خیبر پختونخواہ میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع میں اٹھارہ دنوں کےلیے الیکشن موخر

انتخابات متلوی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مختلف سیاسی جماعتوں نے حکومت کی طرف سے ضم شدہ اضلاع میں سکیورٹی کے نام انتخابات ملتوی کرانے کے فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے قبائل کے خلاف سازش سے تعبیر کیا ہے

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونحوا حکومت کی درخواست منظور کرتے ہوئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں دو جولائی کو ہونے والے صوبائی اسمبلی کے انتخابات اٹھارہ دنوں کےلیے مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

ضم شدہ اضلاع کے 16 حلقوں کے لیے ہونے والے یہ انتخابات دو جولائی کی بجائے اب 20 جولائی کو منعقد ہونگے۔

اس بات کا فیصلہ بدھ کو اسلام آباد میں چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا خان کی سربراہی میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا جس میں خیبر پختونخوا کے سیکریٹری داخلہ اور دیگر اعلی حکام نے بھی شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیے

قبائلی اضلاع میں انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست

قبائلی علاقوں میں انتخابات:’اب ہر قبائلی کو آزادی حاصل‘

خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں پولیس کی مخالفت کیوں؟

الیکشن کمیشن کے ترجمان ندیم قاسم نے رابطہ کرنے پر بی بی سی کو بتایا کہ کمیشن نے خیبر پختونخوا حکومت کی درخواست منظور کرتے ہوئے اٹھارہ دنوں کے لیے ضم شدہ اضلاع میں انتخابات ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون کے مطابق کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت کی طرف سے تین جون کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ایک خط لکھا گیا تھا جس میں سکیورٹی کے خدشات کے باعث قبائلی اضلاع میں دو جولائی کو ہونے والے انتخابات 20 دنوں تک ملتوی کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

محکمۂ داخلہ و قبائلی امور خیبر پختونخوا کی طرف سے لکھے جانے والے خط میں پانچ وجوہات بتائی گئی ہیں جن میں سرحد پار سے دہشت گردی کے خطرات، سیاسی رہنماؤں کو ممکنہ طورپر حملوں میں نشانہ بنانا، شمالی وزیرستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ، ضم شدہ اضلاع کی لیوی فورس کا غیر تربیت یافتہ ہونا اور ان کی کمانڈ ڈپٹی کمشنرز سے ضلعی پولیس افسروں کو دینے کے عمل کے ساتھ ساتھ انضمام کے عمل میں پیچیدگیاں شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ KPK Govt
Image caption خیبر پختونخوا کی حکومت کی طرف سے تین جون کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ایک خط لکھا گیا تھا جس میں انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست کی گئی

دریں اثناء مختلف سیاسی جماعتوں نے حکومت کی طرف سے ضم شدہ اضلاع میں سکیورٹی کے نام انتخابات ملتوی کرانے کے فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے قبائل کے خلاف 'سازش' سے تعبیر کیا ہے۔

پی کے 101 باجوڑ سے عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار حاجی لعلی خان پختون یار نے بی بی سی کو بتایا کہ تحریک انصاف کی حکومت کو ہر طرف شکست نظر آرہی ہے اسی وجہ سے وہ انتخابات سے راہ فرار اختیار کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اس کی کیا ضمانت ہے کہ اٹھارہ دن کے بعد قبائل میں اچانک امن و امان کی حالات بہتر ہوکر وہاں پرامن انتخابات کا انعقاد ممکن بنایا جائے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ضم شدہ اضلاع کے 16 حلقوں کے لیے ہونے والے یہ انتخابات دو جولائی کی بجائے اب 20 جولائی کو منعقد ہونگے

انہوں نے کہا کہ قبائل ستر سال سے اپنی محرومیوں کا رونا رو رہے ہے اور یہ پہلی دفعہ قبائل کو صوبائی اسمبلی کے لیے اپنے نمائندوں منتخب کرنے کا ایک موقع ملا تھا لیکن بد قسمتی اسے بھی حکومت کی طرف سے تنازعے کی نذر کردیا گیا۔ ان کے مطابق ’ہمیں یقین نہیں آرہا ہے کہ یہ انتخابات مقررہ وقت پر منعقد ہوجائیں گے کیونکہ غالب امکان ہے کہ پھر سے کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈ کر اسے ملتوی کرایا جائے گا۔‘

گذشتہ روز مہمند اور شمالی وزیرستان سے انتخابات میں حصہ لینے متعدد امیدواروں نے امن و امان کے نام پر ضم شدہ اضلاع میں انتخابات کے التوا کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہوئے اسے حکومت کا ' دھاندلی' کا ایک منصوبہ قرار دیا تھا۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 25 ویں آئینی ترمیم کے بعد ضم ہونے والے قبائلی اضلاع میں پہلی مرتبہ صوبائی اسمبلی کے انتخابات دو جولائی کو منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق یہ انتخابات سات قبائلی اضلاع اور ایف آر ریجن سے صوبائی اسمبلی کی 16 نشستوں پر منعقد ہونا تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption محکمۂ داخلہ و قبائلی امور خیبر پختونخوا کی طرف سے لکھے جانے والے خط میں پانچ وجوہات بتائی گئی ہیں

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ماہ پشتون تحفظ موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کی طرف سے ضم شدہ اضلاع کے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے کے لیے ایک آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی سے بھاری اکثریت سے منظور ہونے کے بعد مزید کارروائی کے لیے ایوان بالا بھیج دیا گیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ بل ایوان بالا سے منظورہو جاتا ہے تو اس صورت میں ضم شدہ اضلاع میں نئے سرے سے حلقہ بندیاں کی جائیں گی اور ایسی صورت میں وہاں صوبائی اسمبلی کے انتخابات مزید تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں۔ تاہم ابھی تک یہ بل ایوان بالا میں ایجنڈے پر نہیں آیا ہے۔

اسی بارے میں