کرکٹ کے کھلاڑیوں کو کن ذہنی مسائل کا سامنا ہوتا ہے؟

مصباح تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

حال ہی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ مکی آرتھر نے جنوبی افریقہ کے خلاف میچ کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھی کچھ ایسی ہی باتوں کا ذکر کیا جن میں انھوں نے کھلاڑیوں پر بے جا تنقید کے اثرات کی بات کی۔

اپنی پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ حالیہ دنوں میں ایک ایسا لمحہ بھی آیا جب غیر ضروری تنقید پر انھوں نے خودکشی کرنے کا سوچا۔

اس بیان کے حوالے سے جب بی بی سی نے قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مصباح الحق سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ 'اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ ملک کے لیے کھیل رہے ہوتے ہیں لیکن جب چند سال قبل میرے سُسر کا انتقال ہوا تو کوئی مجھے نہیں سمجھ سکا، نہ ٹیم منیجمنٹ، نہ شائقین اور نہ ہی میڈیا اور مجھ پر غیر ضروری تنقید کرنا اور لتاڑنا شروع کر دیا۔'

یہ بھی پڑھیے!

’لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی ذہنی مسئلہ ہے تو آپ پاگل ہیں‘

ڈپریشن اور خودکشی پر بات کیوں نہیں ہوتی؟

مصباح الحق کا کہنا تھا کہ کھلاڑی ایک انسان ہوتا ہے، بد قسمتی سے شائقین اور میڈیا اس کے جذبات کا خیال نہیں رکھتے اور کسی بھی جذباتی یا ذہنی مشکل صورتحال میں اس کی مدد کرنے کی بجائے اسے تمسخر کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔'

'مجھے یاد ہے کہ جب سنہ 2016 میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف کرکٹ سیریز کے دوران مجھے میرے سسر کے انتقال کی خبرملی تو میں سخت جذباتی اور ذہنی مسائل کا شکار تھا۔ میرے سسر جو میرے ماموں بھی تھے، میرے لیے انتہائی اہم بزرگ کی حثیت رکھتے تھے۔ میں نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کھیل رہا تھا اور گھر کی فکر نے میرا دھیان بانٹ دیا تھا۔ میرے ذہنی اضطراب کی وجہ سے اس دوران میری کارکردگی بھی کافی متاثر ہوئی اور مجھے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔'

کھلاڑیوں کو کس قسم کے ذہنی مسائل کا سامنا ہوتا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لاہور میو ہسپتال میں شعبہ سپورٹس فزیشن اینڈ ری ہیبلیٹیشن کے سابق سربراہ اور ماہر ڈاکٹر خالد جمیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے کھلاڑیوں کو تین قسم کے ذہنی و نفیساتی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان میں پہلا مسئلہ جو ہمارے کرکٹ اور ہاکی کے کھلاڑیوں میں بہت زیادہ ہے ہوتا ہے وہ غیر یقینی صورتحال کا ہے۔

ان کا کہنا تھا ہمارے قومی سطح کے کھلاڑیوں کو یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ کس وقت ان کو ٹیم سے نکال دیا جائے گا۔

اس وجہ سے کئی کھلاڑیوں کو جب کوئی چھوٹی موٹی چوٹ لگتی ہے تو ڈاکٹر کو نہیں بتاتے کہ اگر اس چوٹ کے باعث ڈاکٹر نے ان کو آرام کا مشورہ دے دیا تو ان کی جگہ کسی اور کو ٹیم میں شامل کر لیا جائے گا۔

دوسری بڑی وجہ جس کا شکار دنیا بھر میں ہر ٹیم اور کھلاڑی بنتے ہیں وہ 'بیڈ پیچ' یعنی خراب کارکردگی کا ایک دور ہوتا ہے۔

