سابق صدر آصف علی زرداری کی احتساب عدالت میں پیشی: ’ہم اتنے بھی کمزور نہیں ہیں صاحب‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سابق صدر آصف علی زرداری کو منی لانڈرنگ کے مقدمے میں جمعرات کو احتساب عدالت میں لایا گیا۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی عدالت میں جب اس مقدمے کی سماعت ہوئی تو ایک اور ملزم انور مجید کے صاحبزادے عبدالغنی مجید کو بھی نیب کے حکام نے عدالت میں پیش کیا۔

سماعت کے دوران آصف علی زرداری روسٹم پر آئے اور کہا کہ ’انور مجید دل کا مریض ہے اور اس کے دل کا صرف تیس فیصد حصہ کام کر رہا ہے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’جیل میں بھی انور مجید کو طبی سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہیں‘۔ اُنھوں نے کہا کہ نیب کے حکام انور مجید کو ہسپتال میں چھوڑ کر ان کے بچوں کو اُٹھا لائے۔

یہ بھی پڑھیے

آصف علی زرداری کو کن الزامات کا سامنا ہے؟

بےنامی کھاتے اور اکاؤنٹ ہوتے کیا ہیں؟

نیا نیب، پرانا ہیرا

آصف علی زرداری کی 18 ماہ بعد پاکستان واپسی

سابق صدر کے اس سوال پر احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے کہا کہ نیب ہیڈ کوارٹر کو ہسپتال منتقل نہ کردیں۔ اُنھوں نے کہا کہ نیب کے حکام جس کو بھی گرفتار کرتے ہیں تو وہ بیمار ہوجاتا ہے۔

احتساب عدالت کے جج کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص دو تین روز تک کمرے میں بند رہے تو وہ بیمار نہیں ہوگا لیکن اگر اس کو یہ معلوم ہو جائے کہ کمرے کو باہر سے کوئی تالہ لگا گیا ہے تو وہ بیمار ہو جائے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ اس مقدمے میں بھی ایسا ہی ہورہا ہے۔

آصف علی زرداری نے احتساب عدالت کے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ اور ہوں گے صاحب جو ڈر جاتے ہوں گے ہم اتنے بھی کمزور نہیں ہیں صاحب۔‘

سابق صدر کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے 13 سال قید تنہائی میں گزارے ہیں جس پر احتساب عدالت کے جج نے آصف علی زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سارے لوگ آپ جیسے بہادر نہیں ہوتے۔

اُنھوں نے کہا کہ کچھ لوگ شیروں سے بھی لڑ جاتے ہیں اور کچھ لوگ چھوٹے جانوروں سے بھی ڈرتے ہیں۔

آصف علی زرداری نے کسی وزیر اعظم کا نام لیے بغیر کہا کہ ’ایک وزیر اعظم تو چھپکلی سے بھی ڈرتا ہے‘۔

تاہم سماعت کے بعد جب صحافیوں نے سابق صدر سے اس وزیر اعظم کا نام پوچھا تو آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ وہ موجودہ وزیر اعظم ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ’عمران خان کو ایک دن کے لیے تھانے میں بند کرو اور پھر وہاں پر چھپکلی چھوڑ دو تو پھر دیکھنا وہ کیسے ٹھیک کام کرنا شروع کردے گا۔ ‘

سماعت کے دوران اسی مقدمے میں تین ملزمان کو ہتھکڑیاں لگا کر پیش کیا گیا جس پر آصف علی زرداری نے اعتراض کیا اور کہا کہ ان افراد کا تعلق پڑھے لکھے گھرانوں سے ہے۔

اُنھوں نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’مائی لارڈ ابھی تو یہ افراد ملزم ہیں اور یہ نہ تو ملک دشمن عناصر ہیں اور نہ ہی ڈکیت اور نہ ہی سماج دشمن‘۔ اس پر احتساب عدالت کے جج نے ایک واقعہ سنایا کہ ایک دفعہ ان کی عدالت میں تین ملزموں کو پیش کیا گیا تو انھوں نے اُنھیں سماج دشمن کہا جس پر ان افراد کا کہنا تھا کہ ’سر جی ہم سماج دشمن نہیں بلکہ آناج دشمن ہیں۔‘

احتساب عدالت کے جج کے اس جملے پر کمرہ عدالت میں ایک زوردار قہقہ لگا اور آصف علی زرداری بھی مسکرائے بغیر نہ رہ سکے۔

احتساب عدالت کے جج کے حکم پر ان تینوں ملزمان کی ہتھکڑیاں کھول دیں گئیں۔ نیب کے حکام کا موقف تھا کہ ان ملزموں کو ہتھکڑیاں اُنھوں نے نہیں بلکہ پولیس اہلکاروں نے لگائی ہیں۔

سماعت کے بعد آصف علی زرداری نے ان تینوں افراد کو تھپکیاں بھی دیں۔ بعدازاں نیب کے حکام ملزم آصف علی زرداری کو پارلیمنٹ ہاؤس لے گئے جہاں پر قومی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں