جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کون اور ان کے فیصلوں پر تنازعے کیا؟

جسٹس فائز عیسیٰ تصویر کے کاپی رائٹ Supreme Court of Pakistan

پاکستان کی سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پہلی بار تنازعے کا شکار نہیں ہوئے ہیں۔

جمعے کو سپریم جوڈیشل کونسل ان کے خلاف صدرِ پاکستان کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس کی سماعت کر رہی ہے لیکن ہائی کورٹ میں تعیناتی سے لے کر سپریم کورٹ تک انھیں کئی بار وکلا برادری اور اداروں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

جسٹس فائز عیسیٰ کو اعلی عدلیہ کا جج چیف جسٹس افتخار چوہدری کے دور میں بنایا گیا تھا۔

افتخار محمد چوہدری نے بھی کوئٹہ سے ہی عدالتی کریئر کا آغاز کیا تھا اور سپریم کورٹ میں کراچی میں بدامنی از خود نوٹس کیس میں قاضی فائز عیسیٰ سابق چیف جسٹس چوہدری افتخار کی عدالت میں معاونت کے لیے پیش ہوتے رہے تھے۔

مزید پڑھیے

جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کی سماعت، وکلا کا احتجاج

اپنے خلاف ریفرنس پر جسٹس فائز عیسیٰ کا صدر کے نام خط

جسٹس فائز عیسیٰ کی تقرری کے خلاف دائر درخواست خارج

جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس پر دھرنے کا اعلان

ازخود نوٹس کے سپریم کورٹ کے استحقاق پر بحث

جب عبوری آئینی حکم کے تحت حلف اٹھانے والے جج برخاست ہوئے تو بیرسٹر قاضی فائز عیسیٰ کو بلوچستان ہائی کورٹ کے جج کے طور پر تقرر کر دیا گیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جب بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے منصب پر فائز ہوئے تو بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل نے ان کی تعیناتی کے خلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی۔

اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ جسٹس عیسیٰ کی تعیناتی آئین کے خلاف ہے کیونکہ کسی کی بھی بطور جج تعیناتی کے لیے اعلیٰ عدالت میں دس سالہ پریکٹس کا تجربہ ہونا ضروری ہے جبکہ ان کی تعیناتی ایڈھاک بنیادوں پر ہوئی تھی مستقل بنیادوں پر نہیں۔ بعد میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس درخواست کو مسترد کردیا تھا۔

بلوچستان کے سیاسی گھرانے سے تعلق

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے آباؤ اجداد کا تعلق افغانستان کے علاقے قندھار سے تھا بعد میں وہ بلوچستان کے علاقے پشین میں آکر آباد ہوئے، ان کے دادا قاضی جلال الدین قلات ریاست کے وزیراعظم رہے جبکہ والد قاضی محمد عیسیٰ تحریک پاکستان کے سرگرم رہنما تھے۔

انھیں آل انڈیا مسلم لیگ بلوچستان کے پہلے صدر ہونے کا اعزاز حاصل تھا بعد میں جب پاکستان کے قیام کے لیے ریفرنڈم ہوا تو انہوں نے اس میں بھرپور تحریک چلائی۔

امریکہ اور انڈیا میں پاکستان کے سابق سفیر اور اقوام متحدہ میں مندوب جہانگیر اشرف قاضی ان کے کزن ہیں جبکہ مرحوم بلوچ قوم پرست رہنما نواب خیر بخش مری سے بھی ان کی قریبی رشتے داری تھی۔

قاضی فائز عیسیٰ 26 اکتوبر 1959 کو کوئٹہ میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم بھی وہیں سے حاصل کی۔ بعد میں کراچی گرامر سکول سے اے لیول کرنے کے بعد وہ قانون کی تعلیم حاصل کرنے لندن چلے گئے جہاں سے 1985 میں واپس آئے اور بلوچستان ہائی کورٹ کے وکیل کے طور پر کریئر شروع کیا۔

سیاست سے دور وکالت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بطور وکیل وہ بلوچستان ہائی کورٹ کے علاوہ سندھ ہائی کورٹ، سپریم کورٹ اور شریعت کورٹ میں پیش ہوتے رہے جبکہ متعدد بار عدالت میں بطور معاونت و مددگار بھی طلب کیے گئے۔ وہ بلوچستان اور سندھ ہائی کورٹ کے علاوہ سپریم کورٹ بار کے رکن تو رہے لیکن بار کی سرگرم سیاست نہیں کی۔

قاضی فائز عیسیٰ مفادات عامہ کی آئینی درخواستیں بھی دائر کرتے رہے جبکہ بینکنگ، ماحولیات اور سول قوانین میں ان کی مہارت ہے۔ وہ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے منصوبوں پر قانونی معاون رہے ہیں۔ ان منصوبوں میں کراچی ماس ٹرانزٹ، ہائی وے فنانسنگ اینڈ آپریشن، بلوچستان گراؤنڈ واٹر ریسورسز شامل ہیں۔

بلوچستان ہائی کورٹ میں بطور جج تعیناتی سے قبل وہ انگریزی اخبارات میں آئین و قانون، تاریخ اور ماحولیات پر تجزیاتی آرٹیکلز بھی لکھتے تھے۔ اس کے علاوہ 'ماس میڈیا لاز اینڈ ریگولیشن کے مشترکہ مصنف، بلوچستان کیس اینڈ ڈیمانڈ ' کے بھی لکھاری ہیں۔

