کارگل جنگ کے پاکستانی رضاکار کی یادداشتیں: ’برف پوش پہاڑوں پر پھنسے جنگجوؤں کو رسد پہنچائی‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
کارگل کی لڑائی میں فوج کا ساتھ دینے والے رضاکار کی یادیں: 'مجھے نہیں پتا یہ جنگ کیوں لڑی گئی'

'مئی 1999 میں میں گلگت کے جنوب مشرق میں واقع گاؤں جگلوٹ سے گزر رہا تھا تو میں نے وہاں چند لوگوں کو شاہراہِ قراقرم پر جمع ہو کر پاکستانی فوج کے حق میں نعرے بازی کرتے دیکھا۔ میں نے ایک مقامی ہسپتال میں درجنوں شہریوں کو بھی دیکھا جو وہاں پہاڑوں سے نیچے لائے گئے افراد کو خون دینے کے لیے جمع تھے۔'

گل شیر (نام تبدیل کر دیا گیا ہے) اب اپنی عمر کے پانچویں دہائی میں ہیں مگر انھیں اب بھی یاد ہے کہ وہ تقریباً 20 سال قبل انڈیا اور پاکستان کے مسلح تنازعے کے عروج پر کارگل سے لائے گئے زخمیوں اور ہلاک افراد کو دیکھ کر کتنے افسردہ ہوئے تھے۔

اپریل 1999 میں کارگل قصبے کے قریب لائن آف کنٹرول کے ساتھ ساتھ گشت کرنے والے انڈین سپاہیوں پر پہاڑوں کے اوپر سے فائرنگ کی گئی۔ چند دن بعد انڈین فوج کو معلوم ہوا کہ لائن آف کنٹرول سے انڈین کی طرف واقع وہ چند چوکیاں جو انھوں نے خراب موسم کی وجہ سے خالی کر دی تھیں، اب ان پر پاکستان سے آنے والے مسلح افراد نے قبضہ کر لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

’کارگل میں جس چیز نے پانسا پلٹا وہ بوفورز توپیں تھیں‘

پاکستانی فوجی جس کی بہادری کا دشمن بھی قائل ہوا

’کارگل کی ذمہ داری کبھی کسی پر عائد نہیں کی جائے گی‘

انڈین حکام کو بعد میں یہ احساس ہوا کہ خالی چوکیوں پر قبضہ کرنے والے زیادہ تر لوگ پاکستانی فوج کی ناردرن لائٹ انفینٹری (این ایل آئی) کے تربیت یافتہ سپاہی تھے۔ ردِعمل میں انڈین حکومت نے انھیں علاقے سے نکالنے کے لیے ایک بڑی فوجی کارروائی شروع کر دی جو کہ تقریباً تین ماہ تک جاری رہی۔

کارگل تنازعے کے دوران گل شیر پاکستانی فوج کے ساتھ عوام میں ایک محرک اور رضاکار کے طور پر شامل تھے۔ ان کے آباواجداد صدیوں قبل سرینگر سے گلگت ہجرت کر گئے تھے مگر ان کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر کے ساتھ ان کا اب بھی گہرا تعلق ہے۔

Image caption گل شیر کہتے ہیں کہ انڈین فوج کے پاس زبردست وسائل تھے، ان کی سڑکیں بہتر تھیں اور اسلحہ بردار ٹرک باآسانی نقل و حرکت کر رہے تھے

وہ کہتے ہیں کہ 'اس دن میں نے فیصلہ کیا کہ میں لوگوں کو ہمارے ساتھ شامل ہونے اور انڈیا کے خلاف فوج کا ساتھ دینے کی ترغیب دوں گا۔'

گل شیر نے پاکستانی فوج سے 1987-88 میں عسکری تربیت حاصل کی۔ بعد میں انھوں نے پاکستانی فوج کی ایک جانباز فورس نامی مجاہد رجمنٹ میں شمولیت اختیار کر لی جسے دورانِ جنگ دوسری دفاعی صف کے طور پر فوج کی مدد کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

پانچ سال بعد انھیں طبی بنیادوں پر فوج سے ریٹائرمنٹ لینی پڑی مگر گل شیر کہتے ہیں کہ جب کارگل تنازع شروع ہوا تو انھوں نے اس امید کے ساتھ فوج کا ساتھ دینے کی ٹھانی کہ شاید سرینگر کو انڈیا کے قبضے سے آزاد کروایا جا سکے۔

کارگل کی ہار جیت

کارگل کی جنگ، انٹیلیجنس کی ناکامی

سیاچن: پاکستان اور انڈیا کے لیے انا کی دلدل

'جنگ کے دوران میں سکردو سے کوئی سو کلومیٹر دور خپلو میں فوج کے ایک بیس کیمپ جایا کرتا تھا۔ سویلین جنگجو بھی بڑی تعداد میں شمولیت اختیار کر رہے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر کشمیری تھے مگر کچھ پاکستانی بھی تھے۔'

گل شیر کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے لوگوں نے کارگل جنگ کے دوران بڑی قربانیاں دیں۔ انھوں نے اپنی ذاتی گاڑیاں، جیپیں، ٹریکٹر اور ٹرک فوج کے لیے خوراک و سامانِ رسد پہنچانے کے لیے مختص کر دیں۔

