پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا دعویٰ: نواز شریف کے بیٹوں نے دو دوست ممالک سے اپنے والد کو ریلیف دلوانے کی درخواست کی تھی

نواز شریف اور حسین نواز تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نواز شریف آج کل کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں جبکہ حسین نواز کو عدالت اشتہاری قرار دے چکی ہے

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیٹوں نے پاکستان کے دو دوست ممالک کے حکام سے رابطہ کر کے اپنے والد کو ریلیف دلوانے کی سفارش کرنے کی درخواست کی ہے۔

پیر کو نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کے ایک پروگرام میں انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان نے ان ممالک کا نام لیے بغیر کہا کہ ’دو ممالک کو انھوں نے پیغام بھجوائے، ان (نواز شریف) کے بیٹوں نے ان سے کہا کہ مجھ سے سفارش کریں، کسی طرح ان کو باہر بھجوا دیں۔‘

وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس پر ان ممالک کی جانب سے عمران خان سے رابطہ کیا گیا اور انھیں اس بارے میں بتایا گیا۔ ’انھوں نے کہا کہ سفارش آئی ہے لیکن ہمیں آپ کا پتا ہے۔ آپ کے اندرونی معاملات میں بالکل مداخلت نہیں کریں گے۔‘

ادھر مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے وزیراعظم کے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان ممالک کا نام ظاہر کریں جن سے مدد لینے کی کوشش کرنے کا الزام حسن اور حسین نواز پر لگایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

این آر او: کیا ’نہ‘ کا مطلب واقعی میں ’نہ‘ ہے؟

نواز شریف چپ تو مریم نواز کا ٹوئٹر خاموش کیوں؟

’یہ سوال کرتے ہیں، میں ان سے جواب مانگنے لگا ہوں‘

’فوج کی نرسری میں پلنے والے دوسروں کو سلیکٹڈ کیسے کہہ سکتے ہیں‘

برائے مہربانی انھیں ’سلیکٹڈ وزیرِاعظم‘ مت کہیں۔۔۔

وزیر اعظم عمران خان نے انٹرویو کے دوران یہ بھی کہا کہ 'این آر او کے لیے کسی کی سفارش نہیں چلے گی۔ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی جانب سے نواز شریف اور آصف علی زرداری کو دیے گئے این آر او نے ملک کو تباہ کر دیا اور بعد ازاں دونوں نے ایک دوسرے کو این آر او دیا۔'

تاہم ان کا یہ ضرور کہنا تھا کہ 'این آر او تو ہونا نہیں ہے، پلی بارگین ہو سکتی ہے۔ آصف زرداری مشکل میں ہیں تو پیسہ واپس کر دیں جبکہ نواز شریف بھی پیسہ واپس کریں اور علاج کے لیے بیرون ملک چلے جائیں۔'

وزیر اعظم عمران خان نے ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو ریلیف دینے کے لیے کسی قسم کے دباؤ سے متعلق کہا کہ ’ایسا پہلی مرتبہ ہے کہ پاک فوج، حکومت کے ایجنڈے اور منشور کے ساتھ کھڑی ہے، کوئی ملک سے فرار نہیں ہو سکتا اور نہ کوئی سفارش کام آئے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PTV
Image caption عمران خان نے کہا کہ این آر او کے لیے کسی کی سفارش نہیں چلے گی

انھوں نے منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت گرفتار یا سزا یافتہ سیاست دانوں کی جیل میں سہولتیں ختم کرنے پر بھی بات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں وزارت قانون کو کہہ چکا ہوں کہ منی لانڈرنگ کرنے والوں کو عام جیل میں ڈالا جانا چاہیے اور جلد ہی اس حوالے سے قانون سازی کی جائے گی۔'

عمران خان کا کہنا تھا کہ 'ان منی لانڈررز کو علم ہونا چاہیے کہ ملک میں عام مجرم کے ساتھ کیسا سلوک ہوتا ہے۔‘

وزیر اعظم کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سینیئر رکن اور سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری طرف سے کسی قسم کی کوئی سفارش کبھی بھی کسی کے ذریعے سے کسی کو نہیں کی گئی۔ ہمارے مقدمات عدالتوں میں ہیں اور ہم ان کا سامنا بھی وہیں کر رہے ہیں۔‘

نامہ نگار عماد خالق سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’وزیر اعظم کی مہربانی ہوگی کہ وہ ان دو ممالک کے نام بھی بتا دیں تاکہ ہم اپنا احتجاج کسی جگہ پر ریکارڈ کروا سکیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انھوں نے مزید تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’وزیر اعظم کے پاس پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق کوئی ایسا اختیار نہیں کہ وہ عدالتی فیصلوں کو تبدیل کر سکیں یا عدالتی فیصلوں کے برعکس اپنے کسی حکم نامے کے ذریعے کسی کو رہا کر سکیں۔ جب ان کے پاس ایسی کوئی طاقت ہے ہی نہیں تو پھر ان سے سفارش کروانا غیر ضروری ہی سمجھا جا سکتا ہے۔‘

وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے متعدد بار مسلم لیگ ن کی قیادت پر این آر او مانگنے کے الزامات پر بات کرتے ہوئے پرویز رشید کا کہنا تھا کہ وہ جس تکرار سے یہ بات کہتے ہیں تو پھر انھیں یہ تسلیم کر لینا چاہیے پاکستان میں کوئی عدالتی نظام موجود نہیں ہے اور جتنی انتقامی کارروائیاں نواز شریف کے ساتھ کی جا رہی ہیں اس کی ذمہ داری وہ خود قبول کر لیں۔

پلی بارگین کی آپشن کے سوال کے جواب میں پرویز رشید کا کہنا تھا کہ ابھی تک نیب نے نواز شریف پر پاکستان سے اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے کسی بدعنوانی کا نہ تو مقدمہ درج کیا ہے نہ ہی الزام لگایا ہے۔

’انھیں جس مقدمہ میں سزا سنائی ہے اس میں جج نے واضح کیا ہے کہ ان پر بدعنوانی کا کوئی الزام نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پلی بارگین وہاں پر ہوتا ہے جہاں پر بدعنوانی کا یا قومی خزانے سے رقم کے حصول کا معاملہ ہو۔ نواز شریف پر آج تک نہ کوئی مقدمہ درج کیا گیا ہے اور نہ ہی ایسا کوئی الزام لگا ہے۔

اسی بارے میں