دو بڑی جماعتوں کا اکٹھ: کیا حزبِ اختلاف کو حکومت کے خلاف تحریک کا موزوں وقت نظر آ رہا ہے؟

سیاسی گرفتاریاں تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کو نیب نے کرپشن کے الزامات میں گرفتار کیا ہے

سلسلہ گرفتاریوں سے شروع ہوا۔ پہلے اسلام آباد سے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری اور اس کے اگلے ہی روز لاہور سے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف حمزہ شہباز گرفتار ہوئے۔

ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں میں بنیادی حیثیت رکھنے والے ان دونوں رہنماؤں کو نیب یعنی قومی احتساب بیورو نے گرفتار کیا۔ ان پر منی لانڈرنگ اور حکومتی خزانے کو نقصان پہنچانے جیسے الزامات ہیں۔

گرفتاریوں کے بعد دونوں جماعتوں کے کارکنان نے الگ الگ احتجاجی مظاہرے کیے۔ پاکسان پیپلز پارٹی نے کم از کم صوبہ پنجاب میں مظاہرے جاری رکھے۔ دوسرے روز لاہور میں پنجاب اسمبلی کے سامنے چیئرنگ کراس کے مقام پر علامتی بھوک ہڑتال کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

آصف زرداری 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

نیب نے حمزہ شہباز شریف کو گرفتار کر لیا

’دیسی دماغ ولیمے کی فوٹو سے زیادہ سوچنے کی صلاحیت نہیں رکھتا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سابق صدر آصف زرداری گرفتاری کے بعد نیب کے پاس جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں

بھوک ہڑتالی کیمپ پر ن لیگی رہنما آئے اور پی پی پی کے رہنماؤں کو مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔

ان کی دعوت کو قبول کیا گیا، اسی روز ن لیگ کے دفتر میں اجلاس منعقد ہوا اور اس کے بعد حزبِ اختلاف کی ان دونوں بڑی جماعتوں نے مشترکہ پریس بریفنگ بھی کی۔ اس میں پی پی پی کے پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی رہنما سید حسن مرتضٰی کی قیادت میں وفد نے شرکت کی۔

مسلم لیگ ن کی جانب سے رات گئے جاری کردہ بریفنگ کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ اس میں پریس نمائندے بھی کم تعداد میں موجود تھے۔ جبکہ اس حوالے سے خبر بھی نجی ذرائع ابلاغ پر زیادہ دیکھنے کو نہیں ملی۔

تاہم بریفنگ کے دوران کی جانے والی گفتگو کے مطابق دونوں جماعتوں نے 'عوام کو درپیش مسائل پر اکٹھے جدوجہد کرنے کا اعادہ کیا۔‘

ساتھ ہی اسی روز ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز پنجاب کے ضلع نارووال کے علاقے ظفروال گئیں جہاں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے حکومت، حکومتی پالیسیوں، حالیہ بجٹ اور بالخصوص وزیرِ اعظم عمران خان کے حالیہ خطاب کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@MaryamNSharif
Image caption مریم نواز

پنجاب میں حزبِ اختلاف کی دو بڑی جماعتوں کی مشترکہ بریفنگ میں کوئی واضح اشارہ نہیں دیا گیا۔ تاہم سوال یہ ہے کہ ماضی میں ایک دوسرے کی کڑی مخالف رہنے والی ن لیگ اور پی پی پی کیا اکٹھے ہو کر حکومت کے خلاف کوئی باضابطہ تحریک چلانے کا ارادہ رکھتی ہیں؟

یا پھر ان کے اس اتحاد کی وجہ محض ان کے قائدین کی گرفتاریاں ہیں اور یہ وقتی ثابت ہو گا؟

ان سوالات کا ایک جواب پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضٰی نے مشترکہ بریفنگ کے دوران دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ 'دو مختلف نظریات کی حامل جماعتیں ہیں، آپس میں ضم تو نہیں ہو سکتیں۔ لیکن ہمارے سامنے (عوام کو درپیش) مسائل ایک جیسے ہیں، جیسا کہ مہنگائی، تعلیم اور صحت۔ ہم دونوں عوامی جماعتیں ہیں، ہم کوشش کریں گے کہ ان مسائل کے خلاف ہماری جدوجہد اکٹھے ہو۔‘

تاہم سوال یہ ہے کہ اس وقت ہی کیوں جب ان کی جماعتوں کے قائدین کی گرفتاریاں ہوئیں؟ ان عوامی مسائل پر دونوں جماعتیں اس سے قبل اکٹھے کیوں نہیں ہوئیں؟

کیا وہ موزوں وقت کا انتظار کر رہے تھے؟

صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا ماننا ہے کہ حزبِ اختلاف کی ان دونوں بڑی جماعتوں کے اکٹھے ہونے کی فوری وجہ تو گرفتاریاں ہی ہو سکتی ہیں۔

تاہم ان کے خیال میں 'یہ انتظار کر رہے تھے کہ لوگوں کی مالی مشکلات میں اضافہ ہو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ پہلے تحریک چلا لیں یا اعلان کر دیں اور لوگ سمجھیں کہ یہ اچھی خاصی منتخب حکومت ہے اس کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔‘

