پاکستان میں خواتین ممبران اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں شاعرانہ اندازِ بیاں اور تندوتیز جملے

سیما ضیا

پاکستان میں آج کل مختلف اسمبلیوں میں بجٹ اجلاس جاری ہیں جہاں لوگوں کے نمائندے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان بجٹ اجلاسوں میں کچھ خواتین ممبران نے اپنے خیالات کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے شاعرانہ انداز اپنایا ہے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ پر بحث کے دوران مسلم لیگ ن کی سرگرم رکن مریم اورنگزیب نے اپنا نکتہ نظر بیان کرنے کے لیے فہمیدہ ریاض کے اس شعر کا سہارا لیا:

جس ہاتھ میں خنجر ہے

اس ہاتھ کی کمزوری

ہر وار سے ثابت ہے

فہمیدہ ریاض کے مذکورہ شعر کے بعد انھوں نے مرحومہ شاعرہ سے معذرت کے ساتھ کہا کہ وہ اس شعر کو اس طرح بیان کرنا چاہتی ہیں: ’ہاتھ میں خنجر نہیں، ہاتھ میں ماچس آگئی اور پورے جنگل میں آگ لگ گئی۔ آج پورا پاکستان سلگ رہا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مسلم لیگ نون کی سرگرم رکن مریم اورنگزیب نے فہمیدہ ریاض کے شعر کا سہارا لیا

قومی اسمبلی ہو یا صوبائی اسمبلی اور سینیٹ میں ہونے والی تقریروں میں اشعار کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے، جس میں خاص طور پر حریفوں کو زیر کرنے کے ساتھ ساتھ سالانہ بجٹ کے خشک موضوع کو دلچسپ بنایا جا رہا ہے۔

سندھ اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران مسلم لیگ فنکشنل سے وابستہ اپوزیشن کی رکن نصرت سحر عباسی نے اپنی 20 منٹ کی تقریر میں یہ شعر پڑھا:

جو کچل سکے آواز عوام کی، اس کی یہ حیثیت نہیں

جانے کس دور میں پھر رہے ہیں جناب

یہ گدی ہے پانچ سالہ، بابا دادا کی وصیت نہیں

نصرت سحر کو یہ تو یاد نہیں کہ یہ شعر کس شاعر کا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ شاعری بھی اظہار کا ایک ذریعہ ہے جس سے مخالف کو زیادہ چبھن محسوس ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پیشِ خدمت ہے راگ بجٹ میں تازہ ٹھمری

بجٹ 2019: اب کون کتنا انکم ٹیکس دے گا؟

’حماد اظہر کیا بولتے رہے، کسی کو سمجھ نہیں آئی‘

نصرت سحر نے کہا ’شاعری کے ذریعے انداز بیان میں ایک وزن پیدا ہوتا ہے، شعر پڑھنا سب کو نہیں آتا لیکن مجھے آتا ہے۔ شعر کے ذریعے اپنا موقف بیان کیا جائے تو اس کا تو مزہ ہی کچھ اور ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ’شاعری بھی اظہار کا ایک ذریعہ ہے جس سے مخالف کو زیادہ چبھن محسوس ہوتی ہے‘

ایم کیو ایم کے اراکین پارلمینٹ تقاریر میں سب سے زیادہ شعر و شاعری کا استعمال کرتے رہے ہیں۔ بجٹ تقریر کے دوران ایم کیو ایم کی رکن رعنا انصار نے حیدرآباد میں پانی کی قلت اور یونیورسٹی کی عدم موجودگی اور بجٹ میں اس کے لیے رقم مختص نہ کرنے پر تقریر کی اور اس تقریر کا اختتام اس شعر پر کیا:

’ کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے

صاحب اقتدار کے کمالات تو دیکھیے

ہو جاتی ہے سفید آمدن، جو سیاہ ہوتی ہے‘

تحریک انصاف کی رکن اسمبلی ڈاکٹر سیما ضیا نے بھی اپنی تقریر میں یہی شعر دوبارہ پڑھ کر سنایا۔

ایم کیو ایم کی رکن رعنا انصار کا کہنا ہے کہ شاعری سے پیغام کی رسائی آسان ہو جاتی ہے۔ جو بات آپ کہنا چاہتے ہیں اس میں بہت زیادہ صفحات درکار ہوتے ہیں جبکہ مختصر شعر آپ کے خیالات کی ترجمانی کرتے ہیں کہ ہم کیا کہنا چاہ رہے ہیں اور جب اس کا جواب سامنے سے آتا ہے تو محسوس ہوجاتا ہے کہ شاعری دل کو لگی ہے۔

سندھ اسمبلی میں ان دنوں بجٹ پر بحث جاری ہے لیکن ایم کو ایم کی اقلیتی رکن اسمبلی منگلا شرما نے اسی دوران سندھ میں مبینہ طور پر مذہب کی جبری تبدیلی کے واقعات کا ذکر کیا اور اس میں بعض فریقین کے ملوث ہونے پر بھی انگلیاں اٹھائیں۔ انھوں نے ترقی پسند انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی نظم پڑھ کر اپنا موقف بیان کیا:

تصویر کے کاپی رائٹ NAZ Baloch
Image caption پاکستان پیپلز پارٹی کی ناز بلوچ کے شعر کا جواب پی ٹی آئی کی زرتاج گل نے دیا

’جس دیس سے ماؤں بہنوں کو اغیار اٹھا کر لے جائیں

جس دیس سے قاتل غنڈوں کو اشراف چھڑا کر لے جائیں

جس دیس کی کورٹ کچہری میں انصاف ٹکوں پر بکتا ہو

جس دیس کا منشی قاضی بھی مجرم سے پوچھ کے لکھتا ہو‘

منگلا شرما کا کہنا ہے کہ ’یہ نظم حکمرانوں کی نا اہلی اور کرتوتوں کا آئینہ تھا، جس کی ایک ایک سطر دل کو لگ جانے والی تھی۔‘

وہ کہتی ہیں ’میں سمجھتی ہوں کہ ہم کتنی بھی لمبی بات کریں شاعری کے ذریعے ہم اپنی بات اور جذبات کو بہتر انداز میں بیان کرسکتے ہیں۔ میں نے فیض صاحب کی جو نظم پڑھی اس کا کئی لوگوں نے خود ہی میسج لے لیا ہوگا، میرے کچھ کہے بغیر۔‘

منگلا شرما زمانہ طالب علمی سے شاعری پسند کرتی ہیں۔ انہیں پروین شاکر اور ناصر کاظمی کی شاعری پسند ہے اور بقول ان کے جو بات وہ شاعری میں کہہ دیتی ہیں شاید لفظوں میں نہ کہہ سکیں۔

قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن ناز بلوچ نے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے جون ایلیا کا شعر پڑھا:

’ایک ہنر ہے جو کر گیا ہوں میں

سب کے دل سے اتر گیا ہوں میں‘

ناز بلوچ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ٹیکس تو یورپ کے لحاظ سے لیا جا رہا ہے لیکن سہولیات یوگنڈا کے حساب سے دی جا رہی ہیں۔

تحریک انصاف کی رکن زرتاج گل نے اپنی تقریر کے دوران شعر کہہ کر انہیں جواب دیا:

’کب تک چھپو گے پھولوں کی آڑ میں

کبھی تو آؤ گے لنڈا بازار میں‘

ناز بلوچ نے سپیکر سے یہ شعر حذف کرنے کے لیے کہا اور کہا کہ ’میں بلوچ ہوں اور ہم لوگ لنڈا بازار نہیں جایا کرتے۔‘

اسی بارے میں