سہیل وڑائچ کا کالم: آصف زرداری کی مفاہمتی سیاست کے باوجود جیل واپسی کی وجہ کیا بنی؟

جعلی بینک اکاؤنٹس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گرفتاری کے بعد آصف زرداری دس روزہ ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں رہیں گے

آصف علی زرداری عدالتی حکم پر ایک بار پھر جیل جا پہنچے ہیں جیل ان کے لیے نئی تو نہیں البتہ اس بار وہ 15 برس کی طویل آزادی گزار کر جیل گئے ہیں۔

اس 15 برس کے وقفے میں وہ پانچ برس صدر پاکستان بھی رہے، یوں شاید یہ پندرہ برس ان کی سیاسی زندگی میں آزادی کے وہ سال تھے جن میں انھوں نے بھرپور کوشش کہ وہ مقتدر قوتوں سے بنا کر رکھیں۔

انھوں نے اپنے سیاسی مخالفوں سے لڑائی بھی حد سے نہ بڑھائی۔ اس سارے عرصے میں وہ پر امن بقائے باہمی کے لئے جدوجہد کرتے رہے اور شاید اس سارے عمل میں کہیں نفسیاتی خوف بھی تھا کہ ان کی جماعت اور ان کے خاندان کو اب دوبارہ جیل نہ جانا پڑے اور نہ ہی مزید قربانیاں دینی پڑیں۔

مگر ہونی ہو کر رہتی ہے۔ ان کی سب تدبیریں ناکام رہیں اور ایک بار پھر سے وہ جیل میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے!

پاکستانی سیاست اور شاہی دورہ

مریم جی کی واپسی!

ضمانت کی سیاست اور سال 2019

میجر جنرل آصف غفور اور مہاتما گاندھی

آصف زرداری بنیادی طور پر عملیت پسند ہیں۔ بطور صحافی گذشتہ 31 سال میں ان سے بالمشافہ ملاقاتوں، گفتگو اور انٹرویوز کا موقع ملتا رہا ہے۔

میرا مشاہدہ یہی ہے کہ اس تمام تر عملیت پسندی کے باوجود ان کے اندر کہیں مثالیت پسند جراثیم بھی موجود ہیں۔ ایک ملاقات میں مجھے ان کے والد حاکم علی زرداری نے اپنی پسندیدہ ترین شخصیت مولانا حسرت موہانی کو قرار دیا تھا اور یہ بھی بتایا تھا کہ انھوں نے حسرت موہانی کو نواب شاہ میں مدعو کیا تھا۔

حسرت موہانی مسلم لیگی تھے مگرانقلاب زندہ باد یعنی مکمل آزادی کا نعرہ لگانے والے پہلے ہندوستانی تھے۔ جیل ان کا اوڑھنا اور بچھونا تھا۔ جیل سے ان کے تعلق کے حوالے سے ان کا یہ شعر مشہور ہے:

ہے مشق سخن جاری اور چکی کی مشقت بھی

اک طرفہ تماشا ہےحسرت کی طبیعت بھی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

صرف حاکم زرداری ہی نہیں، کسی زمانے میں سیاست کے اکثر مثالیت پسند جیل کو اپنا سسرال قرار دیا کرتے تھے جیل جانا بھی ایک رومانس تھا۔ ہتھکڑیاں بہادروں کا زیور کہلاتی تھیں۔

جیل جانے والے اہل سیاست، وہاں کتابیں پڑھتے اور کتابیں لکھتے تھے جواہر لعل نہرو نے مشہور کتاب ’Glimpses of History‘ ہندوستان کی مختلف جیلوں میں قید رہ کر محض اپنی یاداشت پر لکھی۔

احراری عطاءاللہ شاہ بخاری اور قوم پرست مسلمان رہنما ابوالکلام آزاد بھی اس روایت کے امین رہے حالیہ سیاست میں ذوالفقار علی بھٹو نے جیل میں قید رہ کر ہی ’If I am assassinated‘ لکھی۔