سہیل وڑائچ کے مطابق یہ 'ایسی منطق تھی کہ لوگ خود فیصلہ کریں کہ یہ (حکومت) معاشی مسائل بڑھا رہی ہے۔' ان کے خیال میں حزبِ اختلاف کی جماعتیں بجٹ کی منتظر تھیں۔

'عوام اس وقت نکلتے ہیں جب ان کا چولہا ٹھنڈا ہوتا ہے'

سہیل وڑائچ کا ماننا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت نے بجٹ کو 'اچھے انداز میں پیش کیا ہے، فوری طور پر اس کے اثرات پتہ نہیں لگ رہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بڑی سیاسی گرفتاریوں کے بعد مریم نواز سیاسی میدان میں سرگرم نظر آرہی ہیں

'میرے خیال میں اس میں مزید دو ماہ کا وقت لگے گا۔ چھ سات سو ارب کے ٹیکس لگے گے، جب وہ (حکومت) تو عوام ہی سے لیں گے۔ تو جب ہر بندے تک اس کا اثر پہنچے گا تو ہی لوگوں کو پتہ لگے گا۔'

سہیل وڑائچ کا ماننا ہے کہ سیاسی قائدین کی 'گرفتاریوں پر تو جماعتوں کے کارکنان سڑکوں پر نکل آئیں گے، سو دو سو۔ عوام اس وقت نکلتے ہیں جب ان کا چولہا ٹھنڈا ہوتا ہے۔ کوئی بہت بڑا اخلاقی مسئلہ ہو یا ملک کی معیشت خراب ہو تب لوگ باہر نکلتے ہیں۔‘

'انھیں حکومت مشکل میں نظر آ رہی ہے'

لاہور میں صحافی اور تجزیہ کار فرخ ضیا دی نیوز آن سنڈے کی ایڈیٹر ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ 'بہت سی ایسی چیزیں ہیں جہاں انھیں (حزبِ اختلاف کو) حکومت مشکل میں نظر آ رہی ہے۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے بھی بہت سے معاملات کھل چکے ہیں۔ 'پی ٹی ایم کی جو گرفتاریاں ہوئی ہیں، ذرائع ابلاغ پر بھی دباؤ نظر آ رہا ہے، عدلیہ پر بھی وار کیا جا رہا ہے اور معیشت کی جو مجموعی صورتحال ہے وہ کافی خراب ہے۔‘

تو ان کے خیال میں 'حزبِ اختلاف کو لگتا ہے کہ ان کے پاس یہ کافی مواد تو ہے کہ ایک تحریک چلائی جائے۔‘

تاہم فرح ضیا کا ماننا ہے کہ ایسا کرنے میں حزبِ اختلاف کی حدود بھی ہیں۔ ’کیا سیاسی طور پر وہ اکٹھے ہو سکیں گے یہ تحریک چلانے کے لیے، کون اس کی قیادت کرے گا، کیا تمام جماعتیں ایک جماعت کی قیادت پر متفق ہو جائیں گی؟ تو دیکھیے اب آگے کیا کیا جاتا ہے۔‘

'حکومتی بیانے کو بھی حمایت حاصل ہے'

صحافی اور تجزیہ نگار فرح ضیا کے مطابق جہاں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا ایک بیانیہ ہے وہیں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کا بھی ایک بیانیہ ہے جسے عوام کے ایک حصے کی حمایت بھی حاصل ہے۔

'ان کا بیانیہ یہ ہے کہ وہ کرپشن کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ اسی پر وہ گزشتہ برس انتخابات جیت کر آئے ہیں۔ تو ان کا کہنا یہ ہے کہ اب اگر حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے قائدین کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں تو یہ اکٹھے ہو رہے ہیں۔ اور ان کے اس بیانیے کو عوامی حلقوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔‘

دوسری طرف حزبِ اختلاف کا نیب پر اعتماد نہیں ہے۔ ان کا بیانیہ یہ ہے کہ انھیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

دونوں جماعتیں اکٹھے ہو کر کیا کریں گی؟

پاکستان مسلم لیگ ن کے سینٹرل ڈپٹی سیکریٹری جنرل عطا اللہ تارڑ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا مقصد 'پہلے تو حکومت کو یہ بتانا بھی ہے کہ اگر آپ نیب کے ذریعے صرف حزبِ اختلاف کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنائیں گے تو حزبِ اختلاف متحد ہے اور ساتھ کھڑی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ نیب کے ذریعے حزبِ اختلاف کو سیاسی انتقام کا نشانہ اس وقت بنایا جا رہا ہے جب کئی حکومتی اراکین کے خلاف الزامات ہونے کے باوجود کارروائی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔

'دوسرا مہنگائی کا مسئلہ ہے اور ملک کی سالانہ ترقی کی شرح بھی کم ہو کر آدھی رہ گئی ہے۔ تو میرے خیال یہ وہ تمام مسائل ہیں جو ایک متحدہ حزبِ اختلاف کی طرف سے زیادہ موثر طریقے سے سامنے لائے جا سکتے ہیں۔‘

عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ان کے لیے اس وقت عوامی حمایت حاصل کرنے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ 'عوام کے احساسات کی ترجمانی کی جائے۔ ان کی آواز سنی جانی چاہیے اور ہر فورم پر اس بات کو اٹھانا انتہائی ضروری ہے کہ لوگ کس کرب اور امتحان سے گزر رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں