جنرل جان جیکب کا جیکب آباد بدل چکا

جیکب آباد
Image caption جان جیکب برطانوی دور حکومت میں بالائی سندھ کے پہلے پولیٹیکل سپرنٹنڈنٹ تھے۔ ان کی حکومت نے انھیں جنگجو قبائل پر ضابطہ نافذ کرنے کے لیے یہاں تعینات کیا تھا

دوپہر ایک بجے کا وقت ہے اور درجہ حرارت 45 سینٹی گریڈ پر پہنچ چکا ہے۔ ایک بوڑھا شخص لاٹھی کا سہارا لیے لوہے کا دروازہ کھول کے اندر داخل ہوتا ہے۔

وہ کندھے پر موجودہ کپڑے سے سفید سنگِ مرمر سے بنی قبر سے دھول مٹی ہٹانا شروع کر دیتا ہے اور اسی اثنا میں ان کی نظر اِدھر اُدھر کچھ ڈھونڈتی رہتی ہے۔

اس کی نظر ایک کونے میں پڑے چراغ پر جا کر ٹھہر جاتی ہے لیکن چراغ میں تیل موجود نہیں۔ وہ اس قبر پر ویسے ہی ہاتھ پھیر رہا ہے جیسے مزاروں پر عقیدت مند پھیرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایسا قبرستان جس کی ہر قبر تاریخ کا ایک باب ہے

قرطبہ کا عظیم شہر جو صرف 70 برس قائم رہا

ایک بہن نے مسجد بنوائی، ایک نے قدیم ترین یونیورسٹی

یہ کس کی قبر ہے؟ اس سوال پر اس کا کہنا تھا کہ یہ ’جیکب صاحب کی قبر ہے۔ یہ بزرگ تھے۔ اچھے انسان کو ہر کوئی سلام کرتا ہے۔ یہ کوئی دشمن تو نہیں تھا یہ اچھا انسان تھا اس کو ہر کسی کا فکر ہوتا تھا جیکب آباد اس کے نام پر قائم ہے۔‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
یہ شہر سندھ اور بلوچستان کو معشیت کے علاوہ روایتی، سماجی اور ثقافتی طور پر بھی جوڑتا ہے۔ یہاں خان آف قلات سے لے کر نواب اکبر بگٹی تک کی رہائش گاہیں موجود تھیں جو سب اب ماضی کا حصہ بن گئی ہیں

اس بوڑھے شخص کا نام الٰہی بخش ہے جو ہفتے میں ایک مرتبہ یہاں آ کر ’جیکب صاحب‘ کی قبر پر دیا روشن کرتے ہیں۔

برطانوی دور حکومت میں جان جیکب بالائی سندھ کے پہلے پولیٹیکل سپرنٹنڈنٹ تھے۔

اُن دنوں میں برطانوی فوج کی جانب سے خصوصی فرنٹیئر ریگیولیشن کے ذریعے اس علاقے کا انتظام و انصرام چلایا جاتا تھا۔ یہ سلسلہ سنہ 1848 تک جاری رہا جب تک کہ سویلین ڈپٹی کمشنر تعینات نہیں کیے گئے۔

برطانوی حکومت نے جنگجو قبائل پر ضابطہ نافذ کرنے کے لیے انھیں یہاں تعینات کیا تھا۔ اس سے قبل وہ چارلس نیپیئر کی قیادت میں حیدرآباد میں تالپور حکمرانوں کے ساتھ جنگ میں شریک تھے، جس کے بعد انگریز سرکار نے پورے سندھ کا کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

جان جیکب کی قبر

جان جیکب کا انتقال سنہ 1858 میں 46 برس کی عمر میں ہوا تھا اور ان کی تدفین وصیت کے مطابق اسی علاقے میں کی گئی۔

ان کی قبر پر روایتی صلیب کا نشان موجود نہیں۔ جس قبرستان میں جان جیکب دفن ہیں وہاں ان کے انتقال سے قبل اور بعد کے برطانوی فوجیوں کی قبریں بھی موجود ہیں جن پر صلیب اور مجسمے موجود تھے لیکن موسمی اثرات نے جہاں انھیں شکست و ریخت کا شکار کیا وہاں انسانی نقل و حرکت سے یہ بھی متاثر ہوئیں۔

برینر نیوٹن سنہ 1985 سے جان جیکب قبرستان کا انتظام سنبھال رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ برٹش ایسوسی ایشن فار سیمیٹریز ان ساؤتھ ایشیا اور کامن ویلتھ وار سیمیٹری کے تعاون سے اس قبرستان کی چاردیواری تعمیر کی گئی اور گیٹ لگایا گیا لیکن ایک ٹرک کی ٹکر سے دیوار گر گئی۔