اس زمانے میں جو اہل سیاست کتابیں نہیں لکھتے تھے وہ بہادری سے جیلیں کاٹتے تھے غفار خان ، ولی خان اور نوابزادہ نصراللہ خان جیل کی سختیوں پر بھی حرف شکایت تک زبان پر نہیں لاتے تھے۔ مکمل طور پر عملیت پسند آصف علی زرداری کے دماغ کے کسی کونے میں حاکم علی زرداری جیسا مثالیت پسند موجود ہے یہی وجہ ہے ان کی پسندیدہ شاعری آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی ہے۔

اسی طرح انھوں نے جیل اس بہادری سے کاٹی کہ نظریاتی مخالف مجید نظامی نے انھیں مرد حر کا خطاب دے دیا۔

وہ کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ مرد کی یہ شان نہیں کہ وہ تکلیف میں اف تک کہے یہ بھی کئی بار کہا کہ الزامات کی وجہ سے میرے گناہ جھڑتے ہیں۔ یہ سب مزاحمتی سیاست دان جیسا نقطۂ نظر ہے مگر زرداری سیاست عملیت پسندی کی کرتے ہیں۔ ہاں جب مشکل میں آتے ہیں تو کہیں چھپا ہوا مزاحمتی اندر سے سر نکال لیتا ہے۔

دوسری طرف ان کی سیاست مکمل طور پر عملیت پسندی کا شکار ہے۔ 64 سالہ آصف علی زرداری کی کوشش اور خواہش ہوتی ہے کہ وہ سب سے بنا کر رکھیں۔ مجھے سنہ 2004 کی کراچی میں ان سے ہونے والی ملاقات نہیں بھولتی جب ان کی اور میری تحریری شرط لگ گئی۔

میرا موقف تھا کہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ پی پی پی اور اسٹیبلشمنٹ کا اکٹھے مل کر چلنا محال ہے کیونکہ دونوں کے فلسفے متضاد ہیں۔

زرداری بضد تھے کہ نہیں میں چھ ماہ میں پی پی پی کی حکومت آتے دیکھ رہا ہوں اور یہ حکومت اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر چلے گی۔ فوری طور پر تو زرداری صاحب یہ شرط ہار گئے مگر سنہ 2008 میں جب وہ صدر پاکستان بنے تو انھوں نے مقتدر قوتوں کے ساتھ چل کر نہ صرف دکھا دیا بلکہ اپنی شرط کو برابر کر لیا۔

سوائے میمو گیٹ کے وہ مقتدر قوتوں کے ساتھ ایک صفحے پر ہی رہے حد تو یہ تھی کہ زرداری کے ایوان صدر میں آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ جنرل پاشا کو ’مائی بیسٹ فرینڈ‘ کا باقائدہ خطاب دیا گیا تھا۔

زرداری صاحب کی عملیت پسندی نے انھیں آزادی کا 15 برس کا وقفہ تو دے دیا لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود آج پھر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔

یادوں کے ریلے میں مجھے آج سے 23 برس پہلے لاہور کے گورنر ہاؤس کے موسم سرما کی یاد بھی آرہی ہے۔ جب 4 نومبر 1996 کو آصف علی زرداری مجھے اور میرے دوست صحافی انجم رشید کو گورنر ہاؤس کی چھت کے کونے میں لے گئے اور پوچھا سیاست کیا کہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے!

آصف علی زرداری کو کن الزامات کا سامنا ہے؟

جعلی اکاؤنٹس: 172 نام ای سی ایل میں ڈالنے پر نظر ثانی

آصف زرداری نے ایف آئی اے سے وقت مانگ لیا

میں نے کہا کل آپ کی حکومت جا رہی ہے، آپ گرفتار ہوں گے اور اس کی وجہ پتہ نہیں آپ کے اعمال یا کارکردگی ہو گی یا نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آصف زرداری کہتے ہیں کہ ان کی گرفتاری سے فرق نہیں پڑے گا ان کے بعد بلاول اور آصفہ ہونگے

اصل وجہ یہ ہوگی کہ تاثر یا یہ Perception ہے کہ آپ کی حکومت کرپٹ ہے۔ زرادری صاحب کے چہرے پر ایک رنگ آیا اور ایک گیا مگر دوسرے ہی لمحے عملیت پسند زرداری نے مسکراتے ہوئے میرے کندھے تھپتھپائے اور کہا لغاری ایسا نہیں کرے گا۔

