بجٹ 2019: ’حماد اظہر کیا بولتے رہے، کسی کو سمجھ نہیں آئی‘

بجٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’میڈم بجٹ میں ہماری تنخواہ کا کیا بنا؟‘

میں قومی اسمبلی کی پریس گیلری سے باہر نکلی تو دروازے میں کھڑے سکیورٹی سٹاف نے پہلا سوال یہی کیا۔ پھر وہیں ایک اور اہلکار بھی آ گئے۔

میں نے اپنی نوٹ بُک نکالی اور انھیں یہ 'خوشخبری' سنائی کہ اگر وہ گریڈ ایک سے سولہ کے سرکاری ملازم ہیں تو ان کی تنخواہ میں دس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ دونوں اہلکاروں نے سکھ کا سانس لیا، اور پھر پوچھا کہ نئے ٹیکسز کون سے لگے ہیں؟ اچھا ہی ہوا کہ اس کا جواب میرے پاس نہیں تھا کیونکہ اس سوال کا جواب ان کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا تھا۔

ٹیکسز کی مد میں کتنا بوجھ عوام پر آیا ہے، بجٹ کا یہ حصہ پریس گیلری میں بیٹھا کوئی بھی صحافی نوٹ نہیں کر سکا تھا اور اس کی وجہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا شدید احتجاج تھا۔

اسمبلی میں اس قدر ہنگامہ آرائی تھی کہ بجٹ تقریر تو دُور کی بات، کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ خود عمران خان کی جماعت کا تخلیق کردہ نعرہ 'گو نواز گو' آج 'گو نیازی گو' میں تبدیل ہو کر ایوان میں گونج رہا تھا۔

اسمبلی کا اہم اجلاس شروع ہوا تو حکومتی بینچوں پر اراکین پہلے سے ہی موجود تھے۔ کچھ ہی لمحوں میں وزیر اعظم عمران خان بھی ایوان پہنچ گئے۔

مزید پڑھیے

بجٹ 2019: اب کون کتنا انکم ٹیکس دے گا؟

پاکستانی کون کون سے ٹیکس دیتے ہیں؟

حکومتی بینچوں کی پہلی قطار میں عمران خان کے ساتھ شاہ محمود قریشی، اسد عمر، حماد اظہر اور حفیظ شیخ براجمان تھے۔ تلاوت کے بعد بجٹ تقریر کا آغاز ہوا تو حزب اختلاف کے بینچز خالی ہی رہے۔

حماد اظہر نے بجٹ تقریر جاری رکھی اور اس طرح مزید کچھ وقت گزر گیا۔ پریس گیلری میں موجود صحافیوں میں اب یہ چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں کہ کہیں اپوزیشن اجلاس کا مکمل بائیکاٹ تو نہیں کر رہی؟

تاہم کچھ دیر بعد مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اراکین بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھے اسمبلی ہال میں داخل ہو گئے۔ پھر قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی ایوان میں آ گئے۔

یوں تو حالات نارمل ہی رہے۔ کبھی کبھی جب حماد اظہر تقریر کے دوران سانس کا وقفہ لیتے تو ہال کے کونے سے پیپلز پارٹی کے ایک رکن اسمبلی با آواز بلند نعرہ لگاتے 'آئی ایم ایف نامنظور۔'

پاکستان تحریک انصاف کے اراکین کن اکھیوں سے ان کی جانب دیکھتے اور پھر ہال میں خاموشی چھا جاتی۔

غریب اور مستحق خاندانوں کے لیے ریلیف اور بغیر سود قرضوں کی فراہمی کے اعلان پر کسی خاتون رکن کی آواز آئی، 'ارے، اِس بجٹ میں نیا کیا ہے؟'

مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی نے کچھ دیر بعد حزب اختلاف کے کارکنوں میں ہاتھ سے لکھے بینرز بانٹنے شروع کر دیے۔ ان بینرز پر طرح طرح کے نعرے درج تھے۔ کچھ اراکین یہ بینرز لے کر کھڑے تو ہو گئے تاہم انھیں شاید اپنے قائدین کی طرف سے گرین سگنل کا انتظار تھا، اسی لیے اسمبلی میں خاموشی رہی اور بجٹ تقریر جاری رہی۔

گیلری میں بیٹھے صحافیوں نے ایک اور منظر بھی دیکھا، جب بجٹ تقریر میں کراچی کی ترقی کے لیے آئندہ مالی سال میں مختص کیے گئے فنڈز کا ذکر آیا۔

