پی ٹی ایم کیس: ’ضابطہِ کار میں لکھا ہے ریاستی اداروں کے خلاف بات نہیں کی جاسکتی‘

پی ٹی ایم تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption درخواست گزار کرنل ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ پشتوں تحفظ موومنٹ کے کارکن ابھی بھی سوشل میڈیا پر فوج اور دیگر ریاستی اداروں کے خلاف ہرزا سرائی کر رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ایسے افراد کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جانی چاہیے جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ کام عدالت کا نہیں بلکہ حکومت کا ہے (فائل فوٹو)

پشتون تحفظ موومنٹ کی قیادت کے بیانات کی اشاعت پر پابندی اور سوشل میڈیا پر ان کے اکاؤنٹس بند کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا پر رات آٹھ سے بارہ بجے تک ٹی وی پر چلنے والا 80 فیصد مواد ضابطہِ اخلاق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ’ضابطہِ کار میں لکھا ہے کہ ریاستی اداروں کے خلاف بات نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی زیرِ سماعت مقدمات پر کوئی تبصرہ کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے باوجود ان چینلوں پرسب کچھ کیا جارہا ہے۔‘

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) اگر اپنے کوڈ آف کنڈکٹ پر عملدرآمد کرانا شروع کر دیں تو یہ مسئلے ختم ہی ہوجائیں۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ انٹرنیٹ تو ہر کوئی استعمال نہیں کرتا لیکن ٹی وی دیکھنے والے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پی ٹی ایم: ’آزادی اظہارِ رائے لامحدود نہیں ہے‘

پاکستان میں انسانی حقوق کی پوشیدہ خلاف ورزیاں

پی ٹی ایم کا موقف پاکستانی میڈیا سے غائب کیوں؟

درخواست گزار کرنل ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ پشتوں تحفظ موومنٹ کے کارکن ابھی بھی سوشل میڈیا پر فوج اور دیگر ریاستی اداروں کے خلاف ہرزا سرائی کر رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ایسے افراد کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جانی چاہیے جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ کام عدالت کا نہیں بلکہ حکومت کا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کے خلاف ہرزا سرائی کرنا انتہائی اہمیت کا معاملہ ہے اور یہ عدالت اس ضمن میں کوئی ڈائریکشن جاری کرے گی۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے انٹرنیٹ کے معاملات کی نگرانی کرنے والے اہلکار انصار احمد نے عدالت کو بتایا کہ بیرون ملک کے سوشل میڈیا ٹُولز کو پاکستان سے بند نہیں کیا جاسکتا۔

اُنھوں نے کہا کہ اس بارے میں فیس بک یا واٹس ایپ کی انتظامیہ سے رابطہ کرنے کے بعد ہی کچھ معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سماعت کے دوران پیمرا کا کوئی بھی اہلکار پیش نہ ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور آئندہ سماعت پر ڈائریکٹر جنرل آپریشن پیمرا کو ذاتی حثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے (فائل فوٹو)

سماعت کے دوران پیمرا کے کسی بھی اہلکار کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور آئندہ سماعت پر ڈائریکٹر جنرل آپریشن پیمرا کو ذاتی حثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا اور نیب جیسے اداروں سے تحریری جواب طلب کرنے کا مطلب یہی ہے کہ یہ معاملہ دو تین مہینے تک لٹک گیا۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کسی ایک فرد یا ادارے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ عوامی مفاد کا مقدمہ ہے۔

عدالت نے اس درخواست پر سماعت 30 جون تک ملتوی کر دی۔ جمعرات کے روز ہونے والی عدالتی کارروائی میں پشتون تحفظ موومٹ کے سربراہ منظور پشتون اور گلالئی اسماعیل کی طرف سے نہ کوئی پیش ہوا اور نہ ہی ان کی طرف سے کوئی تحریری جواب عدالت میں جمع کروایا گیا ہے۔

دوسری طرف سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پی ٹی ایم کے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کی الیکشن میں کامیابی کے خلاف اپیل پر اُنھیں نوٹس جاری کردیا ہے۔

حزب مخالف کی جماعت جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ کے امیدوار مفتی مصباح الدین نے محسن داوڑ کی کامیابی کو چیلنج کیا تھا۔

درخواست گزار کا موقف ہے کہ حلقہ این اے 48 میں خواتین کے ووٹ دس فیصد سے کم پول ہوئے ہیں اس لیے وہاں پر دوبارہ پولنگ کروائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسف زئی کے حلقے میں بھی دس فیصد سے کم ووٹ کاسٹ ہوئے تھے جس پر الیکشن کمیشن نے وہاں پر دوبارہ انتخابات کروانے کا حکم دیا تھا۔

اسی بارے میں