بول پر ذرا پیار سے: آپ سوشل میڈیا پر جو بھی پوسٹ کریں گے اس کے ذمہ دار ہوں گے

سوشل میڈیا تصویر کے کاپی رائٹ PA

گذشتہ چند دنوں سے پاکستانی ٹوئٹر پر بینک الفلاح کے ایک سابق کارکن کے حوالے سے ایک بحث جاری ہے جس کے نتیجے میں ایک انتہائی اہم معاملے کی اہمیت سامنے آئی ہے۔ یہ وہ معاملہ ہے جس کے بارے میں شاید پاکستان میں کمپنیاں اور ادارے اتنی توجہ نہیں دیتے۔

معاملہ کیا ہے؟

بینک الفلاح کے ایک اہلکار نے ڈان اخبار سے منسلک صحافی حسن زیدی کو ٹیگ کر کے ان کی ٹویٹ کا جواب لکھا جو عمران خان کی تقریر کے بارے میں تھی۔ اس جواب میں بینک کے اہلکار نے حسن کے ساتھ انتہائی ’نازیبا زبان‘ استعمال کی جس کے نتیجے میں حسن نے نہ صرف سوشل میڈیا پر اس بارے میں تبصرے کیے بلکہ بینک الفلاح سے بھی رابطہ کیا۔

بینک الفلاح نے گذشتہ روز اپنے اہلکار کو بینک کی پالیسی کی خلاف ورزی پر ملازمت سے برطرف کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے

آزادی کا کوڑے دان: سوشل میڈیا

رینجرز سوشل میڈیا پر بھی چھائے رہے

مادرپدر آزاد سوشل میڈیا قبول نہیں: نثار

مگر معاملہ یہاں نہیں رکا اور بینک کے برطرف شدہ اہلکار کے باقی ساتھی ٹوئٹر کا استعمال کر کے اس پر اپنی رائِے دے رہے ہیں۔ اور عمومی طور پر اس معاملے پر رائے انتہائی منقسم ہے جس کی وجہ سے مختلف سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

سوشل میڈیا کا ارتقا

دنیا بھر میں کمپنیاں اور ادارے گذشتہ ایک دہائی سے سوشل میڈیا کے حوالے سے اپنی پالیسیاں مرتب کر رہے ہیں اور اس میں ہر گزرتے وقت کے ساتھ تبدیلیاں آ رہی ہیں۔

ہر روز مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں گالیاں، اخلاق باختہ کمنٹس اور پوسٹس دیکھنے اور ان سے نمٹنے کے بعد ایک چیز واضح ہوتی ہے کہ جو زبان بینک کے اہلکار نے اپنی ٹویٹس میں استعمال کی وہ سوشل میڈیا پر بہت عام ہے۔ ماں بہن کی گالی یا اس کا مخفف تو اب عام زبان کا حصہ بن چکا ہے جس پر کسی کو حیرت ہی نہیں ہوتی۔

چند دن قبل ایک صاحب نے اسی قسم کی ایک پوسٹ شیئر کی اور جب اس پر اعتراض کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں منافقت نہیں کر سکتا میں یہی ہوں ایک گرے شخصیت کا مالک۔

کیا آپ کے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس ذاتی ہیں؟

اس کا سب سے سادہ اور آسان جواب یہ ہے کہ اگر آپ کی کمپنی کی سوشل میڈیا پالیسی ہے تو اس کے مطابق آپ کا اکاؤنٹ ریگولیٹ ہو گا۔

بہت معاملات میں اس کا جواب نفی میں ہے۔ جی آپ نے ٹھیک سنا کہ آپ کا ذاتی اکاؤنٹ آپ کا اتنا بھی ذاتی نہیں ہے۔

تو آپ کہیں گے کہ میں نے یہ نہیں لکھا کہ میں کہاں کام کرتا ہوں۔

اس کا جواب بہت سادہ سا ہے کہ اس دور میں یہ پتا چلانا اتنا مشکل نہیں ہے کہ کون کہاں کام کرتا ہے۔ مثلاً بینک کے اہلکار کے بارے میں یہ پتا چلانا مشکل نہیں تھا کہ وہ بینک الفلاح میں کام کرتے ہیں اور کس عہدے پر ہیں۔ اسی طرح نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ایک طالبعلم کے بارے میں بھی پتا چلانا مشکل نہیں تھا کہ وہ کیا کرتے ہیں۔