Image caption برینر نیوٹن کے مطابق جان جیکب سیمیٹری کی دیوار نہ ہونے کی وجہ سے جانور احاطے میں داخل ہو جاتے ہیں اور قبروں کو نقصان پہنچاتے ہیں جبکہ کچھ مذہبی جنونی بھی ہیں جو توڑ پھوڑ کرتے ہیں

برینر کے مطابق دیوار نہ ہونے کی وجہ سے جانور احاطے میں داخل ہو جاتے ہیں اور قبروں کو نقصان پہنچاتے ہیں جبکہ کچھ لوگ مذہبی جنونی بھی ہیں جو توڑ پھوڑ کرتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر اور علاقے سے منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی کو بھی درخواست دی ہے لیکن ان کے مطابق حکومت کی آثارِ قدیمہ میں دلچسپی کم ہے۔

خان گڑھ سے جیکب آباد

جان جیکب نے جنگجو قبائل کو کنٹرول میں کرنے کے بعد خان گڑھ میں جدید خطوط پر ایک شہر کی منصوبہ بندی کی جس میں چھاؤنی کے علاوہ عام شہریوں کی کالونی، سڑکیں، فراہمی اور نکاسی آب کا نظام اور بازار شامل تھے۔ ان میں سے کچھ کے آثار ابھی تک موجود ہیں۔

ترقیاتی پروگرام کے لیے فنڈز دستیاب نہیں تھے لیکن اس کے باوجود انھوں نے ایک بیابان کو سرسبز علاقے میں تبدیل کیا اور یہاں دریائے سندھ سے بیگاری کینال کے ذریعے پانی لایا گیا۔

اس نہر کی تعمیر کے لیے زمینداروں نے افرادی قوت فراہم کی، اسی لیے اس کا نام بیگاری کینال رکھا گیا۔ انھوں نے تعیناتی سے انتقال تک 30 برس کا عرصہ یہاں گزارا اور دس لاکھ درخت لگائے۔

کبوتر خانہ

جان جیکب نے جہاں عسکری اور انتظامی امور سرانجام دیے وہیں انھوں نے غیر روایتی انداز بھی اختیار کیا۔

ان دنوں میں پیغام رسانی کا موثر نظام نہ ہونے کی وجہ سے انھوں نے اس کام کے لیے کبوتروں کا استعمال کیا۔ اور اس مقصد کے لیے انھوں نے اپنی رہائش گاہ میں کبوتروں کی ایک نرسری قائم کی۔

Image caption جان جیکب نے پیغام رسانی کا موثر نظام نہ ہونے کی وجہ سے اس کام کے لیے کبوتروں کا استعمال کیا

برطانوی دور حکومت کے ڈپٹی کمشنر روجر پیئرس نے اپنی آپ بیتی ’ونس اے ھیپی ویلی‘ میں تحریر کیا ہے کہ پہاڑی علاقوں کے بلوچ قبائلی سندھ کے میدانی علاقوں میں حملہ آور ہوتے تھے جان جیکب نے پہلے انھیں لڑائی میں شکست دی۔

اس کے بعد ان کوششوں کی روک تھام کے لیے مستقل گشت کا سلسلہ شروع کیا گیا جس کے لیے جان جیکب شہر جیکب آباد اور چیک پوسٹوں کے درمیان پیغام رسانی کا کام کبوتروں سے لیتے تھے۔

30 فٹ اونچے اس کبوتر خانے میں آج بھی بڑی تعداد میں کبوتر آباد ہیں۔ مقامی صحافی جان اوڈھانو کے مطابق یہ کبوتر خانہ زبوں حالی کا شکار ہو گیا تھا لیکن چند سال قبل ایک ڈپٹی کمشنر نے اس کی مٹی سے مرمت کرائی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے ایپ سنیپ چیٹ میں اس شہر کی شناخت اس کبوتر خانے سے ہے۔

جیکب صاحب کی میڈم

جان جیکب شادی شدہ نہیں تھے اور برطانوی ماہر آثار قدیمہ اور تاریخ نویس ایچ ٹی لیمبرک نے اپنی کتاب جان جیکب آف جیکب آباد میں تحریر کیا ہے کہ جیکب نہیں چاہتے تھے کہ ان کے افسران شادی کریں کیونکہ ان کا خیال تھا کہ انڈیا میں زندگی بہت سخت اور تلخ ہے۔

Image caption جان جیکب کے انتقال سے تقریبا ایک سال قبل یعنی سنہ 1857 میں جب جنگ آزادی شروع ہوئی اور مقامی فوجیوں نے برطانوی سرکار کے خلاف بغاوت کی۔ لیکن ان کے گھڑ سوار جتھے میں کوئی بغاوت نہیں ہوئی اور اس کی وجہ ان کی فوج میں مقامی افراد کی اکثریت کو قرار دیا جاتا ہے

