گوادر سے ’لاپتہ‘ ہونے والے علی حیدر بلوچ واپس آ گئے

تصویر کے کاپی رائٹ Nasarullah Baloch
Image caption 16 سالہ علی حیدر اس وقت گوادر میں حصولِ تعلیم کے لیے رہائش پذیر تھے

گوادر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق 16 جون کی شب ’لاپتہ‘ ہونے والے بلوچ نوجوان علی حیدر بلوچ واپس آ گئے ہیں۔

بلوچستان سے جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے علی حیدر کی واپسی کی تصدیق کی ہے۔

اس سے قبل نصر اللہ بلوچ نے ہی بی بی سی اردو کے محمد کاظم کو بتایا تھا کہ دس برس کی عمر سے اپنے لاپتہ والد کی بازیابی کے لیے جدوجہد کرنے والے علی حیدر بلوچ کا نام اب خود بھی لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔

علی حیدر کے والد محمد رمضان سنہ 2010 سے لاپتہ ہیں اور علی حیدر نے ان کی بازیابی کے لیے 2013 میں کوئٹہ سے کراچی اور پھر اسلام آباد تک لانگ مارچ میں بھی حصہ لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

وہ کمسن لڑکی جس کے آنسوؤں سے بھائی کی بازیابی ممکن ہوئی

’سو میں سے پانچ کی مشکل سے شناخت ہوتی ہے‘

جبری گمشدگیاں: مجوزہ ترمیم کابینہ کے سامنے

بی بی سی کے محمد کاظم سے بات کرتے ہوئے نصر اللہ بلوچ نے دعویٰ کیا تھا کہ ’علی حیدر کو 16 اور 17جون کی درمیانی شب بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں سکیورٹی فورسز کے ایک چھاپے کے دوران ان کے گھر سے اٹھایا گیا۔‘

تاہم جب علی حیدر کی مبینہ جبری گمشدگی کے حوالے سے گوادر پولیس کے سربراہ ایس ایس پی نصیب اللہ سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اس سلسلے میں لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ گوادر پولیس کو اس سلسلے میں تاحال نہ کوئی درخواست موصول ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی مقدمہ درج کروایا گیا ہے۔

16 سالہ علی حیدر اس وقت گوادر میں حصولِ تعلیم کے لیے رہائش پذیر ہیں اور ساتھ ساتھ اپنے چچا کی لانڈری کی دکان پر کام بھی کرتے ہیں۔

نصراللہ بلوچ کے مطابق علی حیدر کے والد رمضان بلوچ کو جب کراچی سے متصل بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے علاقے اوتھل میں وردی اور سادہ لباس میں ملبوس سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے حراست میں لیا تھا اس وقت بھی علی حیدر ان کے ہمراہ سفر کر رہے تھے۔

اس کے بعد علی حیدر نے اپنے والد کا نام کوئٹہ میں نہ صرف لاپتہ افراد کی فہرست میں درج کرایا بلکہ ان کی بازیابی کے لیے احتجاج میں بھی شرکت کرتے رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@HamidMirPAK

وہ 2013 میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ہونے والے لانگ مارچ کا بھی حصہ تھے۔ اس لانگ مارچ کے روحِ رواں ماما قدیر نے کہا کہ اتنا طویل پیدل سفر آسان نہیں تھا لیکن کم عمر ہونے کے باوجود علی حیدر نے یہ طویل سفر ہمت کے ساتھ طے کیا تھا۔

خیال رہے کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ سنہ 2002 سے جاری ہے۔

لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم اور بعض قوم پرست جماعتیں لوگوں کو لاپتہ کرنے کا الزام ریاستی اداروں پر عائد کرتی رہی ہیں تاہم سرکاری حکام ایسے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جرائم پیشہ افراد کے خلاف آئین اور قانون کے دائرے میں ہوتی ہیں۔ سرکاری حکام کا یہ موقف بھی ہے کہ بعض عناصر ایک ایجنڈے کے تحت ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگینڈا کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@ammaralijan

علی حیدر کی گمشدگی کی خبر عام ہونے کے بعد پاکستانی سوشل میڈیا پر بھی ان کا نام ٹرینڈ کرتا رہا تھا۔

صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے لکھا تھا کہ 'علی حیدر کی گمشدگی کے بارے میں جان کر افسوس ہوا۔ میں نے چند برس قبل انھیں کوئٹہ سے اسلام آباد اپنے والد رمضان بلوچ کی بازیابی کے لیے مارچ کرتے دیکھا تھا لیکن بدقسمتی کہ آج وہ خود بھی لاپتہ ہیں۔'

استاد اور حقوقِ انسانی کے لیے سرگرم کارکن عمار علی جان نے لکھا 'علی حیدر نےاپنا بچپن اپنے لاپتہ والد کی بازیابی کا مطالبہ کرتے گزار دیا۔ اب وہ اتنے بڑے ہو گئے تھے کہ انھیں اغوا کر لیا جائے اور کل وہ لاپتہ ہو گئے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’مصیبت اور صدمہ نسلوں تک جاری ہے۔ علی حیدر کو بازیاب کرایا جائے کیونکہ بلوچستان کے زخم بھرنے کی ضرورت ہے، مزید ظلم کی نہیں۔‘

اسی بارے میں