پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا دعویٰ : ’صرف عدلیہ کی جانب سے اچھی خبریں آ رہی ہیں‘

پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ تصویر کے کاپی رائٹ SUPREME COURT OF PAKISTAN

پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے ان دنوں ملک کے مختلف محکموں کی جانب سے مایوس کن خبریں آ رہی ہیں۔

بدھ کو فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئےانھوں نے کہا کہ ٹی وی لگائیں تو پتا ہوتا ہے کہ ملک کی اقتصادی صورت حال آئی سی یو میں ہے تو کبھی بتایا جاتا ہے کہ ملکی معیشت آئی سی یو سے باہر آ گئی ہے اور اب اسے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

پاکستان کے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر چینل تبدیل کریں تو پارلیمان کا حال بھی ایسا ہی دکھائی دیتا ہے وہاں کبھی قائد حزب اختلاف کو بولنے نہیں دیا جا رہا تو کبھی قائد ایوان کو تقریر کرنے نہیں دی جا رہی۔

آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اس مایوسی سے نکلنے کے لیے چینل تبدیل کرکے کرکٹ ورلڈ کپ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہاں سے بھی پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کے بارے میں مایوس کن خبریں آتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس: زیر التوا مقدمات پر سپریم جوڈیشل کونسل کی وضاحت

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کون اور ان کے فیصلوں پر تنازعے کیا؟

’صدارتی ریفرینس عدلیہ پر براہِ راست حملہ ہیں‘

اپنے خلاف ریفرنس پر جسٹس فائز عیسیٰ کا صدر کے نام خط

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ مخالف قرارداد مسترد

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایسے حالات میں اگر کسی ادارے کی جانب سے اچھی خبریں آ رہی ہیں تو وہ صرف عدلیہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ انصاف کی فوری فراہمی کے لیے جو ماڈل عدالتیں قائم کی گئی ہیں اس کے بہت حوصلہ افزا نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مختلف ماڈل عدالتوں میں قتل جیسے سنگین مقدمات کے پانچ ہزار سے زیادہ فیصلے کیے گئے ہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ماڈل عدالتوں کے قیام کے بعد قتل جیسے سنگین مقدمات جو کہ عرصۂ دراز سے زیر التوا چلے آ رہے تھے وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہو رہے ہیں۔ وہ وقت دور نہیں ہے جب ملک میں قتل کے زیر التوا مقدمات اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائیں گے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملک میں ضلعی سطح پر 116 عدالتیں قائم کی جائیں گی جہاں صنفی تشدد کے علاوہ بچوں پر ہونے والے تشدد سے متعلق مقدمات کی سماعت ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ ان عدالتوں کے کام کرنے کا طریقۂ کار دوسری عدالتوں سے مختلف ہو گا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا قومی عدالتی پالیسی کے آئندہ اجلاس میں ملک میں مزید ماڈل عدالتیں قائم کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا جہاں دیوانی نوعیت کے مقدمات کے جلد از جلد فیصلے ہوں گے اور ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان قومی عدالتی پالیسی بنانے والی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔

خیال رہے کہ چیف جسٹس نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران یہ ریمارکس دیے کہ ملک میں عمر قید کے قانون میں تشریح کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ پاکستان میں عام طور پر یہی تصور کیا جاتا ہے کہ 25 سال قید گزارنے والے قیدی نے عمر قید کی سزا کاٹ لی ہے جبکہ حقیقت میں عمر قید کا مطلب پوری زندگی جیل میں گزارنا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جب سپریم کورٹ نے عمر قید کی سزا کے قانون کی تشریح کردی تو اس کے بعد عمر قید پانے والے قیدی سزائے موت کو ترجیح دیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں