ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین لندن میں چوبیس گھنٹوں کی حراست کے بعد ضمانت پر رہا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین نے پولیس کے ساتھ تفتیش میں تعاون کا وعدہ کیا ہے۔

ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کو چوبیس گھنٹوں کی حراست کے بعد سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس ضمانت پر رہا کر رہی ہے۔

ایم کیو ایم کے ذرائع کے مطابق، برطانیہ کی کراؤن پراسیکیوشن سروس (سی پی ایس) نے پولیس سے کہا ہے کہ معاملے کی تفتیش جاری رکھی جائے اور مزید چھان بین کے بعد یہ کیس دوبارہ انھیں بھیجا جائے۔

لندن میٹروپولیٹن پولیس نے جسے عرفِ عام میں سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس بھی کہتے ہیں، الطاف حسین کو گزشتہ روز ان کی شمالی لندن کی رہائش گاہ سے تشدد پر اکسانے کے قانون کے تحت گرفتار کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیئے

ایک پپی اِدھر ایک پپی اُدھر

’ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین لندن میں گرفتار‘

ایم کیو ایم لندن کے ڈپٹی کنوینر کی لاش کراچی سے برآمد

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
الطاف حسین کے خلاف الزامات واپس لیے جانے میں سیاسی عوامل کار فرما ہو سکتے ہیں

ایم کیو ایم کے ایک ترجمان مصطفیٰ عزیزآبادی نے کچھ دیر پہلے بتایا کہ ایم کیو ایم کو پولیس نے باقاعدہ مطلع کیا ہے کہ وہ الطاف حسین کو رہا کر رہے ہیں۔

ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین نے پولیس کے ساتھ تفتیش میں تعاون کا وعدہ کیا ہے۔

گزشتہ روز ان کی گرفتاری کے بعد سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے پریس ریلیز میں کہا تھا کہ الطاف حسین کو تشدد پھیلانے والی تقریر کے الزام کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

انھیں سیرئیس کرائم ایکٹ، 2007 کی دفعہ 44 کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

الطاف حسین کو اس سے پہلے بھی حراست میں لیا گیا تھا جب ان پر منی لانڈرنگ کا الزام تھا۔ لیکن اس وقت ان کو قانونی طور پر گرفتار نہیں کیا گیا تھا بلکہ انھیں پوچھ گِچھ کے لیے طلب کیا گیا تھا۔

اپریل میں سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس کے دہشت گردی کے یونٹ کے افسران کے ایک یونٹ نے پاکستان کا دورہ بھی کیا تھا جہاں پاکستانی حکام نے ان سے تعاون کیا تھا۔

الطاف حسین پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنی تقریروں کے ذریعے پاکستان میں اپنے حامیوں کو تشدد پر اکسایا تھا۔ الطاف حسین کے حامی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

برطانیہ میں پولیس کسی بھی الزام کی فوجداری قانون کے مطابق تفتیش کرتی ہے اور شواہد جمع کرکے کراؤن پراسیکیوشن سروس کے پاس مقدمے کی فائل لے جاتی ہے۔

کراؤن پراسیکیوشن سروس مقدمے کی فائل دیکھ کر یہ طے کرتی ہے کہ آیا پولیس نے اتنے شواہد جمع کر لیے ہیں جن کی بدولت مقدمہ لڑا جا سکتا ہے۔

اس کے بعد اگر کراؤن پراسیکیوشن سروس یہ سمجھتی ہے کہ شواہد ناکافی ہیں تو وہ تفتیشی فائل پولیس کے واپس بھیج دیتی ہے۔

تاہم اگر یہ سروس محسوس کرے کہ اتنے شواہد موجود ہیں کہ عدالت میں مقدمہ لڑا جا سکتا ہے تو پھر معاملہ آگے بڑھ جاتا ہے اور مقدمہ عدالت میں چلتا ہے۔

اسی بارے میں