اس بیڈ پیچ کے دوران پرفارمنس اور اعتماد خود بخود ختم ہو جاتا ہے اور یہ صورتحال مزید بگڑ جاتی ہے جب کسی کھلاڑی نے دو یا تین میچوں میں اچھی کارکردگی نہ دکھائی تو میڈیا، کوچ، ٹیم منیجمنٹ اور بعض اوقات خاندان والے بھی اس کے پیچھے پڑ جاتے ہے۔ جس کے باعث وہ کھلاڑی ڈپریشن میں چلا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خواہ کھیل کوئی بھی ہو، اس میں کارکردگی ذہنی آسودگی سے حاصل ہوتی ہے۔ کارکردگی دراصل ایک 'برین سرکٹ' ہوتا ہے اور جب کسی بھی کھلاڑی کا ردھم ٹوٹ جاتا ہے اس کی کارکردگی خراب ہو جاتی ہے۔

ان کے مطابق اگر کسی کھلاڑی پر ’بیڈ پیچ‘ ہے تو یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا کوئی طبی یا جذباتی مسئلہ تو نہیں ہے۔

ان کے نزدیک تیسری قسم وہ روزمرہ کے مسائل ہیں مثلاً ایک کھلاڑی بہت اچھا کھیل رہا ہے مگر بدقسمتی سے اسے خاندان، بچے، بیوی کے بارے میں کوئی بری خبر ملتی ہے تو اس کا ذہن کھیل سے ہٹ جاتا ہے۔

ذہنی دباؤ میں کون سی سہولیات یا مدد دستیاب ہوتی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مصباح الحق نے کہا بدقسمتی سے ہمارے پاس ذہنی صحت سے متعلق زیادہ سہولیات نہیں ہیں

کھلاڑیوں کو کرکٹ بورڈ، ٹیم منیجمنٹ کی طرف سے میسر سہولیات پر بات کرتے ہوئے مصباح الحق نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے پاس ذہنی صحت سے متعلق زیادہ سہولیات نہیں ہیں اور نا ہی کھلاڑیوں کو اس دباؤ سے نکلنے کی کوئی تربیت دی جاتی ہے۔

جس کی وجہ سے جب بھی انڈیا کے میچ کی طرح کوئی بڑا میچ آتا ہے تو ہمارے کھلاڑی وہاں اضطراب اور دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔

کھلاڑیوں کو جذباتی یا نفسیاتی مسائل کی صورت میں مدد یا سہولتوں پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے آپ کو جب ذہنی طور پر ٹیم کوچ، منیجمنٹ یا نفسیاتی تھراپی کی ضرورت ہوتی ہے توکچھ نہیں ہوتا۔ آپ کو اپنے بل بوتے پر اس ذہنی حالت سے باہر آنا ہوتا ہے۔

دوسری جانب ترجمان پاکستان کرکٹ بورڈ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو کسی بھی جذباتی و ذہنی مسائل سے نکالنے اور حل کرنے کے لیے کرکٹ بورڈ، ٹیم منیجمنٹ تمام تر وسائل بروئے کار لاتا ہے۔

آصف علی کی بیٹی کے وفات کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا اس مشکل وقت میں پوری ٹیم، منیجمنٹ اور بورڈ آصف علی کے غم میں برابر کی شریک تھی اور انھیں دورہ انگلینڈ سے جانے کی اجازت بھی دی۔

ترجمان پی سی بی کا کہنا تھا کہ طبی بنیادوں پر بھی کھلاڑیوں کو ذہنی و جذباتی مسائل سے نمٹنے، پرفارمنس میں بہتری کے لیے طبی بنیادوں پر مدد فراہم کی جاتی ہے، ان کے لیے انفرادی اور اجتماعی کونسلنگ سیشن رکھے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہر کھلاڑی پر منحصر ہوتا ہے کہ ان کو کسی طرح کی اضافی مدد یا رہنمائی کی ضرورت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حال ہی میں پاکستانی کرکٹر آصف علی کی بیٹی کی وفات ہو گئی تھی

انھوں نے مزید بتایا کہ ورلڈ کپ سے پہلے متحدہ عرب امارات میں آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں ٹیم کے ساتھ ایک ماہر نفسیات موجود تھے، جو ورلڈ کپ سے پہلے پاکستان انگلینڈ سیریز میں بھی ٹیم کے ساتھ تین ایک روزہ میچوں تک ساتھ رہے۔ اس کا مقصد ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنا، کھلاڑیوں کے نفسیاتی دباؤ کو کم کرنا اور انھیں مثبت کھیل پیش کرنے کا حوصلہ دینا تھا۔