حکومت اور اداروں پر تنقید

سپریم کورٹ نے جب 2016 کے کوئٹہ سول ہسپتال خودکش حملے کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کیا تو اس کی سربراہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو دی گئی تھی۔ اس کمیشن نے اپنی رپورٹ میں سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے اور ساتھ میں کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا تھا۔

کمیشن نے نیشنل ایکشن پلان کو مناسب طریقے سے ترتیب دینے کی ضرورت پر زور دینے کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی کے ادارے نیکٹا کی ناقص کارکردگی پر تنقید کی تھی۔

جسٹس عیسیٰ کی سربراہی میں قائم اس کمیشن نے اس وقت کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار سے کالعدم تنظیم اہل سنت و الجماعت کے سربراہ علامہ یوسف لدھیانوی سے ملاقات پر بھی سوال اٹھایا تھا۔

چوہدری نثار نے الزامات کو ذاتی قرار دیا تھا جبکہ حکومت نے کمیشن کی رپورٹ پر نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

Image caption جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو پہلے نوٹیفکیشن میں بلوچستان ہائی کورٹ کا جج اور پھر اسی وقت اُنھیں بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کردیا گیا تھا

فوجی عدالتوں کے قیام کی مخالفت

سپریم کورٹ کی فل کورٹ نے جب 2015 میں چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں فوجی عدالتوں کے قیام کے حق میں فیصلہ دیا تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ان چھ ججوں میں شامل تھے جنھوں نے فوجی عدالتوں کی مخالفت کی تھی۔

ان ججوں کا موقف تھا کہ ان عدالتوں کا قیام عدلیہ کی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے تاہم مسلم لیگ ن کی حکومت نے اس فیصلے کو قوم کی فتح قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ان عدالتوں کی مدد سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔

از خود نوٹس پر اعتراض

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بعد سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے سب سے زیادہ از خود نوٹس لیے اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس کارروائی پر بھی اعتراض کیا تھا۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کے ہمراہ پشاور میں آرمی پبلک سکول حملہ کیس کی از خود نوٹس کی سماعت کے دوران انھوں نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے ہیومن رائٹس سیل کے پاس براہ راست کوئی اختیار نہیں کہ درخواست کو از خود نوٹس میں تبدیل کیا جائے۔

انھوں نے اعتراض کیا کہ آرٹیکل 184 تھری کے تحت پہلے سپریم کورٹ کا آرڈر ضروری ہے۔

اسی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے اچانک عدالت برخاست کر دی تھی اور کچھ دیر بعد جب عدالت دوبارہ لگی تو بینچ میں جسٹس قاضی فائز عیسی شامل نہیں تھے۔

فوجی قیادت کو کارروائی کا حکم

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں تحریک لبیک پاکستان کے دھرنے کے خلاف از خود نوٹس کیس میں جسٹس عیسیٰ کے فیصلے نے سول اداروں کے ساتھ عسکری اداروں کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تحریکِ لبیک نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد انٹرچینج پر انتخابی حلف نامے میں ختم نبوت کے حوالے سے متنازع ترمیم کے خلاف نومبر 2017 میں دھرنا دیا تھا جس کا اختتام وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کے بعد ہوا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں آرمی چیف، اور بحری اور فضائی افواج کے سربراہان کو وزارتِ دفاع کے توسط سے حکم دیا کہ وہ فوج کے ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کریں جنھوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی سیاسی جماعت یا گروہ کی حمایت کی۔'

عدالت نے آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلیجنس اور انٹیلیجنس بیورو کے علاوہ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کو بھی ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے کام کریں۔

پاکستان کی وکلا برادری تقسیم

فیض آباد دھرنے کے فیصلے پر جسٹس قاضی فائز عیسٰ کی حمایت اور مخالفت پر وکلا برداری تقسیم ہوئی۔ اس فیصلے پر پنجاب بار کونسل نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی برطرفی کا مطالبہ بھی کیا۔

پنجاب بار کونسل نے الزام عائد کیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے قانون کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

بارکونسل کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے فوج اور آئی ایس آئی کے اس عظیم کردار کی تعریف کرنے کے بجائے قومی سلامتی کے محافظ اداروں کو بغیر کسی ثبوت کے مورد الزام ٹھہرا کر ملک دشمن قوتوں کو پاکستان کی دفاعی ایجنسیوں کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

پنجاب بار کونسل کے مطالبے کی سندھ بارکونسل، ہائی کورٹ بار، کراچی اور ملیر بار نے مذمت کی اور جسٹس قاضی فائز عیسی کے حق میں قرار داد منظور کی۔

پاکستان بار کونسل نے بھی پنجاب بار کونسل کے مطالبے کو مسترد کیا اور قرار دیا کہ کسی ادارے کو عدلیہ کی آزادی پر شب خون مانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ملک کے نامور وکلا رہنما اور سابق جج جسٹس رشید اے رضوی کا کہنا ہے کہ اگر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو فارغ کیا گیا تو 2007 سے بھی بڑی تحریک چلائی جائے گی۔ یاد رہے کہ وہ تحریک جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے لیے چلائی گئی تھی۔

اسی بارے میں