جعلی اکاؤنٹس کیس میں آصف زرداری کے بعد فریال تالپور بھی گرفتار، زرداری ہاؤس سب جیل قرار

فریال تالپور تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فریال تالپور کی ضمانت میں توسیع کی درِخواست بھی آصف زرداری کے ساتھ پیر کو ہی مسترد ہوئی تھی تاہم اس وقت انھیں گرفتار نہیں کیا گیا تھا

قومی احتساب بیورو کے مطابق جعلی اکاؤنٹس کے معاملے میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدرِ پاکستان آصف زرداری کے بعد ان کی بہن اور سندھ اسمبلی کی رکن فریال تالپور کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔

نیب کی جانب سے جمعے کو جاری کردہ بیان کے مطابق فریال تالپور کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف ایٹ میں واقع زرداری ہاؤس میں ہی رکھا جائے گا جسے چیئرمین نیب نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے سب جیل قرار دے دیا ہے۔

نیب کے بیان کے مطابق فریال تالپور تاحکمِ ثانی زرداری ہاؤس میں ہی مقید رہیں گی۔ بیان کے مطابق ان کی عزتِ نفس کا ماضی میں بھی خیال رکھا گیا اور آئندہ بھی ایسا ہی ہو گا اور میڈیا کو اس بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے

آصف زرداری کی گرفتاری پیپلز پارٹی پر کتنی بھاری

آصف زرداری 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

آصف علی زرداری کو کن الزامات کا سامنا ہے؟

خیال رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے گذشتہ پیر کو جعلی بینک اکاؤنٹس کے کیس میں آصف علی زرداری اور فریال تالپور ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

ضمانت مسترد کیے جانے کے بعد نیب نے آصف زرداری کو اسی دن گرفتار کر لیا تھا اور اب وہ دس روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں ہیں۔ تاہم فریال تالپور کو ضمانت میں توسیع نہ دیے جانے کے باوجود اس وقت گرفتار نہیں کیا گیا تھا۔

گرفتاری کے بعد ریمانڈ کے لیے پیشی کے موقع پر کمرہ عدالت میں میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو میں سابق صدر کا کہنا تھا کہ ان کی گرفتاری دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’سلیکٹڈ وزیراعظم کو کچھ نہیں پتا، یہ سب وزیر داخلہ کروا رہے ہیں۔‘

اس سوال پر کہ کیا انھیں پارلیمان سے باہر رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے آصف زرداری نے کہا کہ ’اس سے فرق کیا پڑے گے، میں نہیں ہوں گا تو بلاول ہو گا، بلاول نہیں ہو گا تو آصفہ ہو گی۔‘

Image caption فریال تالپور کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف ایٹ میں واقع زرداری ہاؤس میں ہی رکھا جائے گا جسے سب جیل قرار دے دیا گیا ہے

پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل نیر بخاری نے فریال تالپور کی گرفتاری پر کہا ہے کہ ان کی گرفتاری بلاجواز اور دباؤ ڈالنے کا حربہ ہے اور حکمرانوں کو یکطرفہ احتساب کے نام پر سیاسی انتقام کا حساب دینا ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب کے دویرے معیار یعنی حکومت اور پی پی پی کے لیے الگ الگ قانون اور معیار پوری طرح عیاں ہو چکے ہیں۔

بے نامی کھاتے اور بد نامی

’مائی لارڈ رجسٹری نہیں کیش جمع کراؤں گا‘

جعلی اکاؤنٹس سے اربوں روپے کس کس کو منتقل ہوئے؟

خیال رہے کہ سابق صدر اور ان کی بہن 28 مارچ سے عبوری ضمانت پر تھے جس میں پانچ مرتبہ توسیع کی گئی۔

واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے جعلی بینک اکاؤنٹ کیس میں ایک اکاؤنٹ سے مشکوک منتقلی کا مقدمہ درج کیا جس کے بعد کئی جعلی اکاؤنٹس سامنے آئے جن سے مشکوک منتقلیاں کی گئیں۔

ایف آئی اے کا دعویٰ ہے کہ ان مشکوک منتقلیوں سے مستفید ہونے والوں میں متحدہ عرب امارات کے نصیر عبداللہ لوطہ گروپ کے سربراہ عبداللہ لوطہ، آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور، اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید، ان کے بیٹے، بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے داماد ملک زین شامل ہیں۔

اسی بارے میں