حماد اظہر نے بھی شاید اپنے الفاظ پر کچھ زیادہ ہی زور دیا تھا کہ ہر کسی نے محسوس کیا۔ انھوں نے جب یہ کہا کہ وفاق کی جانب سے کراچی کے نو منصوبوں کے لیے 39 ارب روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے تو حکومتی اراکین نے بینچ بجانے شروع کیے اور پیپلز پارٹی کے اراکین کی جانب 'شیم شیم' کے نعرے لگائے۔

پیپلز پارٹی نے جوابی نعرے بازی تو کی لیکن اس دوران بلاول بھٹو زرداری مسلسل ہنستے رہے۔

ہال میں آخر ہنگامہ آرائی اس وقت شروع ہوئی جب بجٹ تقریر میں 'منی لانڈرنگ' کا لفظ آیا۔ حماد اظہر نے کہا، 'منی لانڈرنگ ایک لعنت ہے، اس سے ملک کی بدنامی اور معیشت تباہ ہوتی ہے۔'

ان تین جملوں کی تکمیل تک شدید نعرے بازی کا آغاز ہو چکا تھا۔ حکومتی اراکین نے بھی ڈیسک بجا کر اپوزیشن کے خلاف 'ٹیکس چور' کے نعرے لگائے۔

جب بجٹ تقریر میں بات ٹیکسز تک آئی تو اپوزیشن اراکین سپیکر کے ڈائس کے سامنے پہنچ چکے تھے۔ اس دوران حکومتی جماعت سے شہریار آفریدی، علی امین گنڈاپور، مراد سعید اور کئی دیگر اراکین اسمبلی اپنی نشستوں سے اٹھ کر عمران خان کی نشست کی جانب ایک حصار بنا کر کھڑے ہو گئے تاکہ اپوزیشن اراکین ان تک نہ پہنچ سکیں۔ لیکن اس حصار کے باوجود مسلم لیگ ن کی ایک رکن اسمبلی نے بجٹ تقریر پھاڑ کر وزیر اعظم پر پھینک دی۔

اپوزیشن اراکین نے ہاتھوں میں بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر 'آئی ایم ایف بجٹ نامنظور، گو نیازی گو، ایسی تبدیلی نامنظور، غریب عوام پر ظلم بند کرو‘، وغیرہ جیسے نعرے درج تھے۔

اپوزیشن اراکین نے عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو خاص طور پر نشانہ بنایا اور 'ٹیکس چور' کے نعرے لگائے۔ اس اسمبلی ہال میں جہاں گذشتہ چند برسوں تک 'گو نواز گو' کا نعرہ گونجتا تھا، آج وہاں 'گو نیازی گو' کی بازگشت سنائی دی۔

عمران خان اس وقت ذومعنی انداز میں ہنس رہے تھے جب ایک اپوزیشن ممبر اسمبلی نے بلند آواز میں نعرہ لگایا۔۔۔ ' مُک گیا تیرا شو نیازی، گو نیازی گو نیازی۔'

اس دوران عمران خان کبھی اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی پر مسکراتے، کبھی دیگر اراکین سے مشاورت کرتے نظر آئے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ہر رکن ہی اس احتجاج سے متعلق کوئی نہ کوئی مشورہ دے رہا ہے لیکن بجٹ تقریر جاری رہی۔

کچھ حکومتی ارکان تو دو بار حماد اظہر کے سامنے موجود تقریر کے صفحے دیکھنے بھی آئے کہ ابھی کتنے باقی ہیں؟

حماد اظہر شور شرابے کے آغاز میں تو کچھ پریشان دکھائی دیے، لیکن پھر اسد عمر اور مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے انھیں تقریر جاری رکھنے کا مشورہ دیا۔ انھوں نے ہیڈ فونز لگائے اور بولتے چلے گئے۔ وہ کیا بولتے رہے یہ کسی کو سمجھ نہیں آئی۔ نہ اپوزیشن کو کچھ سنائی دیا نہ حکومتی اراکین کو اور نہ ہی پریس گیلری میں بیٹھے صحافیوں کو۔

شاید اسی لیے میں پریس گیلری سے نکلی تو سکیورٹی سٹاف اپنی تنخواہوں میں اضافے کا سوال لیے سامنے کھڑے تھے۔

مگر داد دینی پڑے گی ان حزب اختلاف کے اراکین کو جنھوں نے بجٹ تقریر تو نہیں سنی لیکن اجلاس ختم ہوتے ہی باہر آ کر میڈیا کے سامنے پورے کے پورے بجٹ کو عوام دشمن قرار دے دیا۔ ارے بھائی بجٹ تقریر سُن تو لیتے!

اسی بارے میں