ڈبلیو ایچ او: پاکستان میں ایچ آئی وی وائرس کی روک تھام کی کوششیں ناکافی قرار

رتو ڈیرو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اپریل سے اب تک رتوڈیرو میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد 600 سے زیادہ ہو چکی ہے

صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او نے لاڑکانہ میں ایچ آئی وی وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار انجیکشن کی غیر محفوظ پریکٹس اور انفیکشن کو کنٹرول کرنے کی ناکافی کوششوں کو قرار دیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی تحقیقات کے حقائق

کراچی میں جمعہ کو ڈبلیو ایچ او کی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر اولیور مورگن نے میڈیا کو تحقیقات کے نتائج سے آگاہی دی، ان کا کہنا تھا کہ وائرس پھیلنے کے دیگر ذرائع میں خون کی منتقلی اور کچھ متاثرہ ماؤں سے بچوں میں منتقلی بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔

لاڑکانہ میں اس وقت تک 598 افراد کے لیبارٹری ٹیسٹ سے ایچ آئی وی پازیٹو کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں 500 بچے اور 98 بڑے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

بلوچستان میں ایڈز سے متاثرہ 637 مریض رجسٹرڈ

سرگودھا کا گاؤں ایچ آئی وی ایڈز کی لپیٹ میں کیسے آیا؟

رتوڈیرو میں ایچ آئی وی وائرس کیسے پھیلا؟

’ڈاکٹر ایک ہی ڈرپ کی سوئی دو تین مریضوں کو لگاتا تھا‘

’سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ سے ایچ آئی وی کے آثار ختم‘

گزشتہ دو ماہ میں 27 ہزار سے زائد افراد کی بلڈ سکریننگ کی گئی اور ان میں سے 803 کو مزید ٹیسٹ کے لیے ریفر کیا گیا ہے۔

Image caption سندھ کے نو شہروں میں ٹریٹمنٹ سینٹر ہیں جن میں لاڑکانہ، نواب شاہ، سکھر اور کراچی شامل ہیں

ان ایچ آئی وی پازیٹو کیسز کی اکثریت کا تعلق لاڑکانہ کی تحصیل رتوڈیرو سے ہے جبکہ کچھ قریبی اضلاع کے متاثرین بھی شامل ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کی ٹیم نے 211 انٹرویو کیے اور 18 گھرانوں کے 142 افراد کی وبائی تحقیقات کی اس کے علاوہ کئی کلینک اور بلڈ بینکس کا بھی معائنہ کیا گیا۔

ڈبیلو ایچ او کا کہنا ہے کہ متعدد انٹریو میں ایک ہی ڈاکٹر کی نشاندھی کی گئی تاہم یہ ممکن نہیں ہے کہ دیگر ڈاکٹر یا وہ جو لائسنس کے بغیر میڈیکل پریکٹس کر رہے ہیں، وائرس پھیلانے میں ان کے کردار کو مسترد کر دیا جائے۔

یاد رہے کہ رتو ڈیرو کے ایک ڈاکٹر کو وائرس پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے جو اس وقت جیل میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC/Usman Zahid
Image caption رتوڈیرو کا سرکاری ہسپتال

سندھ ہیلتھ کمیشن اور پولیس کی جوائنٹ انٹیروگیشن ٹیم نے بھی وائرس پھیلانے کا ذمہ دار اسی ڈاکٹر کو قرار دیا تھا جبکہ پولیس نے اپنی تحقیقات میں یہ بتایا ہے کہ ڈاکٹر نے یہ وائرس دانستہ طور پر نہیں پھیلایا۔

سندھ حکومت کے اقدامات

سندھ کے محکمۂ صحت کی صوبائی وزیر ڈاکٹر عذرا پیچوھو کا کہنا ہے کہ صحت کے شعبے میں انفیکشن سے محفوظ رہنے کے جو طریقے ہیں ان پر عملدرآمد کی ضرورت ہے، جس کے لیے سندھ حکومت وفاق سے بھی مدد چاہتی ہے۔

’سندھ ہیلتھ کمیشن، سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی اور سندھ چیف ڈرگ انسپیکٹر کے محکمے کو اپنی کارکردگی بہتر کرنی پڑے گی اور محکمۂ صحت اس کی نگرانی کرے گا، ان اتھارٹیز کو اپنے اختیارات کے تحت اقدام اٹھانے پڑیں گے۔‘

