب وارنٹ جاری کر سکتے ہیں؟

جب انھوں نے کہا کہ متعلقہ عدالت کے جج کا اختیار ہے کہ وہ وارنٹ جاری کر سکتا ہے تو جسٹس محسن اختر کیانی نے پوچھا کے آیا ٹرائل کورٹ نے مچلکے منظور کر لیے ہیں؟ اس کے جواب میں فاروق نائیک نے کہا کہ متعلقہ ٹرائل کورٹ مچلکے منظور کر کے حاضری یقینی بنانے کا حکم دے چکی ہے۔فاروق نائیک نے اپنے دلائل میں کہا کہ نیب پراسیکیوٹر نے فرنٹ کمپنیوں کا ذکر کیا، اس کیس میں کوئی فرنٹ کمپنی نہیں ہے۔ ’یہ کیس تو احتساب عدالت میں زیر سماعت ہےاور اس معاملے میں سارا الزام کچھ بینک ملازمین پر ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PPP
Image caption لاہور میں فیروز پور روڈ پر پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے آصف علی زرداری کی گرفتاری کے خلاف احتجاج شروع کر دیا ہے

ان کے مطابق اومنی گروپ کے اس اکاؤنٹ سے آصف زرداری کا کوئی تعلق نہیں جس سے ڈیڑھ کروڑ روپے آنے کا الزام ہے۔ ان کا کہنا تھا ’آصف زرداری پر ایسا کوئی الزام نہیں کہ انھوں نے کسی اکاونٹ کو کھولنے میں معاونت کی ہو اور جعلی اکاونٹ کھولنے کی حد تک آصف زرداری ملزم نہیں۔‘

انھوں نے نیب کی دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر سمیت تمام دستاویزات میں لکھا ہے کہ اکاؤنٹس اومنی گروپ نے کھولے اور کہیں بھی آصف زرداری کا نام نہیں آیا۔

انھوں نے پوچھا کہ بنک ریکارڈ پر آنے والی رقوم کی منتقلی خفیہ کیسے قرار دی جا سکتی ہے؟ ’اویس مظفر آصف زرداری کے منھ بولے بھائی ہیں۔ بھائی کو بینکنگ چینل سے بھیجی گئی رقم خفیہ یا غیرقانونی کیسے ہوسکتی ہے؟‘

نیب کا موقف

اس سے قبل نیب کی جانب سے پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ نیب کے پاس تفتیش کے لیے ملزم کی گرفتاری کا مکمل اختیار ہے، جو کہ طلعت اسحاق کیس میں سپریم کورٹ نے نیب کو دیا تھا۔

اس پر جب جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ یہ تمام اختیارات تو ضمانت بعد از گرفتاری کے لیے ہیں تو نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے غیرمعمولی حالات اور ہارڈ شپ کا سہارا لیا جاسکتا ہے، جبکہ آصف زرداری نے ایسا نہیں کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ان کے مطابق اسی وجہ سے آصف زرداری کی درخواست ضمانت ناقابلِ سماعت ہے اور انھوں نے عدالت سے درخواست کی کہ ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں خارج کی جائیں۔

اس سے قبل نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ یہ کیس 4.5 ارب روپے کی ٹرانزیکشن کا معاملہ ہے اور اس حوالے سے تمام فہرست مہیا کر دی گئی ہیں کہ کتنی رقم اکاؤنٹ میں آئی اور کتنی استعمال ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ بینک اکاؤنٹس سے متعلق تفتیش ابھی جاری ہے اور اب تک حاصل کی جانے والی معلومات کے مطابق اے ون انٹرنیشنل اور عمیر ایسوسی ایٹس سے اربوں روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی۔ انھوں نے دعوی کیا کہ ان اکاونٹس کے ساتھ زرداری گروپ اور پارتھینون کمپنیوں کی ٹرانزیکشنز بھیں ہوئیں۔

’یہ 29 میں سے صرف ایک اکاؤنٹ کی تفصیل ہے، باقی 28 اکاؤنٹس کی تفتیش جاری ہے۔‘

واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے ایک اکاؤنٹ سے مشکوک منتقلی کا مقدمہ درج کیا جس کے بعد کئی جعلی اکاؤنٹس سامنے آئے جن سے مشکوک منتقلیاں کی گئیں۔

ایف آئی اے کا دعویٰ ہے کہ ان مشکوک منتقلیوں سے مستفید ہونے والوں میں متحدہ عرب امارات کے نصیر عبداللہ لوطہ گروپ کے سربراہ عبداللہ لوطہ، آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور، اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید، ان کے بیٹے، بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے داماد ملک زین شامل ہیں۔

اسی بارے میں