’ان سے جب بلوچ سردار سوال کرتے کہ آپ شادی کیوں نہیں کرتے تو ان کا اکثر جواب ہوتا کہ اگر مر جاؤں تو میری بیوی کسی دوسرے سے شادی کر لے گی۔ کیا میں اس کو نظر انداز کر سکتا ہوں کہ جیکب صاحب کی میڈم نے دوسرا شوہر کر لیا۔‘

جان جیکب کے انتقال سے تقریبا ایک سال قبل یعنی سنہ 1857 میں جب جنگ آزادی شروع ہوئی اور مقامی فوجیوں نے برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کی۔

اس وقت وہ جیکب آباد میں بریگیڈیئر کے منصب پر پہنچ چکے تھے، ان کے گھڑ سوار جتھے میں کوئی بغاوت نہیں ہوئی اور اس کی وجہ ان کی فوج میں مقامی افراد کی اکثریت کو قرار دیا جاتا ہے۔

جیکب کلاک

جان جیکب کو عسکری اور منتظم کے علاوہ انجنیئرنگ اور میکنیکل ذہانت بھی حاصل تھی۔ انہوں نے ایک گھڑیال بنایا جو اپنی نوعیت کا ایک منفرد نمونہ ہے۔

Image caption یہ گھڑیال سپرنگ ٹیکنالوجی اور زمین کی کشش ثقل کے تحت کام کرتا ہے اس میں ایک ہزار کلو وزنی پنڈولم لگایا گیا ہے

یہ لکڑی کے ایک باکس میں ڈپٹی کمشنر کی رہائش گاہ میں نصب ہے جو کبھی جان جیکب کی رہائش گاہ ہوا کرتی تھی۔

اس کی نگرانی جہانگیر خان نامی نوجوان کرتا ہے۔ اس گھڑیال میں اسلامی تاریخ، چاند کا سائز، برطانوی اور مقامی وقت بھی موجود ہیں۔ اس گھڑیال کو جان جیکب نے خود ڈیزائن کیا تھا۔

جہانگیر کے مطابق یہ گھڑیال سپرنگ ٹیکنالوجی اور زمین کی کشش ثقل کے تحت کام کرتا ہے اس میں ایک ہزار کلو وزنی پنڈولم لگایا گیا ہے۔

پینڈولم کو زمین اپنی طرف کھینچتی ہے جس سے گھڑیال کے کانٹوں میں حرکت آتی ہے، یہ پینڈولم 32 میٹر زیر زمین جاتا ہے اور پھر چابی گھما کر اسے اوپر لایا جاتا ہے اور یہ مشق ہر 15 روز بعد کی جاتی ہے۔

جہانگیر کے مطابق پہلے ان کے نانا، اس کے بعد بھائی اور اب وہ اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں لیکن اس کا کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ بعض اوقات جب اس کا کوئی پرزہ ٹوٹ جاتا ہے تو اس کی مرمت بھی اپنی جیب سے کروانی پڑتی ہے۔

Image caption جہانگیر خان کے مطابق پہلے ان کے نانا، اس کے بعد بھائی اور اب وہ اس گھڑیال کی دیکھ بھال کرتے ہیں لیکن اس کا کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا ہے

سنہ 2007 میں پاکستان کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد ہونے والی ہنگامہ آرائی میں اس گھڑیال کو بھی نقصان پہنچا تھا لیکن بعد میں اس کی مرمت کر کے اسے بحال کیا گیا تاہم اس تک عام لوگوں کی رسائی نہیں۔

جان جیکب کا جیکب آباد بدل گیا

برطانوی راج کی جنوبی ایشیا سے روانگی کے بعد بھی جیکب آباد کی خطے میں عسکری اہمیت برقرار رہی۔

امریکہ نے جب افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف آپریشن شروع کیا تو جیکب آباد کے شہباز ایئر بیس کا نظام ان کے حوالے کیا گیا۔

یہ شہر سندھ اور بلوچستان کو معشیت کے علاوہ روایتی، سماجی اور ثقافتی طور پر بھی جوڑتا ہے۔ یہاں خان آف قلات سے لے کر نواب اکبر بگٹی تک کی رہائش گاہیں موجود تھیں جو سب اب ماضی کا حصہ بن گئی ہیں۔

Image caption کچھ لوگوں نے شہر کا نام جیکب آباد سے تبدیل کر کے عطار آباد رکھنے کی بھی کوشش کی

جہاں اس شہر کی قدیم تعمیرات اور جان جیکب سے وابستہ یادیں مسمار اور ناپید ہو رہی ہیں وہاں اس شہر کا مزاج بھی تبدیل ہورہا ہے۔

یہاں فرقہ وارانہ کشیدگی کے نتیجے میں سنہ 2015 میں ماتمی جلوس پر خود کش حملہ کیا گیا۔

کچھ لوگوں نے شہر کا نام جیکب آباد سے تبدیل کر کے عطار آباد رکھنے کی بھی کوشش کی اور وجہ یہ ہی بتائی کہ جان جیکب ایک فرنگی اور مسیحی تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں