کل جماعتی کانفرنس کی رہبر کمیٹی: نو جولائی کو سنجرانی کے خلاف قرارداد، 25 جولائی کو یومِ سیاہ

کل جماعتی کانفرنس
Image caption پاکستان میں حزبِ اختلاف کی کُل جماعتی کانفرنس میں بننے والی 'رہبر کمیٹی' کا پہلا اجلاس آج آسلام آباد میں منعقد ہوا

پاکستان میں حزبِ اختلاف کی کُل جماعتی کانفرنس میں بننے والی ’رہبر کمیٹی‘ کا پہلا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کے فیصلے کی توثیق کی گئی اور یہ طے پایا کہ 11 جولائی کو نئے چییرمین سینیٹ کے نام کا اعلان کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں حزبِ اختلاف کے ممبران نے خیبر پختونخوا میں حال ہی میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع میں انتخابات کے دوران پولنگ سٹیشن پر فوج کی تعیناتی کے خلاف الیکشن کمیشن کو خط بھیجا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اپوزیشن سینیٹ چیئرمین کو کیوں ہٹانا چاہتی ہے؟

آل پارٹیز کانفرنس:’حکومت ملکی سلامتی کے لیے خطرہ‘

کسی کے خلاف نہیں پاکستان کے حق میں جمع ہوئے: بلاول

آج کے اجلاس کی میزبانی خیبر پختونخوا اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے لیڈر اکرم خان درانی نے کی جس میں موجودہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے، چیئرمین سینیٹ کو عہدے سے ہٹانے، اور کمیٹی کے سربراہ کو منتخب کرنے پر تجاویز دینے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔

چیئرمین سینیٹ کے خلاف قرارداد، یومِ سیاہ

اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اکرم درانی نے کہا کہ ’رہبر کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر دو ماہ بعد سربراہی کے لیے ہر جماعت سے کمیٹی کا کنوینیر منتخب کیا جائے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’نو جولائی کو چیئرمین سینٹ کے خلاف قرارداد جمع کرائیں گے۔ اور 11 جولائی کو چییرمین سینیٹ کے امیدوار کا اعلان کریں گے۔ اور اُسی دن رہبر کمیٹی کا اجلاس پھر منعقد کیا جائے گا۔‘

رہبر کمیٹی نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ 25 جولائی کو یومِ سیاہ منایا جائے گا۔ اس دن پاکستان بھر میں عام انتخابات ہوئے تھے جس کے نتیجے میں موجودہ حکومت ایوانوں میں آئی تھی۔ جلسوں کی تیاری کے لیے صوبائی سطح پر کوآرڈینیشن کمیٹیاں بھی بنائی جائیں گی۔

Image caption حزبِ اختلاف نو جولائی کو چیئرمین سینٹ کے خلاف قرارداد جمع کروائے گی جبکہ 11 جولائی کو نئے امیدوار کا اعلان کرے گی

ساتھ ہی پریس کمیٹی ممبران نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی اداروں کے ’ملک کے دیگر معاملات میں مداخلت‘ پر بھی اعتراض کیا۔

’نیا سیاسی ڈھانچہ تشکیل دیا جا رہا ہے‘

اکرم خان درانی نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ملک میں نئے سیاسی ڈھانچے کی تشکیل ہو رہی ہے جس پر تمام ممبران نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے نظام کے خلاف مزاحمت کی جائے گی۔

ساتھ ہی انھوں نے قومی اسمبلی کے دو ممبران علی وزیر اور محسن داوڑ کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کے حوالے سے کہا کہ ’ان دونوں ممبران کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ حزبِ اختلاف نے سابق قبائلی علاقوں میں انتخاب کے دوران پولنگ سٹیشن پر فوج تعینات کرنے کے فیصلے کو مسترد کیا ہے۔

چیئرمین سینیٹ کے انتخاب پر بات چیت

اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں اجلاس شروع ہونے سے قبل تمام اراکین کو فرنٹ ڈیسک پر ان کے فون جمع کرانے کا کہا گیا جبکہ شریک رہنماؤں سے اجلاس کی کارروائی کی رازداری کا حلف بھی لیا گیا۔

آج اجلاس کے دوران جمعے کی نماز کا وقفہ لیا گیا جس کے ختم ہونے پر مسلم لیگ نواز کے سینیئر ارکان باقی رہنماؤں کا انتظار کرتے ہوئے صحافیوں کے ساتھ آ کر بیٹھ گئے۔

Image caption رہبر کمیٹی کا اجلاس شروع ہونے سے قبل تمام اراکین کے موبائیل فون جمع کیے گئے اور ان سے رازداری کا حلف بھی لیا گیا

غیر رسمی بات چیت کے دوران انھوں نے بتایا کہ ’اس وقت تین باتیں زیرِ غور ہیں۔ نئے چیئرمین سینیٹ کا امیدوار سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کا ہونا چاہئے، دو بڑی جماعتوں کے تجویز کردہ شخص کو متفقہ امیدوار نامزد کیا جائے یا پھر تمام اپوزیشن جماعتیں مل کر ایسا امیدوار لائیں جس پر کسی کو اعتراض نہ ہو۔‘

ایک صحافی نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رضا ربانی کا نام دہرایا جس پر لیگی رہنما نے نفی میں جواب دیا۔

یاد رہے کہ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے دوران تمام جماعتیں رضا ربانی کے نام پر متفق تھیں لیکن ان کی اپنے جماعت کے شریک چییرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری صادق سنجرانی کے انتخاب کے لیے پیش پیش تھے۔

قبائلی اضلاع میں انتخابات: فوج کی تعیناتی کے خلاف الیکشن کمیشن کو خط

پریس کانفرنس کے دوران بتایا گیا کہ فاٹا میں 20 جولائی کو ہونے والے انتخابات فوج کی زیر نگرانی کروانے کے خلاف چیف الیکشن کمیشن کو کُل جماعتی کانفرنس میں شامل نمائندہ جماعتوں کی جانب سے خط لکھا گیا ہے۔

اس خط پر حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے نمائندوں کے دستخط بھی لیے گیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

خط کے متن کے مطابق، الیکشن کمیشن پولنگ سٹیشن کے اندر فوج کی تعیناتی کا اعلامیہ واپس لے۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ فاٹا میں انتخابات کے دوران فوج کی تعیناتی کے بارے میں سیاسی جماعتوں سے مشاورت نہیں کی گئی جس کے نتیجے میں انتخابات کے شفافیت پر سوال اٹھیں گے۔

خط کے ذریعے سیاسی جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولنگ سٹیشن کے اندرونی معاملات کی ذمہ داری پریزائڈنگ افسران کو دی جائے جو بنیادی طور پر انہی کا ذمہ ہے۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ لوگ ووٹ دینے کے لیے بلا کسی خوف جا سکیں۔

رہبر کمیٹی کیا ہے؟

حزبِ اختلاف کی نو جماعتوں پر مبنی رہبر کمیٹی کے گیارہ اراکین ہیں جو آج اجلاس میں شامل ہوئے۔ کمیٹی میں مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے دو، دو جبکہ دیگر جماعتوں سے ایک، ایک رکن کو شامل کیا گیا ہے۔

حال ہی میں اسلام آباد میں کُل جماعتی کانفرنس کا انعقاد جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں ہوا جس میں حزبِ اختلاف کی تمام جماعتوں نے شرکت کی۔

کانفرنس میں تمام جماعتوں نے چییرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ان کے عہدے سے ہٹانے پر اتفاق کیا۔ جس کے نتیجے میں ایک کمیٹی بنانے پر اتفاق ہوا جو چییرمین سینیٹ کا متبادل ڈھونڈنے میں تجاویز دے گی۔ اس کمیٹی کا نام رہبر کمیٹی رکھا گیا۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی رہبر کمیٹی کی سربراہی میں دلچسپی رکھتی ہے۔جبکہ مسلم لیگ چاہتی تھی کہ رہبر کمیٹی کی سربراہی بھی مولانا فضل الرحمان ہی کریں۔ لیکن مشاورت کے بعد یہ طے پایا کہ نو جماعتوں سے ہر دو ماہ بعد ایک رکن کو سربراہی کے لیے منتخب کیا جائے گا۔

اسی بارے میں