یہ بات سمجھنا اہم ہے کہ دنیا کی کئی کمپنیاں، خصوصاً ایسی کمپنیاں جو سہولیات کے شعبے میں کام کرتی ہیں یا عوامی خدمت کے کام میں شامل ہیں ان میں سوشل میڈیا پر طرزِ عمل کو بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔

ملازمت کے حصول کے کام میں سوشل میڈیا کی پروفائل چیک کی جاتی ہے اور ملازمت کے بعد سوشل میڈیا پر پوسٹس پر نظر رکھی جاتی ہے۔ امریکی ویزا کے حصول کے لیے اب یہ ایک شرط ہے کہ آپ اپنے ٹوئٹر اور فیس بُک اکاؤنٹ کے بارے میں بتائیں۔ اسی طرح پاکستان کی مسلح افواج نے بھی ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے حوالے سے پالیسی جاری کی۔

تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ آپ کا طرز عمل انتہائی اہم ہے۔ مگر یہاں معاملہ اس سے بھی آگے کا ہے جیسا کہ اوپر دی گئی دونوں مثالوں میں واضح ہے۔ یعنی آپ ایک گفتگو میں نہیں بلکہ اجنبی شخصیات کو ٹرول کرنے کے مقصد سے ماں بہن کی گالیاں دیتے ہیں۔ یا غیر خواتین کو ریپ کی دھمکیاں دیتے ہیں یا کہتے ہیں کہ ان کا ریپ کیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب بینک الفلاح نے اپنے ملازم کو برطرف کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے اپنے پریس ریلیز میں لکھا ہے کہ بینک 'ذاتی حملوں اور کسی کے خلاف بدزبانی کے بارے میں زیرو برداشت کی پالیسی رکھتا ہے۔ اور بینک ضوابط پر سختی سے عملدرآمد کرتا ہے اور اس واقعے کو اس کی سنگین خلاف ورزی سمجھتا ہے۔'

کارپوریٹ امور کے ماہر وکیل حامد جلال کا کہنا تھا کہ 'اس معاملے میں ملازمت لیبر کا معاملہ نہیں ہے بلکہ کنٹریکٹ کا معاملہ ہے۔ کنٹریکٹ پر ملازمت کو کنٹریکٹ کی شرائط کے مطابق ختم کیا جا سکتا ہے۔ اور اس معاملے میں شکایت کرنے والے صحافی اس میں پارٹی نہیں ہیں۔ بلکہ ملازم کا طرزِ عمل کمپنی کے ڈسپلنری قواعد اور قوانین کے تابع ہے۔ اور اگر کمپنی نے ان کے تحت کارروائی کی ہے اور پراسیس پر عمل کیا ہے تو پھر کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔'

اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈیجیٹل رائٹس کے لیے کام کرنے والی انسانی حقوق کی کارکن فریحہ عزیز نے کہا کہ 'سوشل میڈیا پر ان دنوں جو بھی بات ہو رہی اسے بہت احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یعنی آپ بے شک کہیں کہ ری ٹویٹ کا مطلب اس بات کو ترویج دینا نہیں ہے مگر آپ پھر بھی ذمہ دار ہیں۔ اور یہ بات آپ سے جڑی رہے گی۔ جو بھی استعمال ہو رہا ہے۔'

کمپنیوں کی سوشل میڈیا پالیسی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 'پالیسی بننی چاہیے مگر جب بھی کسی کوڈ یا پالیسی کی بات ہوتی ہے تو بہت سے مسائل ہیں۔ کیونکہ اگر ہم دیکھیں کہ ادارے نے پالیسی بنا لی مگر ملازم ادارے کی کسی بات پر اعتراض کرتا ہے تو وہ زیرِ عتاب آ سکتا ہے۔ تو پالیسی یا کوڈ سے ذاتی اظہار کا حق متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ اور یہ بھی کہ آپ ایک حق کے تحفظ کے چکر میں دوسرے حقوق کو متاثر نہ کریں۔ تو اس بارے میں پراسیس ہونا چاہیے۔'

اسی بارے میں