قومی ترقیاتی کونسل میں فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو شامل کرنے کی کیا ضرورت تھی؟

عمران خان اور جنرل باجوہ تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/@PTIOFFICIAL
Image caption بارہ رکنی قومی ترقیاتی کونسل کی سربراہی وزیرِ اعظم عمران خان کریں گے

وفاقی کابینہ کے گذشتہ روز ہونے والے اجلاس میں ملک کی معاشی صورتحال کے تناظر میں قومی ترقیاتی کونسل تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا اور حیران کن طور پر اس میں فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے کابینہ ڈویژن کی جانب سے اعلامیہ بھی جاری کیا جا چکا ہے۔ قومی سلامتی کونسل کے بعد یہ دوسرا ادارہ ہے جس میں فوج کے سربراہ کو شامل کیا گیا ہے۔ پچھلے کچھ روز سے اس بارے میں مقامی ذرائع ابلاغ میں بحث بھی جاری تھی۔

جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق اس کونسل کو تشکیل دینے کا مقصد خطے میں تعاون سے متعلق فیصلے لینے کے علاوہ پاکستان کی روز بروز بگڑتی ہوئی معیشت کو بہتر بنانے کے حوالے سے اقدامات لینا ہے۔

اس 12 رکنی کونسل کی سربراہی وزیرِ اعظم عمران خان کریں گے جس میں چاروں وزراِ اعلی کے ساتھ ساتھ تجارت، خزانہ، خارجہ کے علاوہ منصوبہ بندی کے وزرا بھی شامل ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Cabinet Division
Image caption وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملک کی معاشی صورتحال کے تناظر میں قومی ترقیاتی کونسل تشکیل دینے کا فیصلہ لیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیے

باجوہ ان کنٹرول

’دفاعی بجٹ میں کٹوتی قوم پر احسان نہیں‘

باجوہ ڈاکٹرائن یا عمرانی نظریہ، فیصلہ ہو چکا

اس کونسل کی تشکیل کے بارے میں اہم بات یہ ہے کہ اس میں پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی شامل ہیں، جس پر اب تک حزبِ اختلاف کی جانب سے کوئی خاص ردِّعمل دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔

اس کونسل کی تشکیل کے حوالے سے کئی سوالات سامنے آ رہے ہیں تاہم اب تک مقامی ذرائع ابلاغ میں اس بارے میں کوئی بات نہیں کی جا رہی ہے۔

کونسل بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

نوٹیفیکیشن کے مطابق اس کونسل کا مقصد علاقائی سطح پر فیصلے، اقتصادی ترقی، معاشی سطح پر پہلے سے جاری اور آئندہ بننے والے پراجیکٹ کی منصوبہ بندی اور خطے میں باہمی تعاون کے لیے ہدایات دینا ہوگا۔ ساتھ ہی ترقیاتی امور پر حکمتِ عملی بنانا اس کونسل کے فرائص میں شامل ہے۔

اس بارے میں بی بی سی نے مالیاتی وزارت کے ترجمان خاقان نجیب سے بات کرنے کے لیے سوالات بھیجے لیکن اب تک ان کا جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

اس کے علاوہ حکومتی ارکان کی طرف سے آج وفاقی کابینہ کے اجلاس میں لیے گئے اس فیصلے کے بارے میں کوئی بات چیت نہیں کی گئی جبکہ وفاقی کابینہ کے فیصلے کے بعد معاونِ خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے اسلام آباد میں پریس سے خطاب بھی کیا، لیکن حزبِ اختلاف کی جانب سے بجٹ پر کی جانے والی تنقید کا جواب دینے اور کابینہ کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کے علاوہ انھوں نے کونسل کی تشکیل پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’پاکستان اور چین کے درمیان بننے والی اقتصادی راہداری سے حکومت کا دھیان ہٹتا ہوا نظر آرہا ہے جس کے نتیجے میں پاکستانی فوج کے سربراہ کو اس کونسل میں شامل کیا گیا ہے‘

اس کونسل میں فوج کا کیا کام؟

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کونسل کے ذریعے جامع طور پر فوج کو پالیسی سازی کا حصہ بنایا گیا ہے جس سے ان کی حیثیت مزید مضبوط ہوگی۔ قومی سلامتی کونسل کے بعد یہ دوسرا ادارہ ہے جس میں فوج کے سربراہ کو شامل کیا گیا ہے۔

اس بارے میں بین الاقوامی اخبار فائننشل ٹائمز کے اسلام آباد میں موجود نمائندے فرحان بخاری نے بی بی سی کو بتایا کہ 'یہ واضح طور پر فوج کو وفاقی و خارجی فیصلوں میں شامل کرنے کا ایک جامع طریقہ ہے۔'

انھوں نے کہا کہ کئی روز سے یہ کہا جارہا تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان بننے والی اقتصادی راہداری سے حکومت کا دھیان ہٹتا ہوا نظر آرہا ہے جس کے نتیجے میں پاکستانی فوج کے سربراہ کو اس کونسل میں شامل کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'پہلے بھی کئی فیصلوں میں کافی واضح تاثر ملتا رہا ہے کہ یہ فیصلے کون کررہا ہے۔ لیکن یہ فیصلہ لے کر ان تمام شبہات کو عمل میں لایا گیا ہے۔'

اس ادارے کی آئینی حیثیت کیا ہوگی؟

یاد رہے کہ آئین میں پہلے ہی مشترکہ مفادات کی کونسل اور قومی مالیاتی کمیشن جیسے ادارے موجود ہیں۔

فرحان بخاری نے کہا کہ 'کابینہ کے اجلاس میں نوٹیفیکیشن جاری ہونے کا مقصد اس کونسل کی آئینی حیثیت کو بھی واضح اور مضبوط کرنا ہے تاکہ مستقبل کے فیصلے لینے میں کوئی دقّت نہ پیش آئے اور یہ پیغام دیا جاسکے کہ فوج اور سویلین حکومت ایک صفحے پر ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/@betterpakistan
Image caption احسن اقبال کے مطابق ’ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت فوج کو تنازعات میں دھکیل رہی ہے’

حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے کوئی ردِّعمل؟

اس حوالے سے سابق وزیر برائے داخلہ اور منصوبہ بندی احسن اقبال نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئٹر پر اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’کیا قومی ترقیاتی کونسل قومی معاشی کونسل کی جگہ لےگا جو کہ ایک آئینی فورم ہے؟ کیا فوج باضابطہ طور پر معاشی انتظام سنبھالنے کا کریڈٹ یا الزام خود پر لے گی؟ ایک شہری ہونے کے ناطے میرے کچھ خدشات ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت فوج کو تنازعات میں دھکیل رہی ہے۔‘

تاہم اس کے علاوہ اب تک حزبِ اختلاف کی جماعتوں میں سے کسی نے بھی اس بارے میں اپنی رائے نہیں دی ہے۔

اس سے تاثر یہی مل رہا ہے کہ پہلے لیے جانے والے فیصلوں کی طرح اس بار بھی اس کونسل کی تشکیل اور اس کو فعل کرنے کے لیے راہ ہموار کی جاچکی ہے۔

اسی بارے میں