مریم نواز نے نواز شریف کو جیل بھیجنے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی انکشافات پر مبنی ویڈیو جاری کر دی

مریم نواز تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سنیچر کو سابق وزیراعظم کی صاحبزادی اور مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پاناما مقدمے میں نواز شریف کو جیل بھیجنے والے جج ارشد ملک پر ’نامعلوم افراد‘ کی طرف سے دباؤ تھا۔

پریس کانفرنس میں مسلم لیگ ن کی جانب سے جج ارشد ملک کی ایک لیگی کارکن ناصر بٹ کے ساتھ ایک ویڈیو جاری کی جس میں جج فیصلہ لکھنے سے متعلق کچھ ’نامعلوم افراد‘ کی طرف سے دباؤ کے بارے میں بتا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ @reportpemra
Image caption پیمرا کی جانب سے نجی ٹی وی چینلز کو نوٹسز جاری کرنے کے بارے میں ٹویٹ

رات گئے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے نجی ٹی وی چینلز کو مریم نواز کی پریس کانفرنس براہ راست نشر کرنے پر نوٹسز جاری کیے ہیں۔ پیمرا کی جانب سے یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ عدلیہ اور ریاستی اداروں کے خلاف یہ پریس کانفرنس دکھانا پیمرا کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مریم نواز اور بلاول حکومت مخالف تحریک پر متفق

’ایسا تو 1999 میں بھی نہیں ہوا جیسا اب کیا جا رہا ہے‘

پریس کانفرنس میں کیا ہوا؟

پریس کانفرنس میں مریم نواز کا کہنا ہے کہ ’جس جج کے فیصلے کے مطابق نوازشریف 7 سال کی سزا کاٹ رہے ہیں وہ خود ہی اپنے جھوٹے فیصلے کی خامیوں پر سے پردہ اٹھا رہے ہیں۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق پریس کانفرنس کے دوران مریم نواز نے جج ارشد ملک اور لیگی کارکن ناصر بٹ کی گفتگو پر مبنی ویڈیو چلا دی اور کہا کہ یہ ’ویڈیو دیکھیں اور آپ خود فیصلہ کریں۔‘

مریم نواز نے کہا کہ جج نے ناصر بٹ کو بتایا کہ ’کچھ لوگوں نے مجھے کسی جگہ پر بلایا۔ میرے سامنے چائے رکھی اور سامنے سکرین پر ایک ویڈیو چلا دی۔ وہ لوگ اٹھ کر باہر چلے گئے اور تین چار منٹ بعد واپس آئے تو ویڈیو ختم چکی تھی، انھوں نے مجھ سے پوچھا کوئی مسئلہ تو نہیں ہے ناں؟ کوئی بات نہیں ایسا ہوتا ہے۔‘

مریم نواز کے مطابق گفتگو کے دوران جج ناصر بٹ کو بتا رہے ہیں کہ وہ لوگ خود کشی کے علاوہ کوئی رستہ بھی نہیں چھوڑتے اور ایسا ماحول بنا دیتے ہیں کہ بندہ اس جگہ پر ہی چلا جاتا ہے جہاں پر وہ لے کر جانا چاہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ناقابلِ تردید ثبوتوں کے سامنے آنے کے بعد عدلیہ اور مقتدر ادارے نوٹس لیں اور اس کے بعد نواز شریف کے جیل میں رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے

مریم نواز کی طرف سے جاری ویڈیو میں جج ناصربٹ نامی لیگی کارکن کو بتا رہے ہیں کہ جج نے یہ بھی بتایا کہ ’میں خود حیران ہوں یہ تو کوئی 10، 15 سال پرانی ویڈیو تھی اور مواد بھی وہی تھا۔ ہر بندے کا میٹرئیل انھوں نے رکھا ہوتا ہے۔‘

مریم نواز نے مطالبہ کیا ہے کہ ان ’ناقابلِ تردید ثبوتوں کے سامنے آنے کے بعد اعلٰی عدلیہ اور مقتدر ادارے نوٹس لیں اور اس کے بعد نواز شریف کے جیل میں رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔‘

مریم نواز نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر اس کے بعد بھی کوئی سازش ہوئی تو ان کے پاس اس سے بھی زیادہ ثبوت موجود ہیں جس میں لوگوں کے نام بھی ہیں۔ مریم نواز نے کہا ’میں نے گذشتہ پریس کانفرنس میں یہ وعدہ کیا تھا کہ میں نواز شریف کو مرسی نہیں بننے دونگی، میں آخری حد تک جاؤنگی۔‘

انھوں نے کہا کہ ٹرائل کے دوران احتساب عدالت میں ایسے ایسے واقعات ہوئے کہ جب کچھ لوگوں سے کیمرے پر پوچھا گیا کہ وہ کون ہیں تو پھر آگے سے وہ منھ چھپا کر نکل گئے تھے۔

