ججز کی ویڈیوز، آڈیوز اور تاریخی اعترافات

بھٹو تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ججز کی اعترافی ویڈیوز اور آڈیوز نئی بات نہیں ہے

سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سات سال تک جیل بھیجنے والے جج کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تو انھوں نے اتوار کو یعنی چھٹی والے دن صحافیوں کو بلایا اور ایک تردیدی پریس ریلیز تھما دی۔ اس وقت میڈیا میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی یہ ویڈیو موضوع بحث ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے اعلان کیا کہ تحریک انصاف کی حکومت اس ویڈیو کا فورنزک آڈٹ کرائے گی۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کی تنقید اپنی جگہ لیکن پریس ریلیز جاری کرنے کے بعد جج ارشد ملک اپنے عدالتی فرائض سر انجام دے رہے ہیں اور وہ اس وقت آصف زرداری کے خلاف جعلی بینک اکاؤنٹس سے متعلق ایک ریفرنس پر بھی سماعت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تاہم پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ججز کی ایسی ویڈیوز اور آڈیوز نئی بات نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی ایسی ویڈیوز، آڈیوز یا اعترافی بیانات سامنے آئے جن کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک جج کو کس طرح کی مشکلات یا دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔

مزید پڑھیے

جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کی قانونی حیثیت کیا ہے؟

ویڈیو سکینڈل: ’یہ چیئرمین نیب کے خلاف پراپیگنڈا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چیئرمین نیب ویڈیو سکینڈل پر مزید کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی

جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا ویڈیو سکینڈل

کچھ عرصہ قبل چیئرمین قومی احتساب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی ایک ویڈیو ٹی وی ون پر نشر ہوئی جس میں وہ ایک خاتون سے گفتگو کررہے ہیں۔ اس ویڈیو پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے چیئرمین نیب نے ویڈیو کو جعلی تو نہیں کہا لیکن اسے بلیک میلنگ کی کوشش ضرور قرار دیا۔ تاہم اس ویڈیو پر مزید کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی نہ ہی حکومت کی طرف سے فورنزک آڈٹ کی پیشکش ہوئی۔

ٹی وی چینل کے مالک ایم طاہر چونکہ وزیر اعظم کے معاون کے عہدے پر فائز تھے تو سابق صدر آصف زرداری نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کی حکومت نیب چیئرمین کو بلیک میل کر رہی ہے۔ تاہم عمران خان نے غیر جانبداری کا تاثر برقرار رکھنے کے لیے ٹی وی چینل کے مالک کو اس ویڈیو کی پاداش میں اپنے معاون کے عہدے سے برطرف کردیا۔

چیئرمین نیب کی اس ویڈیو کا میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا پر خوب چرچا رہا۔ تنقید اور استعفیٰ دے کر گھر جانے کے مطالبے کے باوجود چیئرمین نیب اپنی صفائی میں ایک پریس ریلیز جاری کرنے کے بعد احتسابی عمل سے متعلق ابھی بھی اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ASIF HASSAN

سابق جج ملک قیوم کی ٹیلیفونک گفتگو کی آڈیو لیک

ملک قیوم لاہور ہائی کورٹ کے جج تھے۔ پاکستان کے متعدد کرکٹ کھلاڑیوں کی مبینہ میچ فکسنگ سے متعلق انکوائری بھی انھوں نے کی تھی۔

یہ نواز شریف کا دوسرا دور حکومت ہے۔ نیب سے پہلے احتساب سے متعلق قائم کیے گئے احتساب کمیشن کے سربراہ سیف الرحمان تھے جو آصف زرداری اور بینظیر بھٹو کے خلاف سوئس مقدمات پر تفتیش کر رہے تھے۔

احتساب قانون کے تحت بننے والی احتساب عدالتیں ہائی کورٹ کے دو ججوں پر مشتمل ہوتی تھیں اور جسٹس قیوم اور جسٹس نجم الحسن پر مشتمل بینچ بینظیر بھٹو اور آصف زردای کے خلاف ایس جی ایس کوٹیکنا مقدمے کی سماعت کر رہا تھا۔

سیف الرحمان اور جسٹس ملک قیوم کی ایس جی ایس کوٹینکا مقدمے میں بینظیر بھٹو اور آصف زراری کے مقدمات پر فون پر گفتگو ہوئی۔

سیف الرحمان جو بعد میں مسلم لیگ نواز کے سینیٹر بھی رہے فون پر جج کو سزا دینے سے متعلق اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی ہدایات پہنچا رہے تھے۔

اس گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تو احتساب کے عمل پر کئی سوالات اٹھ گئے۔

آڈیو آنے کے وقت بینظیر بھٹو اور آصف زردای کی اپیل سپریم کورٹ میں سنی جانی تھی۔ جب بینظیر بھٹو اور آصف زرداری نے اسے عدالت کے سامنے پیش کیا تو عدالت نے آڈیو کی تفصیلات میں جانے کے بجائے اسے ریکارڈ پر تو رکھ لیا لیکن مقدمے کو ریمانڈ کرنے کا فیصلہ دوسرے قانونی نکات پر دیا۔

جب سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس قیوم اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس راشد عزیز کی جانب سے آڈیو کی وضاحت کے لیے کارروائی کا آغاز کیا تو دونوں ججوں نے مستعفیٰ ہونے کو ترجیح دی۔

