جسٹس فائز عیسیٰ کے ریفرنس کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل نے نام لیے بغیر تمام زیرالتوا ریفرنسز کی تعداد بتا دی

وکلا احتجاج
Image caption وکلا نے سپریم کورٹ کے مرکزی دروازے کے سامنے کرسیاں لگا کر اسے بند کر دیا

سپریم جوڈیشل کونسل نے ہفتے کو زیر التوا ریفرنسز پر پہلی بار وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کونسل کے سامنے زیر التوا ریفرنسز کی تعداد سے متعلق کی جانے والی قیاس آرائیاں درست نہیں ہیں۔

رجسٹرار سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے 426 شکایات اور ریفرنسز پر کارروائی کی ہے۔ 'کونسل نے 398 ریفرنسز نمٹا دیے ہیں جبکہ دو صدارتی ریفرنسز سمیت ابھی 28 زیر التوا ہیں۔'

قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا تھا، جس پر جمعے کو پہلی سماعت ہوئی۔ تاہم اس سماعت سے متعلق تفصیلی احوال ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔ رجسٹرار سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کردہ وضاحت کے مطابق زیر التوا ریفرنسز پر کارروائی جاری ہے، جنھیں مناسب وقت کے اندر نمٹا دیا جائے گا۔

اسلام آباد میں سپریم جوڈیشل کونسل نے جمعے کو سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کریم خان آغا کے خلاف صدارتی ریفرنسوں کی سماعت شروع کر دی ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی کونسل نے ان ریفرنسوں کی سماعت کی۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے دیگر ارکان میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس گلزار احمد کے علاوہ پشاور اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان شامل ہیں۔

ان ریفرنسوں پر سپریم جوڈیشل کونسل کی یہ پہلی کارروائی ہے جو کہ ان کیمرہ تھی۔ اجلاس ختم ہونے کے بعد کونسل کی جانب سے پہلی بار وضاحت سامنے آئی ہے جس میں اس کی کارکردگی اور زیر التوا ریفرنسز کی تعداد کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اپنے خلاف ریفرنس پر جسٹس فائز عیسیٰ کا صدر کے نام خط

فیض آباد دھرنا کیس: ’پاکستان کسی فوجی نے نہیں بنایا‘

جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس میں ان پر بیرون ملک اثاثوں کو انکم ٹیکس کے گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ صدر کی طرف سے بھجوائے گئے اس ریفرنس میں جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

اس ریفرینس کی خبریں میڈیا میں سامنے آنے کے بعد جسٹس فائز عیسیٰ نے صدرِ مملکت کو دو خط بھی تحریر کیے تھے جن میں ان سے تفصیلات مانگی تھیں۔

اس کے علاوہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بھی جسٹس عیسیٰ کے خلاف ریفرینس کے بارے میں سوال پر لندن میں کہا تھا کہ ’جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو حکومت نہیں ہٹا سکتی، یہ جوڈیشل کونسل کا معاملہ ہے، عدلیہ پر اعتماد کریں، انصاف ہو گا۔‘

ملک بھر میں وکلا احتجاج

جسٹس فائز اور جسٹس آغا کے خلاف ریفرنس بھیجے جانے پر جمعے کو ہی پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے کال پر پورے ملک میں ہڑتال کی جاری ہے تاہم اس ہڑتال پر وکلا کی رائے منقسم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SUPREME COURT OF PAKISTAN

نامہ نگار کے مطابق جمعے کی صبح سے ہی اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے احاطے میں وکلا کی ایک قابل ذکر تعداد موجود رہی جبکہ ایک گروپ نے سپریم کورٹ کے مرکزی دروازے کے سامنے کرسیاں لگا کر اسے بند کر دیا۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے دیگر وکلا رہنماؤں کے ساتھ اعلیٰ عدلیہ کے دو ججز کے خلاف ریفرنس کو ایک علامتی ریفرنس بنا کر نذر آتش کیا۔ ان وکلا کا کہنا ہے کہ قاضی فائز عیسی کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔

اس بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وکیل رہنما علی احمد کرد کا کہنا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس دراصل اعلی عدلیہ کے دیگر جج صاحبان کے لیے پیغام ہے کہ اگر اُنھوں نے آزادانہ فیصلے کرنے کی کوشش کی تو ان کا انجام بھی ایسا ہی ہوگا۔

اُنھوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی متعدد وکلا کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں پڑے ہوئے ہیں جنھیں ابھی تک سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا گیا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ مقامی میڈیا پر وکلا کی منتخب کمیٹیوں کے رہنماؤں کی پریس کانفرنس کو کوریج نہیں دی جارہی جبکہ اس ہڑتال کے مخالف وکلا کی پریس کانفرنس دکھائی جا رہی ہے۔

سپریم کورٹ کے باہر کوریج کے لیے آنے والے متعدد نجی ٹی وی چینلز کے عملے کا کہنا ہے کہ اُنھیں اپنے دفاتر سے یہ ہدایات ملی ہیں کہ وہ صرف وکلا کی سرگرمیوں کو ریکارڈ کریں انھیں لائیو دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔

اسلام آباد کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی وکلا نے ریفرنسوں کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

کوئٹہ سے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق وکلا نے ضلع کچہری سے ایک ریلی نکالی جس کے شرکا زرغون روڈ سے ہوتے ہوئے بلوچستان ہائیکورٹ پہنچے جہاں انھوں نے مظاہرہ کیا اور ریفرینس کے خلاف نعرے بازی کی ۔

Image caption کوئٹہ میں وکلا نے جسٹس فائز عیسیٰ ریفرنس کے خلاف ضلع کچہری سے ریلی نکالی

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے وکلا رہنماﺅں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کی مذمت کرتے ہوئے اسے بدنیتی پر مبنی قرار دیا۔ رہنماﺅں کا کہنا تھا کہ ریفرنس کے ساتھ ہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا میڈیا ٹرائل شروع کر دیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل میں تین سو سے زائد ریفرنسز ہیں لیکن ان کے بارے میں کسی کو یہ معلوم نہیں کہ وہ کس کے خلاف ہیں اور ان میں کیا الزامات ہیں مگر قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف الزامات کو ٹرائل سے پہلے منظر عام پر لایا گیا۔

وکلا رہنماﺅں کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ قانون کی بالادستی چاہتے ہیں جس کے باعث بعض حلقے ان کو جج کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتے۔

Image caption کوئٹہ میں وکلا رہنماﺅں نے اس ریفرنس کو بلوچستان کو چیف جسٹس کے عہدے سے محروم کرنے کی سازش بھی قرار دیا

انھوں نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اس وقت بلوچستان سے واحد جج ہیں اوروہ 2023 تک سپریم کورٹ کے جج بنیں گے۔ وکلا رہنماﺅں نے اس ریفرنس کو بلوچستان کو چیف جسٹس کے عہدے سے محروم کرنے کی سازش بھی قرار دیا۔

لاہور میں بھی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار ایسوسی ایشن نے ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ لاہور بار، لاہور ہائی کورٹ اور پنجاب بار کونسل کے ممبران کا کہنا ہے کہ وہ اس ہڑتال میں شریک نہیں ہوں گے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق لاہور میں کسی قسم کی تالہ بندی نہیں کی گئی ہے تاہم آج عدالتوں میں سائلین کا رش معمول سے کم رہا۔

اسی بارے میں