ناصر بٹ کے بارے میں مریم نواز نے بتایا کہ وہ جج ارشد ملک کے پرانے جاننے والے ہیں۔ مریم نواز کے مطابق جج نے العزیزیہ فیصلے کے بعد خود ناصر بٹ سے رابطہ کیا اور ان سے کہا کہ فیصلے کے حوالے سے وہ انہیں چند حقائق بتانا چاہتے ہیں کیونکہ ان کا ضمیر ملامت کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ویڈیو دیکھیں اور آپ خود فیصلہ کریں

’اس کے بعد انھوں نے اپنی گاڑی بھجوا کر ناصر بٹ کو اپنے گھر بلوایا اور وہاں ملاقات میں انہیں العزیزیہ کیس کے حوالے سے حقائق بتائے جو کہ لکھوائے گئے۔‘

عمر دراز ننگیانہ کے مطابق ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جج ارشد ملک ایک صاحب کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کر رہے ہیں جس میں وہ بتا رہے ہیں کہ نواز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ اور ذرائع سے زائد اثاثہ جات کے کوئی ثبوت موجود نہیں تھے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ پاناما سے جو سفر شروع ہوا وہ آج بھی جاری ہے۔ سزاؤں کے نتیجے میں نوازشریف 70 سال کی عمر میں قید میں ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ ’جج نے لیگی رکن ناصر کو کہا کہ ضمیر ملامت کر رہا ہے ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔ ناصر آپ گھر آ جائیں اور نوازشریف کو بتا دیں کہ وہ بے گناہ ہیں۔‘

’جج نے ناصر بٹ کو بتایا کہ نوازشریف پر کوئی الزام ہے نہ ہی کوئی ثبوت ہے۔‘

مریم نواز کہتی ہیں کہ جج نے کہا ’نوازشریف پر کوئی کرپشن ،کک بیک ،غیر قانونی الزام بھی نہیں تھا اور انھیں ثبوت بھی نہیں ملے، کوئی ثبوت نہیں ملا کہ حسین نواز ایک روپیہ بھی پاکستان سے بیرون ملک لے کر گیا ہو۔ منی لانڈرنگ کے ثبوت میں کوئی حقیقت نہیں صرف الزامات لگائے گئے۔ حسین نواز کے متعلق کوئی ثبوت نہیں ملا کہ پیسے سعودی عرب میں بھجوائے گئے۔

’جج نے بتایاکہ کوئی شہادت نہیں ملی کہ پراپرٹی نوازشریف کے پیسوں سے خریدی گئی۔ جج کا کہنا تھا کہ چیزوں کا فیصلہ ہوا ہوتا ہے، پریشر ہوتا ہے اور کوئی کچھ کر ہی نہیں کر سکتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جج نےلیگی رکن ناصر کو کہا کہ ضمیر ملامت کر رہا ہے ڈراؤنے خواب آتے ہیں

اس پریس کانفرنس میں مریم نواز کے ساتھ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف، سابق وزیراعظم شاید خاقان عباسی اور خواجہ آصف سمیت متعدد پارٹی رہنما بھی بیٹھے ہوئے تھے۔

مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف کا پریس کانفرنس سے خطاب میں کہنا تھا کہ ’نوازشریف کو ٹرائل کورٹ میں سزا دی گئی اس پر بد ترین ناانصافی ناقابل تردید شواہد کے ساتھ سامنے آئی ہے۔ امید ہے کہ شواہد کے بعد عدالت عظمیٰ مقتدر ادارے نواز شریف کو انصاف ضرور دلوائیں گے۔‘

وزیر اعظم عمران خان کی مشیر برائے اطلاعات فردوش عاشق اعوان کا اپنے ردعمل میں کہنا ہے کہ وہ ان الزامات کو مسترد کرتی ہیں اور مریم نواز میڈیا میں عدالت لگانے کی بجائے اگر ان کے پاس ثبوت ہیں تو عدالت میں جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے جو ویڈیو دکھائی ہے اس کا فارنزک آڈٹ ہونا چاہیے تاکہ حقیقت سامنے آئے۔

وزیر اطلاعات پنجاب سید صمصام علی بخاری نے اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ مریم بی بی کی گفتگو اعلی عدلیہ پر الزام تراشی اور بہتان انگیزی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس پریس کانفرنس کے سکرپٹ رائٹر کو ایوارڈ سے نوازا جانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ من پسند فیصلوں کے لیے شہباز شریف کی گفتگو کے ٹیپ ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ ’شہباز شریف نے کرسی مریم بی بی کو پیش کر کے بہت سے سوالوں کے جواب دے دئیے ہیں۔‘انھوں نے کہا کہ ’حیرانی اس بات پر ہے کہ گفتگو کی بتائے بغیر موبائل سے کیوں وڈیو بنائی گئی،ایسے ہتھکنڈوں سے کام نہیں چلے گا, مال واپس کرنا ہو گا۔‘

اسی بارے میں