پاکستانی قانون اور عدالتی روایات کے مطابق جب کوئی جج مواخذے سے پہلے استعفیٰ دے دیتا ہے تو پھر اسے پنشن اور دیگر مراعات زندگی بھر ملتی رہتی ہیں بصورت دیگر اگر اس کا جرم ثابت ہوجائے تو وہ برطرفی کے ساتھ ہی تمام مراعات سے بھی محروم کردیا جاتا ہے۔

ملک قیوم نے اس بڑے سکینڈل سے بچنے کے بعد وکالت شروع کردی اور پرویز مشرف کے فوجی دور حکومت میں اٹارنی جنرل کے عہدے پر بھی فائز رہے۔

’بھٹو کی پھانسی کا فیصلہ دباؤ میں دیا‘

پاکستان کے سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ سپریم کورٹ کے اس بینچ کا حصہ تھے جس نے پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اور ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو نے الزام عائد کیا کہ ججز نے فوجی آمر ضیاالحق کے دباؤ میں آکر بھٹو کی پھانسی کا فیصلہ دیا۔

بھٹو کی پھانسی کے کئی برس گزر گئے تو جسٹس نسیم حسن شاہ نے جیو ٹی وی کے پروگرام ’جوابدہ‘ میں اعتراف کیا کہ بھٹو کو پھانسی دینے کا فیصلہ دباؤ میں دیا گیا تھا۔ انھوں نے اپنے ضمیر کی ملامت سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ججز کو کچھ معاملات میں فوج کی بات ماننی پڑتی ہے۔ نسیم حسن شاہ پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے سسر بھی تھے۔

اس اعتراف کے بعد جب پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی تو آصف زرداری نے بحثیت صدر پاکستان سپریم کورٹ کو ایک ریفرنس بھیجا جس میں ججز سے یہ کہا گیا تھا کہ بھٹو مقدمے کا ازسر نو جائزہ لیا جائے۔ بھٹو تو واپس نہیں آسکتے تھے لیکن شاید ان کی جماعت تاریخ کی درستگی چاہتی تھی۔ اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ابتدائی سماعتوں کے بعد اس صدارتی ریفرنس پر سماعت ملتوی کردی اور پھر اس کے بعد کبھی اس مقدمے کی باری ہی نہیں آئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شوکت صدیقی نے سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے

’آئی ایس آئی نے نواز شریف، مریم نواز کے خلاف فیصلہ دینے کو کہا‘

شوکت عزیز اسلام آباد ہائی کورٹ میں سینئر جج کے عہدے پر فائز تھے۔ راولپنڈی بار کونسل سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے الزام عائد کیا کہ آئی ایس آئی کے جنرل فیض حمید (موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی) ان کے گھر آئے۔ ’مجھ سے انھوں نے نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 25 جولائی 2018 کے عام انتخابات سے قبل ضمانت نہ دینے سے متعلق کہا اور ساتھ یہ آفر دی کہ اگر آپ ایسا کر دیتے ہیں تو پھر ہم آپ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنا دیتے ہیں۔‘

شوکت صدیقی کے مطابق انھوں نے انکار کر دیا تو ان کے خلاف دباؤ بڑھا دیا گیا۔ شوکت صدیقی کی اس تقریر پر آئی ایس آئی نے سپریم جوڈیشل کونسل کو درخواست کی تو کچھ دن کے اندر اندر ہی شوکت صدیقی کو ان کے عہدے سے برطرف کردیا گیا اور ان کی طرف سے عائد کیے گئے الزامات پر چھان بین سے متعلق مزید کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

مزید پڑھیے

اصغر خان کیس کے فیصلے میں کیا ہے؟

’سسر نے بحال کیا تو داماد نے نااہل‘

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کون ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کو بغیر اجازت کتاب لکھنے پر جی ایچ کیو کی طرف سے انضباطی کارروائی کا سامنا ہے

’آئی ایس آئی اور ایم آئی نے انتخابی دھاندلی کی‘

یہ افتخار محمد چودھری کی عدالت ہے۔ وہ پرویز مشرف کے دور میں دو بار معطل ہونے کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے پر بحال ہوگئے تھے۔ انھوں نے لاپتہ افراد کے متعدد مقدمات سمیت سپریم کورٹ کے سامنے دو دہائیوں سے زیادہ وقت زیر التوا رہنے والے اصغر خان کی سماعت بھی شروع کردی۔

اصغر خان نے الزام عائد کیا تھا کہ 1990 کے انتخابات میں فوج نے پاکستان پیپلز پارٹی کی شکست کو یقینی بنانے کے لیے دھاندلی کرائی تھی۔ پیٹیشن کے مطابق آئی ایس آئی اور ایم آئی نے من پسند سیاستدانوں کے درمیان پیسے بھی تقسیم کیے۔

اس مقدمے میں کسی سیاسی رہنما نے پیسے لینے سے متعلق تصدیق نہیں کی لیکن سابق آرمی چیف اسلم بیگ اور آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سابق سربراہ اسد درانی عدالت میں پیش ہوئے اور ابتدائی سماعتوں کے بعد انھوں نے عائد کیے گئے الزامات کو درست تسلیم کرلیا۔ دونوں جرنیلوں نے تحریری طور پر بھی اپنے اعترافی بیانات سپریم کورٹ میں جمع کرائے۔

عدالت نے مزید کارروائی کے لیے مقدمہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو بھیج دیا لیکن اس پر ابھی تک کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ ایک بند فائل کی مانند یہ مقدمہ ایک میز سے دوسری کا سفر ہی طے کررہا ہے۔

اسی بارے میں