مگر ہونی ہو کر رہی تھوڑے عرصے بعد میری ان سے کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات ہوئی مجھے آتا دیکھ کر دور ہی سے زرداری صاحب نے زور سے پنجابی میں نعرہ لگایا ’او تیری پرسیپشناں نے مینوں مروا دِتا۔‘

سنہ 1996 سے 2004 تک وہ مسلسل جیل میں رہے اور رہا بھی تب ہوئے جب ان کے حق میں ہمدردی کی لہر بیدار ہو رہی تھی۔

حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ سنہ 1990 میں بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم ہوئی تو آصف زرداری کو اندر کر دیا گیا اور وہ جیل سے تب باہر آئے جب صدر غلام اسحاق خان نے اسمبلیاں توڑیں اور زرداری صاحب نے نگران وزیر کے طور پر حلف اٹھایا۔

آصف زرداری کے جیل جانے سے کچھ نہیں بدلے گا نہ کوہ ہمالیہ روئے گا نہ کوئی بڑی تحریک چلے گی۔ پیپلز پارٹی کو علم ہے کہ اگلا وار سندھ حکومت پر ہو گا اب اگر سندھ کی حکومت احتجاج میں شامل ہوتی ہے تو تحریک انصاف کو سندھ میں مداخلت کا بہانہ مل جائے گا۔

آصف زرداری نے البتہ جیل کے اندر پہلی رات کے دوران یہ ضرور سوچا ہو گا کہ 15 برس میں عملیت پسندی کے آخری حد تک مظاہرے کے باوجود وہ پھر بھی جیل میں کیوں ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سابق صدر کا کہنا ہے کہ گرفتاری تھرڈ ورلڈ ممالک میں سیاست کا حسن ہے

آصف زرداری عوام کی نظر میں ایک اصلی مزاحمت پسند اور مثالیت پرست ہوتے ہوئے وہ مردِ حُر کا خطاب تو پا چکے، مردِ جمہور کا خطاب بھی پا لیتے مگر صد افسوس کہ ان کے بارے میں کرپشن کا تاثر اسی طرح برقرار ہے۔

میگا منی لانڈرنگ ہو یا سوئس اکاؤنٹس یا سرے محل کا معاملہ، ان کے حوالے سے کبھی ایسا دفاع سامنے نہیں آیا جو انھیں الزامات سے پاک صاف کر دے۔ طویل جیلیں اپنی جگہ مگر کرپشن کے داغ انھیں عظمت کے تخت پر سرفراز نہیں ہونے دیتے۔

کاش بلاول بھٹو زرداری ہی اس حوالے سے سامنے آئیں اور کرپشن سے پاک ایسا بیانیہ سامنے لائیں جو پیپلز پارٹی کی بے داغ مزاحمتی سیاست کو پھر سے زندہ کر دے۔

مجھے 31 برس میں زرداری صاحب سے پہلی ملاقات بھی یاد ہے جو جہانگیر بدر کے ہمراہ ایک سیالکوٹی ٹھیکے دار کے کراچی بنگلے میں ہوئی تھی۔ وہ اس وقت کھلنڈرے نوجوان تھے اسی طرح آج سے صرف ایک ماہ میں ہونے والی آخری ملاقات بھی یاد آرہی ہے جس میں وہ بوڑھے اور تھکے تھکے نظر آئے۔

زرداری صاحب کو تین دہائیوں سے جاننے کے بعد یہ بات بآسانی کہی جا سکتی ہے۔ آصف زرادی جیل ایک مثالیت پرست کی طرح بہادری سے کاٹیں گے۔ حاکم زرداری نے اپنے اکلوتے بیٹے کو بکریاں چرانے سے لے کر اونٹوں پر سفر کے ساتھ زمین دارہ سنبھالنا بھی سکھایا ہے۔

جب وہ اپنے بیٹے کو یہ سب سکھا رہے تھے تو لازماً انھوں نے حسرت موہانی جیسی مثالیت پسندی کی تربیت بھی دی ہو گی۔ ساتھ ہی ساتھ آصف زرداری نے کامیاب بزنس مین والد ہی سے عملیت پسندی کے اسباق بھی لیے ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آصف زرداری جیل میں مزاحمت کی سیاست کریں گے مگر ملک میں عملیت کی سیاست جاری رکھیں گے۔

اسی بارے میں