سندھ میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے بڑھتے واقعات اور ویکسین کی عدم دستیابی

کتا
Image caption صوبہ سندھ میں رواں برس کے پہلے پانچ ماہ میں 69 ہزار سے زیادہ کتے کے کاٹنے کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں

سندھ میں ساحلی ضلعے ٹھٹہ کے شہر ساکرو میں 14 سالہ کاشف سہراب کو جب کتے نے کاٹا تو ان کے والدین یہ سوچ کر ڈاکٹر کے پاس نہیں گئے کہ کتا پالتو ہے باؤلا یا آوارہ نہیں۔

لیکن چند ماہ بعد کاشف کی طبیعت بگڑنے لگی اور بروقت ویکسین نہ لگنے کے باعث وہ مر گیا۔

کاشف سہراب کے پڑوسی محمد اسلم نے بی بی سی کو ٹیلیفون پر بتایا کہ تقریباً نو ماہ قبل کاشف کو کتے نے کاٹا اور چند روز قبل جب اس کی حالت بگڑی تو والدین اسے مقامی مولوی کے پاس دم کروانے لے گئے۔ مولوی صاحب کے مشورے پر کاشف کو مقامی ہسپتال لے جایا گیا تو وہاں ویکیسن دستیاب نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیے

دلی کے بگڑے ہوئے آوارہ کتے

آوارہ کتوں کو بانجھ بنانے کی استدعا

انڈین سپریم کورٹ کا کتے مارنے والوں کےخلاف کارروائی کا حکم

بعد ازاں کاشف کے لواحقین اسے جناح ہپستال کراچی لے گئے جہاں اس کی موت واقع ہو گئی۔

جناح ہسپتال کے شعبۂ حادثات کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی نے بی بی سی کو بتایا کہ کاشف کو دو روز قبل تقریباً صبح چھ بجے ہسپتال لایا گیا تھا لیکن ایک، ڈیڑھ گھنٹے میں ہی اس کی موت واقع ہو گئی۔

’جناح ہسپتال میں اینٹی ریبیز ویکسین دستیاب ہے لیکن سندھ میں بالعموم اس کی قلت ہے۔ اس ویکسین کے ساتھ متاثرہ فرد کو ربیز امینوگبلن بھی لگنا چاہیے جو ہر جگہ دستیاب نہیں ہوتا۔ اس صورت حال میں خدشہ یہ ہوتا ہے کہ متاثرہ شخص کو ربیز ہو جائے گی۔‘

سندھ کے سب سے بڑے سرکاری ہپستال جناح پوسٹ گریجوئیٹ میں رواں برس کتے کے کاٹنے کے تقریباً چھ ہزار کیسز آ چکے ہیں جبکہ گذشتہ برس یہ تعداد ساڑھے سات ہزار کے قریب تھی۔

Image caption سندھ میں کتے کے کاٹنے کے سب سے زیادہ واقعات لاڑکانہ جبکہ سب سے کم کراچی ڈویژن میں پیش آئے

ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق اسی طرح کیسز آتے رہے تو ان کے ہسپتال میں بھی یہ ویکیسن ختم ہو جائے گی۔

محکمہ صحت سندھ کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس کے پہلے پانچ ماہ میں 69 ہزار سے زیادہ کتے کے کاٹے کے کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سب سے زیادہ واقعات لاڑکانہ اور سب سے کم کراچی ڈویژن میں رپورٹ ہوئے ہیں۔

لاڑکانہ ڈویژن میں کتے کاٹے کے کیسز کی تعداد 22 ہزار 822 ہے، حیدرآباد ڈویژن میں لگ بھگ 21 ہزار، شہید بینظیر آباد ڈویژن میں 12 ہزار سے زیادہ، میر پور خاص ڈویژن میں چھ ہزار 774 اور کراچی ڈویژن میں 320 واقعات پیش آئے ہیں۔

انڈیا نے ویکسین فراہم کرنے سے معذرت کیوں کی؟

پاکستان میں کتے کاٹے کی ویکیسن پڑوسی ممالک انڈیا اور چین سے درآمد کی جاتی ہے۔

تاہم اب انڈیا نے مزید ویکیسن فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

پنجاب اسمبلی میں حکمران جماعت کی صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد پچھلے دنوں بتا چکی ہیں کہ انڈیا اور چین نے اینٹی ریبیز ویکسین فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

یاسمین راشد کے مطابق انڈیا پاکستان کو آگاہ کر چکا ہے کہ ویکسین کی مقامی سطح پر طلب بڑھنے کی وجہ سے انڈیا اس ویکیسن کو مزید برآمد نہیں کر سکتا۔

عالمی ادارۂ صحت ڈبلیو ایچ او کے مطابق دنیا میں کتے کے کاٹے کے 36 فیصد کیسز انڈیا میں ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا پاکستان کو آگاہ کر چکا ہے کہ ویکسین کی مقامی سطح پر طلب بڑھنے کی وجہ سے انڈیا اس ویکیسن کو مزید برآمد نہیں کر سکتا ہے

انڈیا اینٹی ریبیز ویکسین پاکستان کے علاوہ بنگلہ دیش، ماینمار، ترکی اور افریقی ممالک کو برآمد کرتا ہے۔

جناح ہپستال کے شعبہ حادثات کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ چین کی ویکسین پر پاکستان کو اعتماد نہیں کیونکہ ویکسین جب تک ایف ڈی اے یعنی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن سے منظور شدہ اور عالمی ادارۂ صحت سے تصدیق شدہ نہ ہو تو تب تک وہ اس ویکسین استعمال کرنے سے کتراتے ہیں۔

سندھ کے ڈائریکٹر جنرل صحت ڈاکٹر مقصود کی جانب سے تمام ڈویژن کے کمشنروں کو خط تحریر کیا گیا ہے جس میں آوارہ کتوں کے معاملے سے نمٹنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ چند سال قبل جب بلدیاتی اداروں نے آوارہ کتوں کو تلف کرنے کی مہم کا آغاز کیا تھا تو ایک غیر سرکاری تنظیم نے اس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔ اس تنطیم کا کہنا تھا کہ کتوں کو زہر دیکر مارنے کی بجائے اس کی نس بندی کی جائے، جس کے بعد کراچی میں انڈس ہسپتال میں اس حوالے سے ایک منصوبے پر عملدر آمد جاری ہے۔

اسی بارے میں