ڈاکٹر خالد جمیل کا کہنا تھا کہ ہمارے کھلاڑیوں کو زیادہ سہولیات میسر نہیں ہیں، ان کے ساتھ ایک فزیو، سپورٹس فزیشن اور ماہر نفسیات ہوتا ہے لیکن ان کو جس طرح سے اور مثبت انداز میں یہ مدد درکار ہونی چاہیے وہ نہیں ہے۔

دنیا بھر میں دیگر کھلاڑیوں کی جذباتی، نفسیاتی اور جسمانی توانائی کو مانیٹر کیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے اور بعض اوقات کھلاڑیوں کے مسائل کی صحیح نشاندہی نہیں ہوتی۔

شائقین اور میڈیا کا ردعمل کارکردگی کو کس طرح متاثر کرتا ہے؟

سابق کپتان اور ٹیسٹ کرکٹر مصباح الحق نے شائقین کے ردعمل سے پڑنے والے اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی مثبت یا منفی بات جو آپ کو کہی جائے، اس کا آپ کی ذہنی صحت پر اثر ہوتا ہے۔

کچھ لوگ نفسیاتی طور پر مضبوط ہوتے ہیں اور وہ ان باتوں کے اثر سے جلد باہر آجاتے ہیں لیکن شکار سب ہوتے ہیں۔ ان چیزوں سے باہر نکلنے میں آپ کی دوگنی محنت لگتی ہے۔

'ٹک ٹک' کا نام دیے جانے پر ان کا کہنا تھا کہ 'ایسا بالکل ہوتا تھا کہ جب میں بیٹنگ کے لیے جاتا تھا تو وہ باتیں میرے ذہن پر اثر انداز ہوتیں تھیں۔ کبھی ڈپریشن بھی ہوا، کبھی ان باتوں نے مجھے یہ تاثر زائل کرنے میں مدد بھی دی۔'

انھوں نے تبصرہ کیا کہ اس کے واضح مثال موجودہ کرکٹر بابر اعظم اور امام الحق ہیں۔ بابر اعظم سے میڈیا نے سٹرائیک ریٹ کے متعلق غیر ضروری سوالات کیے جس کی وجہ سے اب وہ دباؤ میں کھیلتے ہوئے 'سافٹ ڈسملسز' کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بابر اعظم اور امام الحق

اسی طرح امام الحق کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے وہ بھی ایک ان کہے دباؤ کا شکار ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب بھی شائقین کا غیر ضروری ردعمل ہوتا تو کھلاڑی دباؤ میں آجاتا ہے، کھل کر نہیں کھیلتا، اپنی گیم کو انجوائے نہیں کرتا۔

'شائقین ہم سے محبت تو کرتے ہیں لیکن کسی کو کرکٹ کی سائنس کی سمجھ نہیں، وہ چاہتے ہیں شاہدی آفریدی اظہر علی کی طرح کھیلے اور اظہر علی شاہد آفریدی کی طرح، ہر کھلاڑی کا ٹیم کمبینشن میں اپنا کردار ہوتا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ غیر ضروری تنقید اور خاص کر مذاق اڑانے سے کھلاڑی کو سب سے زیادہ نقصان ہوتا ہے۔

شائقین کے ردعمل پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں ڈاکٹر جمیل کا کہنا تھا کہ کھلاڑی بھی ایک فنکار ہوتا ہے اورلوگوں کی تعریف اس کے لیے آکسیجن کی حثیت رکھتا ہے۔

’اگر شاباش کی جگہ ان کو کوسا جارہا ہے تو وہ ڈپریشن میں چلا جاتا ہے اور اگر کوئی کھلاڑی اپنی کارکردگی کو لے کر ذہنی دباؤ میں ہے تو اس کو چند ہفتوں کے لیے ٹی وی، اخبار، سوشل میڈیا سے دور رہنا چاہیے اور شائقین کے ردعمل پر دھیان نہیں دینا چاہیے۔‘

اسی بارے میں