پی آئی اے: طیارے کو مانچسٹر میں کیا ہوا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایمرجنسی سلائیڈ کی تصویر جو پچھلے دروازے کے ساتھ منسلک تھی۔

پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز گذشتہ چند دنوں سے خبروں میں ہے اور اس کی وجہ ایک مسافر کا طیارے کی ہنگامی سلائیڈ 'غلطی سے کھولنے' کی کوشش ہے۔

اس بارے میں جہاں مقامی اخبارات اور میڈیا میں مختلف باتیں کی گئیں وہیں معاملے سے کئی سوالات بھی اٹھے ہیں۔ ہم نے پی آئی اے میں مختلف حکام سے بات کرنے کے بعد ان چند سوالوں کا جواب دینے کی کوشش کی جو پوچھے جا رہے ہیں۔ ابھی تک اس مسافر کی شناخت کے بارے میں کوئی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔

مثلاً چند اہم سوالات کچھ یوں ہیں:

  • کیا ایک مسافر طیارے کا دروازہ اتنی آسانی سے کھول سکتا ہے؟
  • کیا طیارے رن وے پر تھا جب یہ واقعہ ہوا؟
  • آخر پی آئی اے نے صرف چالیس مسافروں کو کیوں اتارا؟
  • کیا اس میں عملے کی نااہلی کا عمل دخل ہے؟

واقعہ کچھ یوں ہے کہ پی آئی اے کی پرواز پی کے 702 مانچسٹر سے اسلام آباد روانگی کے لیے تیار تھی، کیبن کرو اپنے آخری کام سرانجام دے رہے تھے اور مسافر اپنی نشستوں پر بیٹھ چکے تھے۔ پرواز کے لیے پی آئی اے کا بوئنگ ٹرپل سیون طیارہ پش بیک کیا جانے والا تھا۔ مگر طیارہ نے ابھی حرکت شروع نہیں کی تھی۔ اسے ٹگ یعنی وہ گاڑی جو طیارے کو پیچھی دھکیلتی ہے لگائی جا رہی تھی یا لگ چکی تھی۔ اور کیبن کرو نے اپنے اپنے دروازے 'آرم' کر لیے تھے۔ کہ اچانک ایک مسافر نے اٹھ کر طیارے کے 'آرمڈ' دروازے کے لیور کو بیت الخلا کا دروازہ سمجھ کر ہلا دیا جس کے بعد دروازے کے ساتھ لگی ایمرجمنسی سلائیڈ جس سے مسافر ہنگامی حالت میں پھسل کر طیارے سے بچ نکلتے ہیں کھل گئی اور دروازہ کھل گیا۔

یہ بھی پڑھیں

پی آئی اے کے دو بدقسمت طیارے جو کھڑے کھڑے 'کھنڈر' بن گئے

پی آئی اے، کیکی چیلنج اور نیب

پی آئی اے کے پانچ بڑے مسائل

پی آئی اے کے بارے میں پانچ غلط فہمیاں

کیا ایک مسافر طیارے کا دروازہ اتنی آسانی سے کھول سکتا ہے؟

Image caption پی آئی اے کے طیارے کا دروازہ جس میں نیچے آپ جو لمبا لیور دیکھ رہے ہیں اسے اوپر کی جانب اٹھا کر بائیں جانب گھمائے جانے ھر دروازہ کھلتا ہے۔ جبکہ اوپر ایک چھوٹا لیور ہے جو اسے آرم یا ڈس آرم کرتا ہے۔ یعنی اس کے ہنگامی صورتحال میں خودکار نظام کو فعال کر دیتا ہے۔

اس سوال کا جواب سمجھنے کے لیے بوئنگ 777 کے دروازے کو سمجھنا ضروری ہے۔ اس طیارے کے دروازے پر دو لیور لگے ہوتے ہیں اور ایک ہینڈل۔ چھوٹا لیور جو اوپر ہوتا ہے اس کی مدد سے کیبن کرو دروازے کو آرم کرتے ہیں۔ آرم کرنے کا مطلب ہے کہ طیارے کے دروازے کو کھولنے کا ہنگامی نظام لوڈ کیا جاتا ہے۔ آپ نے اگر طیارے پر سفر کیا ہے تو آپ گیٹ سے طیارہ ہٹنے کے وقت پائلٹ کی آواز سنتے ہیں کہ 'روانگی کے لیے تیار ہوں، آرم دی ڈور سلائیڈز' جس کا مطلب ہوتا ہے کہ دروازے کو آرم کرنے کا مرحلہ شروع کر دے۔

