مومن ثاقب: پاکستانی مداحوں کے جذبات کی عکاسی کرنے والے مداح جو انڈیا میں ’وائرل‘ ہو گئے

مومن ثاقب تصویر کے کاپی رائٹ Azhar Javed
Image caption میچ کے بعد سٹیڈیم سے باہر آتے ہوئے جب ایک صحافی نے ان سے کہا کہ وہ کیمرے کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کریں تو مومن نے 'رہنے دیں، میرا موڈ نہیں ہے' کہہ کر معذرت کرنے کی کوشش کی

گذشتہ اتوار کو کرکٹ ورلڈ کپ 2019 کے سب سے کانٹے دار میچ میں انڈیا کے ہاتھوں شکست کے بعد پاکستانی مداح بےحد مایوس نظر آئے۔ لیکن اس مایوسی میں بھی انھوں نے طنز و مزاح کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔

ایسے ہی ایک کرکٹ فین مومن ثاقب ہیں۔ میچ کے فوراً بعد ایک صحافی نے ان سے انٹرویو لینا چاہا تو انھوں نے اپنے منفرد اور مزاحیہ اندازِ بیان سے انڈیا اور پاکستان دونوں میں سوشل میڈیا صارفین کے دل جیت لیے۔

انٹرویو کی ویڈیو، جو کہ پاکستانی چینل دنیا نیوز پر نشر ہوئی، میں مومن جذباتی انداز میں کہتے نظر آتے ہیں کہ جس ملک میں روٹی پانی کا مسئلہ ہوتا ہے وہاں کے لوگوں کی کرکٹ کی طرح کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہوتی ہیں اور وہ خوشیاں بھی پاکستانی ٹیم نے ان سے چھین لی ہیں۔

انھوں نے ڈرامائی انداز میں پاکستان ٹیم کی لیک ہونے والی ویڈیوز کا حوالہ دیتے ہوئے طنز کیا کہ ’کل رات پتا چلا ہے کہ ٹیم برگر اور پیزے کھاتی رہی‘ لہٰذا انھیں کرکٹ چھوڑ کر ’دنگل‘ میں حصہ لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے

ایسے پرستار جن کے دم سے کرکٹ کے میدانوں میں رونقیں ہیں

کرکٹ ورلڈ کپ مقابلوں کے دس یاد گار میچ

’کم آن جیجا جی!‘

مومن ثاقب کون ہیں؟

لاہور سے تعلق رکھنے والے مومن نے حال ہی میں کنگز کالج لندن سے کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کی ڈگری مکمل کی ہے اور وہ انسٹاگرام پر کافی سرگرم ہیں: ان کی پروفائل پر 48 ہزار سے زیادہ فالورز ہیں۔

اس سے پہلے بھی وہ کرکٹ کی وجہ سے مقبول ہو چکے ہیں۔ انھوں نے حال ہی میں کھیلے جانے والے ایک میچ میں پاکستان کی فتح کے بعد ایک انٹرویو میں جذباتی انداز میں کہا تھا: ’ دل رو رہا ہے میرا، یہ میرا پاکستان ہے!‘۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ وہ میچ کے بعد واپس جا رہے تھے جب صحافی اظہر جاوید نے ان سے کہا کہ وہ کیمرے کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ تاہم پہلے ان کا جواب نفی میں تھا۔

’رہنے دیں، میرا موڈ نہیں ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ وہ پاکستان کی شکست کے بعد بہت دکھی تھے، لیکن صحافی کے اصرار پر وہ انٹرویو دینے کے لیے آمادہ ہو گئے۔

ان کا کہنا تھا ’اتنے دکھ بھرے ہوئے تھے کہ میں آپ کو کیا بتاؤں! میرے کیا پورے پاکستان کے یہی حالات اور جذبات تھے۔‘

کچھ لوگوں کے خیال میں یہ انٹرویو پہلے سے طےشدہ یعنی ’سکرپٹڈ‘ تھا۔ یہ بھی کہا گیا کہ مومن اس چینل میں ملازمت بھی کرتے ہیں جہاں ان کا انٹرویو نشر ہوا۔ تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دنیا نیوز کے ذرائع نے اس بات کی تردید کی۔