Image caption رتوڈیرو کی آبادی لگ بھگ تین لاکھ 30 ہزار ہے جبکہ تاحال تشخیصی کیمپ میں 26000 کے قریب افراد کی سکریننگ ہوئی ہے

صوبائی وزیر کے مطابق طبی فضلے کو ٹھکانے پر لگانے کے لیے ہسپتال ویسٹ مینیجمنٹ میں بہتری لائی جا رہی ہے۔

لاڑکانہ سے اس کی ابتدا کی جائے گی کیونکہ ایچ آئی وی کیسز یہاں ہوئے ہیں اور اس کی وجہ سرنج کا غیر محفوظ اور بارہا استعمال تھا اس لیے ہسپتال ویسٹ پر ٹھوس اقدامات اٹھانا پڑیں گے۔ جس کی ابتدا لاڑکانہ سے ہو گی، پھر کراچی اور آگے چل کر دوسرے اضلاع میں اقدامات ہوں گے۔

لاڑکانہ میں انسینیریٹر فعال ہو جائے گا جہاں پبلک اور پرائیوٹ ہسپتالوں کا طبی فضلہ جلایا جائے گا۔

ان کے مطابق ڈاکٹروں اور نرسوں کو انفیکشن کنٹرول کرنے کی تربیت دی جا رہی ہے کیونکہ سارے ڈاکٹر، نرسیں اور عطائی ڈاکٹر غیر محفوظ پریکٹس کر رہے ہیں اور ہمیں انہیں اس چیز سے باور کرانا ہے۔

لاڑکانہ میں تربیت کا آغاز ہو گیا ہے۔ دوسرے علاقوں میں ڈویژن کی سطح پر تربیت فراہم کی جائے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال سے چھٹکارے کے لیے سرکاری ہسپتالوں میں آٹو لاک سرنجوں کے استعمال کے لیے بجٹ میں رقم مختص کر دی گئی ہے۔ وفاقی حکومت کو بھی گذارش کریں گے کہ ان سرنجوں کی امپورٹ کی اجازت دیں کیونکہ پاکستان میں جو پیداوار ہو رہی ہے وہ ضرورت سے کم ہے۔

حکومت سندھ نے ایک بلین روپے کا ’انڈوومنٹ فنڈ‘ قائم کیا ہے جس سے وہ متاثرہ بچوں کے علاج، بحالی اور متاثرہ کمیونٹی میں کام کریں گے۔

وفاقی حکومت کے اقدامات

عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ سنہ2003 سے لے کر اس وقت تک پاکستان میں ایچ آئی وی کے 7 آؤٹ بریک ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، یہ آؤٹ بریک بین الاقوامی طور پر عام چیز نہیں اور اس قسم کے 8 بریک آؤٹ ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

وفاقی محکمہ صحت کے وزیر مملکت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ رتوڈیرو میں ایچ آئی وی بریک آؤٹ کو ویک اپ کال سمجھنا چاہیے۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس پھیلنے کی جو وجوہات ہیں وہ ہی ایچ آئی وی کی ہیں اور اس وقت پاکستان دنیا کا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے جہاں ہیپاٹائٹس سی کے سب سے زیادہ مریض ہیں اور اگر اقدامات نہ کیے گئے تو خدا نخواستہ ایچ آئی وی بھی بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔ لہذا قومی اور صوبائی ایڈز پروگرام کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔

Image caption نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً ایک لاکھ 65 ہزار لوگ ایچ آئی وی پازیٹو ہیں

ڈاکٹر مرزا کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ نے فنڈ مختص کیے ہیں۔ وفاقی حکومت اپنے طور پر جو کرسکتی ہے وہ کرے گی، گلوبل فنڈ اور دیگر جو ادارے ہیں ان سے ادویات اور ٹیسٹ کٹس میں اضافے کی لیے رابطہ کیے جا رہے ہیں۔

وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ خون کی بیماریوں کا 90 فیصد ذمہ دار خود نظام صحت ہے کیونکہ انجیکشن ہیلتھ پروفیشنل لگاتے ہیں، خون کی منتقلی ہیلتھ کیئر سسٹم میں ہوتی ہے لہذا انفیکشن کا کنٹرول ہسپتال میں ہونا چاہیے۔

سرکاری ہسپتالوں کے ساتھ پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے ضرورت ہے، وفاقی حکومت بھی ہیلتھ کمیشن بنا رہی ہے۔

اسی بارے میں