دروازے کوآرم کرنے کا مطلب اس تکنیکی خودکار نظام کو فعال بنانا ہے جو ہنگامی صورت میں ایک ہلکی سے جنبش سے دروازے کو فوراً کھول دیتا ہے اور اس کے لیے کسی قوت اور طاقت کی ضرورت نہیں ہوتی اور دروازے کے اندر موجود مشین خود یہ کام کرتی ہے۔

اکثر آپ کو سننے کو ملتا ہے کہ کیسے کوئی اتنا بھاری دروازہ کھول سکتا ہے۔ اس کا سادہ جواب ہے کہ روزانہ ہزاروں خواتین اور مرد کیبن کرو یہ دروازے کھولتے اور بند کرتے ہیں اور یہ اتنا مشکل نہیں جتنا دکھائی دیتا ہے۔ دوسرا ایک اور اہم بات ہے کہ ایک 'آرمڈ' دروازہ ہنگامی صورتحال کے لیے آرم کیا جاتا ہے تاکہ اسے آسانی سے اور جلدی سے کھولا جا سکے اور ہنگامی سلائیڈ کو چالو کرنے کے لیے بھی کوئی مختلف نظام نہ ہو بلکہ دونوں کام ایک ہی حرکت سے کیے جا سکیں۔

کیا طیارے رن وے پر تھا جب یہ واقعہ ہوا؟

Image caption یہ وہ لیور ہے جو دروازے کو آرم یا ڈس آرم کرتا ہے۔ آرم کے وقت یہ لیور آٹومیٹک پر ہوتا ہے جبکہ مینول کی صورت میں لیور کارآمر نہیں ہوتا اور دروازہ قوت لگا کر کھولنا پڑتا ہے۔

دوسرا اہم سوال جو غلط رپورٹ کے نتیجے میں سامنے آیا وہ یہ کہ طیارے رن وے پر تھا۔ ایک اخبار نے لکھا کہ طیارے رن وے پر پارک کیا ہوا تھا۔

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ رن وے طیاروں کی پرواز اور اترنے کے لیے ہوتے ہیں اور کبھی بھی کوئی بھی ایئرپورٹ طیارے کو چند لمحے سے زیادہ رکنے کی اجازت نہیں دیتا۔ کیونکہ ہوابازی کا اصول ہے کہ ایک وقت میں رن پر صرف ایک طیارہ ہو گا۔ تو پارکنگ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اس صورتحال میں طیارہ رن وے پر نہیں بلکہ گیٹ پر تھا۔ گیٹ پر ہی دروازہ آرم کیا گیا اور طیارہ پرواز کے لیے رن وے کی جانب جانے ہی والا تھا جب یہ واقعہ ہوا۔

آخر پی آئی اے نے صرف چالیس مسافروں کو کیوں اتارا؟

Image caption یہ پی آئی اے کے اس طیارے کے دروازے کی تصویر ہے جس کی ہنگامی سلائیڈ مسافر نے غلطی سے کھول دی تھی۔ اس تصویر میں آپ دیکھ سکتے ہیں اس سلینڈر کو جو دروازے کے آرمڈ ہونے کی صورت میں صرف دس فیصد پریشر لگانے پر دروازے کو کھولتا ہے۔ اس کے بغیر کھولنے پر اس سے زیادہ محنت اور کوشش کرنی پڑتی ہے۔

اب پی آئی اے نے اپنے بیان میں یہ بات بغیر کسی وضاحت کے ڈالی کہ چالیں مسافروں کو اتارا۔ اس پر فوری یہ سوال پیدا ہوا کہ کہ چار سو میں سے صرف چالیس مسافر کیوں اتارے گئے؟

اس کا جواب بھی ہوابازی کے قوانین میں موجود ہے کہ اگر طیارے کا کوئی ایمرجنسی یا ہنگامی راستہ بلاک ہو، بند ہو، کارآمد نہ ہو تو اس کے پیچھے کی تمام نشستوں پر مسافروں کو ایئرلائن نہیں بٹھا سکتی۔ اس کی سادہ وجہ یہ ہے کہ ہر طیارے کو دو منٹ میں خالی کرنے کا سیفٹی سرٹیفیکیٹ دیا جاتا ہے۔ یعنی ایک طیارے کو ہنگامی صورتحال میں دو منٹ کے اندر اندر خالی کرنا ہوتا ہے۔