مومن نے بھی بتایا کہ انٹرویو کا کوئی سکرپٹ نہیں تھا اور انھوں نے جو بولا وہ پوری طرح فی البدیہہ تھا۔

اپنے فی البدیہہ انداز اور حاضر دماغی کے بارے میں مومن کا کہنا ہے: ’یہ تب ہوتا ہے جب آپ جیسے اندر سے ہوتے ہیں ویسے ہی باہر سے ہوتے ہوں۔ لیکن جب آپ کچھ بننے کی کوشش کر رہے ہوں، کسی کی نقل اتارنے کی کوشش کر رہے ہوں تو وہ حاضر دماغی نہیں رہتی، انسان کنفیوز ہو جاتا ہے۔ جب آپ اپنے اصلی جذبات کا نقشہ کھینچیں گے تو حاضر دماغی خود بخود آ جائے گی۔‘

انھوں نے اس بارے میں مزید کہا کہ ’دل سے بولو گے تو بات کام کی نکلے گی۔‘

انڈیا میں مقبولیت

مومن کی ویڈیو مشہور ہونے کے بعد ان کو انڈیا کے مقامی میڈیا میں بھی کافی پزیرائی ملی۔

انھوں نے بتایا کہ انھیں نہیں پتا تھا کہ وہ انڈیا میں ’ڈبل وائرل‘ ہو گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انڈیا میں لوگ ان کی ویڈیو سے یقیناً اس لیے لطف اندوز ہو رہے ہیں کیونکہ پاکستان میچ ہار گیا، لیکن انھیں ایسے بہت سے انڈینز کے پیغامات آئے جنھوں نے حوصلہ اور پیار دیا۔

انھوں نے بتایا کہ انڈین بھی پاکستانی شائقین کے جذبات سمجھ سکتے ہیں کیونکہ ان کو بھی ماضی میں پاکستانی ٹیم کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ MOMIN SAQIB
Image caption لاہور سے تعلق رکھنے والے مومن نے حال ہی میں کنگز کالج لندن سے کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کی ڈگری مکمل کی ہے اور وہ انسٹاگرام پر کافی سرگرم ہیں

انھوں نے پاکستان اور انڈین شائقین سے اپیل کی کہ ’جذبات میں آ کر گالی گلوچ کرنا یا نازیبا الفاظ استعمال کرنا غلط ہے۔ سب سے پہلے ہمیں کرکٹ سپورٹرز کو اس سے دور کرنا ہو گا اور تنقید مثبت ہونی چاہیے۔ اپنا غصہ اور دکھ اس انداز میں نکالیں کہ آئندہ بہتری آئے۔‘

پاکستانی ٹیم کی سپورٹ کے سوال پر انھوں نے کہا کہ وہ مرتے دم تک ان کی حمایت کریں گے اور جہاں وہ غلط ہوں گے وہاں وہ ان غلطیوں کی نشاندہی کریں گے۔ ساتھ ہی انھوں نے پاکستانی ٹیم کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ عوام ان سے بہت پیار کرتے ہیں وہ بھی ان سے اتنی ہی محبت کریں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں تو میچ دیکھنے سے پہلے سب دوستوں سے کہہ رہا تھا کچھ ایسا ویسا کھا نہ لینا، کوئی پراٹھے نہ کھا لینا جس سے پیٹ خراب ہو جائے اور میچ نہ دیکھ سکو۔ ہم فینز اتنی تیاریاں کرتے ہیں میچ دیکھنے کے لیے تو ہم توقع کرتے ہیں کہ ہماری ٹیم بھی اسی قسم کی تیاری سے آئے۔‘

انھوں نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مداحوں کو بھی پیغام دیا کہ ’کوئی بات نہیں، کر دیا ہے انھوں نے کام گندا، اب ان کو سہارا دیں ان کے لیے دعا کریں، انھوں نے دُکھ دیا ہے تو خوشی بھی دیں گے۔‘

اسی بارے میں