سنگین غداری کیس: سابق فوجی صدر پرویز مشرف کا حقِ دفاع مسلسل غیر حاضری پر ختم

سنگین غداری کیس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گذشتہ سال مارچ میں خصوصی عدالت نے وزارت داخلہ کو حکم دیا تھا کہ وہ مشرف کو گرفتار کر کے خصوصی عدالت کے سامنے پیش کرے

پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے سابق فوجی صدر کا دفاع کا حق ختم کرتے ہوئے اُن کے وکیل سے کہا ہے کہ اب وہ ان کا دفاع نہیں کر سکتے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے مشرف کے مسلسل غیر حاضر رہنے پر ان کا دفاع کا حق ختم کیا ہے۔ پرویز مشرف گزشتہ تقریباً ڈھائی برس سے دبئی میں رہ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پرویز مشرف واپس نہیں آئے، نااہلی کا فیصلہ برقرار

پرویز مشرف کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک

پرویز مشرف کا بیان سکائپ پر ریکارڈ کرنے کا حکم

پرویز مشرف کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے رابطے کا حکم

اب خصوصی عدالت پرویز مشرف کی عدم موجودگی میں آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کرے گی۔

سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز نے پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ درج کیا تھا۔ یہ مقدمہ ملزم پرویز مشرف پر آرمی چیف کی حیثیت سے تین نومبر سنہ 2007 کو ملک کا آئین معطل کر کے ایمرجنسی لگانے کے اقدام پر درج کیا گیا تھا۔

سنہ 2014 میں ان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ اگر مشرف پر بغاوت کا الزام ثابت ہو جائے تو انھیں پھانسی یا عمر قید ہو سکتی ہے۔

پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی سمیت چار مقدمات ہیں جس میں مختلف عدالتوں نے اُنھیں نہ صرف اشتہاری قرار دیا ہوا ہے بلکہ ان کی جائیداد کی قرقی کے احکامات بھی جاری کر رکھے ہیں۔

اپنے وکیل کے ذریعے سابق فوجی صدر نے اس شرط پر وطن واپس آنے پر رضامندی ظاہر کی تھی کہ سپریم کورٹ اُن کے خلاف درج ہونے والے تمام مقدمات میں ضمانت دے۔

بلوچستان ہائی کورٹ کی چیف جسٹس طاہرہ صفدر کی سربراہی میں خصوصی عدالت نے اب وزارت قانون سے وکلا کے نام مانگے ہیں جن میں سے کسی ایک وکیل کا انتخاب کیا جائے گا جو کہ اس مقدمے میں عدالت کی معاونت کرے گا۔

خصوصی عدالت نے 12 جون کو ملزم پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کی تو ملزم کے وکیل نے التوا کی ایک اور درخواست دائر کر دی۔ پرویز مشرف کے وکیل نے اس درخواست میں موقف اپنایا کہ بار بار التوا کی درخواست پر اُنھیں شرمندگی ہوتی ہے تاہم ان کے موکل زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور وہ ذہنی اورجسمانی طور پر وطن واپس آنے کے قابل نہیں ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ سابق فوجی صدر پیدل نہیں چل سکتے اور وہیل چیئر پر ہیں جس پر جسٹس طاہرہ صفدر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم جاری کر رکھا ہے کہ اس مقدمے کا جلد از جلد فیصلہ کیا جائے ۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مشرف کے وکیل کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ جو اس مقدمے میں درخواست گزار ہے نے خود ان کو باہر بھیجا اور آج وہ خود ملزم کی بیماری کو نہیں مان رہے

اس مقدمے کے وکیل استغاثہ ڈاکٹر طارق حسن نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے پرویز مشرف کو ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کروانے کا موقع دیا لیکن اُنھوں نے اس پیشکش کا فائدہ نہیں اُٹھایا۔

دلائل سننے کے بعد عدالت نے ملزم کے مقدمے کی التوا کی درخواست کو مسترد کر دیا۔

اس کے علاوہ عدالت نے ملزم کے وکیل کی طرف سے بریت کی درخواست کو بھی مسترد کر دیا اور کہا کہ جب ملزم عدالت میں پیش ہی نہیں ہو رہا تو ایسے موقع پر بریت کی درخواست کیسے قابل سماعت قرار دی جا سکتی ہے۔

اس کے بعد عدالت نے سابق فوجی صدر کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت 27 جون تک ملتوی کر دی۔

سماعت کے بعد مشرف کے وکیل سلمان صفدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے میڈیکل رپورٹ فوٹو گراف ثبوت لگا کر عدالت میں پیش کی ہے تاکہ ججوں کو پرویز مشرف کی صحت کی صورتحال کا اندازہ ہو سکے۔‘

ان کے مطابق ’پرویز مشرف مقدمہ درج ہونے کے بعد دو تین سال تک پاکستان میں رہے لیکن اس دوران ٹرائل مکمل نہیں کیا گیا۔‘

اُنھوں نے کہا کہ ’اس مقدمے کا چھوٹا سا ٹرائل تھا اگر یہ مشرف کی موجودگی میں مکمل ہوتا تو بہت ہی مناسب ہوتا۔‘

مشرف کے وکیل کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ نے، جو اس مقدمے میں درخواست گزار ہے، خود ان کو باہر بھیجا اور آج وہ خود ملزم کی بیماری کو نہیں مان رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گزشتہ اکتوبر میں خصوصی عدالت نے مشرف کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ کیا تھا

یاد رہے کہ گذشتہ سال مارچ میں خصوصی عدالت نے وزارت داخلہ کو حکم دیا تھا کہ وہ ملزم کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے رابطہ کرے اور انھیں گرفتار کر کے خصوصی عدالت کے سامنے پیش کرے۔

اس کے بعد گزشتہ اکتوبر میں ہی خصوصی عدالت نے مشرف کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ سنا دیا۔

مشرف کے وکیل کا کہنا تھا کہ کہ مشرف ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کروانے کو تیار نہیں ہیں۔

وکیل استغاثہ کا کہنا تھا کہ ملزم پرویز مشرف کو بارہا عدالت میں پیش ہونے کے مواقع فراہم کیے گئے لیکن اُنھوں نے اس کا فائدہ نہیں اُٹھایا۔

مئی 2016 میں عدالت نے جنرل مشرف کو مفرور قرار دے کر وفاقی تحقیقاتی ادارے، ایف آئی اے، کو انھیں 12 جولائی 2016 کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ جنرل مشرف نے کہا تھا کہ وہ فوج کی حفاظت اور اس یقین دہانی کے ساتھ عدالت میں پیش ہونے کو تیار ہیں کہ انھیں دبئی واپس جانے دیا جائے گا۔

سپریم کورٹ کے اُس وقت کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ 'اتنا بڑا کمانڈو وطن واپس آنے سے کیوں خوف زدہ ہے۔'

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور میں ہی سپریم کورٹ کے حکم پر وزارت داخلہ نے پرویز مشرف کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بحال کر دیا تھا لیکن اس کے باوجود مشرف وطن واپس نہیں آئے۔

اسی بارے میں