شمالی وزیرستان کے ’کرفیو زدہ علاقوں میں ساتویں روز نرمی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کے مقامی افراد اور صحافیوں کے مطابق شنہ خوڑہ سے دتہ خیل تک نافذ کرفیو میں اتوار کو ساتویں روز نرمی کی گئی جبکہ مقامی ذرائع کے مطابق ان ہی علاقوں میں رات کے وقت کرفیو برقرار رہے گا۔

حکام کے مطابق رواں مہینے کی سات تاریخ کو شمالی وزیرستان کے علاقے خڑکمر میں سڑک کنارے نصب بم حملے میں پاکستانی فوج کے چار نوجوان ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کرفیو نافذ کردیا گیا تھا۔ اس کرفیو میں پہلے بھی دو دن کی نرمی کی گئی تھی۔

سنیچر کی شب پاکستان میں سوشل میڈیا پر شمالی وزیرستان میں کرفیو کے خاتمے کے لیے مہم بھی چلائی گئی اور حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ شمالی وزیرستان میں کرفیو ختم کیا جائے۔

لیکن خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شمالی وزیرستان کے کسی بھی علاقے میں کرفیو نہیں ہے ’صرف ایک جگہ جہاں پر آئی ای ڈی بلاسٹ ہوا تھا، وہاں پر صرف چیکنگ کرتے ہیں، باقی کچھ بھی نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک مخصوص گروپ کرفیو کا پروپیگنڈا کر رہا ہے، جس کی میں سختی سے تردید کرتا ہوں۔‘

یہ بھی پڑھیے

شمالی وزیرستان میں دھماکہ، چار فوجی اہلکار ہلاک

محسن داوڑ بھی شمالی وزیرستان سے گرفتار

وزیرستان کا نو سالہ ’گنیز ریکارڈ ہولڈر‘

تاہم بنوں میں مقامی صحافیوں کو شمالی وزیرستان کی ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ سات جون کو خڑکمر میں سڑک کنارے نصب بم حملے میں پاکستانی فوج کے چار نوجوان کی ہلاکت کے بعد کرفیو نافذ کیا گیا تھا جس میں اتوار کو نرمی کی گئی۔

بعض ذرائع کے مطابق شنہ خوڑہ سے دتہ خیل تک کرفیو کی وجہ سے وہاں اشیائے خورد و نوش کی قلت اور مقامی آبادی کو مشکلات پیش آرہی ہیں، تاہم مقامی لوگوں کے مطابق اتوار کو ساتویں روز کرفیو میں نرمی دیکھی گئی ہے۔

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ملک غلام نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کرفیو کی وجہ سے نہ صرف کھانے پینے کی چیزوں کی قلت ہے بلکہ بیمار افراد کو میران شاہ اور بنوں کے ہسپتالوں تک لانے میں بھی مشکلات پیش آرہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ علاقے میران شاہ سے چالیس، پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ وہاں جو بیمار ہیں، جس میں بچے، بوڑھے شامل ہیں، اُن کو میران شاہ یا بنوں کے ہسپتالوں تک پہنچانے میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘

شمالی وزیرستان سے ملحقہ ضلع بنوں میں مقامی صحافی عمر وزیر کے مطابق وزیرستان کی مقامی انتظامیہ نے اتوار کو ساتویں روز ملحقہ علاقوں میں کرفیو میں نرمی کا اعلان کیا، تاہم اُن کے مطابق ڈوگا مچاخیل میں کرفیو میں نرمی نہیں کی گئی۔

اُدھر شمالی وزیرستان کے علاقے خڑکمر میں واقعے کے بعد بنائے گئے قبائلی جرگے کے ایک رکن ملک خان مرجان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کرفیو میں نرمی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قبائلی مشران پشتون تحفظ موومنٹ اور حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں اور بہت جلد کوئی پیش رفت ہو جائے گی۔

انھوں نے توقع ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’میں پُرامید ہوں کہ مذاکراتی عمل بہت جلد حتمی نتیجے تک پہنچے گا۔‘

اسی بارے میں