اگر آپ نے گذشتہ دنوں روس میں ایک طیارے کو لینڈنگ کے دوران آگ لگتے دیکھا ہے تو آپ نے دیکھا ہو گا کہ ایک منٹ کے اندر اندر آگ کتنی پھیل گئی تھی اس لیے اہم ہے کہ طیارے میں ایسے نظام ہوں جو اسے جلد از جلد خالی کرنے میں معاون ہوں رکاوٹ نہ ہوں۔

تو اس ہنگامی سلائیڈ کے چالو ہونے کے بعد اسے واپس تہہ کرنا اور لگانا آسان نہیں اور یہ کام خصوصی طور پر تربیت یافتہ عملہ کرتا ہے۔ اس کے بعد اسے واپس لگایا جاتا ہے۔ چونکہ پی آئی اے کا انجنیئرنگ عملہ مانچسٹر میں نہیں تھا اس لیے اس کی سلائیڈ کو طیارے کے ساتھ یا اگلی پرواز پر کارگو میں لایا گیا اور طیارے کا ایک دروازہ ہنگامی سلائیڈ کے فعال نہ ہونے کی وجہ سے قانوناً مسافر لیجانے کے قابل نہیں تھا اس لیے اس دروازے کے ساتھ کی چالیس نشستوں پر مسافروں کو اتارا گیا اور انہیں بعد میں دوسری پرواز کے ذریعے بھجوایا گیا۔

اگر یہ واقعہ کراچی میں ہوتا تو شاید ان چالیس مسافروں کو اتارنے کی نوبت نہ آتی اور پی آئی اے کے انجنیئر اسے دو گھنٹے کے اندر لگا کر طیارے کو پرواز کے لیے بھجوا سکتے تھے۔

کیا اس میں عملے کی نااہلی کا عمل دخل ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Jonathan Plambo
Image caption ہی آئی اے کا طیارے جس کی رجسٹریشن AP-BHW ہے جس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا

جب طیارے کا دروازہ آرمڈ ہوتا ہے تو اس کے پاس لازمی کیبن کرو ہوتا ہے جو اس کی نگرانی کرتا ہے۔ اسی ناٹیکل میل کے بعد دروازہ لاک ہو جاتا ہے اور اسے پھر کھولنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس لیے نگرانی کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ اس وقت تک طیارے کا کیبن پریشرائز ہو چکا ہوتا ہے اور اندر اور باہر کا ہوا کا پریشر مختلف ہوتا ہے۔

اس معاملے میں یہ طیارے کا پچھلا دروازہ تھا یعنی کیبن کرو کی جگہ کے ساتھ بالکل پیچھے کو دو دروازے ہوتے ہیں ان میں سے ایک۔ ایسا کیا ہوا کہ مسافر نے دروازہ کھول لیا اور عملے کو پتا نہیں چلا جس نے اسے روکا نہیں؟ عملہ اس وقت کہاں تھا اور کیا کر رہا تھا؟

اس بارے میں جب ہم نے معلومات حاصل کیں تو دو قسم کے جواب ملے۔ ایک تو یہ کہ 'ہمارا عملہ اس معاملہ میں بہت غصیلہ ہوتا ہے وہ مسافر کو اپنی جگہ سے ہلنے نہیں دیتا خصوصاً اس قسم کی صورتحال میں۔'

دوسرا جواب یہ تھا کہ 'آپ نے بھی پی آئی اے پر سفر یا ہو گا اور دیکھا ہو گا کہ کتنے مسافر ایسے ہیں جو لینڈ کرنے سے پہلے کھڑے ہو کر اپنا سامان نکالنا شروع کر دیتے ہیں۔ آپ ان کو کیسے روکیں گے۔'

جس وقت یہ واقعہ ہوا اس وقت کیبن کرو حفاظتی ہدایات دے رہا تھا اور اپنے آخری کام نمٹا رہے تھے اور ان کی مکمل توجہ ہر مسافر پر نہیں رہ سکتی۔

جب یہ سوال پوچھا گیا کہ اب عملے اور اس مسافر کا کیا ہو گا تو جواب ملا ’سب مشکل میں ہیں اور تفتیش کے بعد فیصلہ ہو گا کہ ایئرلائن ان کے ساتھ کی کرتی ہے۔‘