گل شیر خپلو میں رضاکاروں کی قیادت کر رہے تھے جہاں انھوں نے فوج کے ساتھ کئی ماہ سرحد کی پاکستانی جانب رشید پوسٹ پر گزارے اور اپنی گاڑی میں جنگجوؤں کو خوراک اور ایندھن سمیت سرحد پر پہنچاتے رہے۔

وہ یاد کرتے ہیں کہ 'میرے پاس ایک بہت اچھی لینڈ کروزر تھی۔ پورے علاقے کے لوگ جنگجوؤں کے لیے خوراک عطیہ کر رہے تھے۔ دس سے بھی زیادہ مرتبہ ایسا ہوا کہ میں گاڑی بھر کر خشک میوہ جات اور خشک گوشت فوج کے کیمپ تک لایا جسے بعد میں جنگجوؤں میں تقسیم کر دیا گیا۔‘

کشمیر پر پہلی جنگ سے لائن آف کنٹرول تک

کارگل میں لڑنے والے انڈین فوجی کی شہریت مشتبہ

گل شیر کہتے ہیں کہ دوسری جانب انڈین فوج کے پاس زبردست وسائل تھے۔ ’ان کی سڑکیں بہتر تھیں، ان کے اسلحہ بردار ٹرک باآسانی نقل و حرکت کر رہے تھے اور انڈین فورسز مسلسل زمین اور فضا سے فائرنگ اور گولہ باری کر رہی تھیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اسی گولہ باری کی وجہ سے وہ سرحد پار نہیں جا سکے۔ وہ بتاتے ہیں کہ 'انڈین فوج بھاری توپیں استعمال کر رہی تھی۔ پاکستانی جانب انفراسٹرکچر خستہ حالی کا شکار تھا اور زیادہ تر سڑکیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی تھیں۔

’چند ایک مرتبہ تو میں بھی شیلنگ سے بال بال بچا۔ ایک مرتبہ میری گاڑی نشانہ بنی اور میں پانچ دن تک کہیں آ جا نہیں سکا جب تک کہ سڑک کی مرمت نہیں ہو گئی۔'

Image caption گل شیر جنگجوؤں کو خوراک اور ایندھن پہنچاتے رہے

انھوں نے مزید کہا کہ 'ہمارے سویلینز اور فوج، خاص طور پر 6 اور 14 ناردرن لائٹ انفنٹری کو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔'

گل شیر کا کہنا ہے کہ گلگت کے لوگ جما دینے والی سردی کے عادی ہیں مگر اس کے باوجود جب انڈین فوج کی گولہ باری سے پاکستانی فوج کو سامانِ رسد کی فراہمی متاثر ہوئی اور انڈیا کی جانب سے علاقے کی ناکہ بندی کر دی گئی تو سپاہیوں اور جنگجوؤں کے لیے پہاڑوں میں کئی ہفتوں تک گزارہ کرنا مشکل ہو گیا تھا۔

ایک وقت تو ایسا آیا کہ گل شیر اور کیمپ میں موجود ان کے ساتھیوں کو دو روز تک کھانا نہیں مل سکا۔

’ہم نے ایک ایسے مقام پر قبضہ کیا تھا جو رشید پوسٹ سے کچھ سو فٹ اوپر تھا جہاں میں موجود تھا۔ رات کے وقت ہم دوسری جانب پانی اور کھانا پہنچایا کرتے تھے۔ رات میں جب شیلنگ تھم جاتی تو ہم اپنے جسم سے تیس کلو اشیائے خوردونوش باندھ کر برف پوش پہاڑوں پر رینگتے ہوئے جنگجوؤں کو سامان پہنچا دیتے۔'

چار جولائی کو شدید بین الاقوامی دباؤ کے نتیجے میں پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے پاکستانی فورسز نکال لینے پر رضامندی ظاہر کر دی تھی۔

گل شیر اب بھی سیاسی قیادت کی جانب سے فوجیں نکالنے کے فیصلے پر افسوس کرتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ اس فیصلے کی وجہ سے پاکستان کو بھاری نقصانات اٹھانے پڑے۔ ان کا اندازہ ہے کہ اس مسلح تنازعے میں تقریباً ایک ہزار سپاہی ہلاک ہوئے۔

'ہماری نیت اچھی تھی اور ہمیں یقین تھا کہ ہم سرینگر پہنچ جائیں گے مگر یہ ہماری بدقسمتی تھی کہ پاکستان کے پاس وسائل کی کمی تھی اور معیشت اتنی مضبوط نہیں تھی کہ بین الاقوامی دباؤ یا مکمل جنگ برداشت کر سکے، چنانچہ فوجیں نکالنا اس کی مجبوری بنی۔‘

وہ اس بات کی بھی تردید کرتے ہیں کہ پاکستان نے فوجیں نکالنے کے بعد لاشیں وصول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

'لاشیں واپس لانے میں بہت وقت اور وسائل صرف ہوئے مگر فوج نے یقینی بنایا کہ کوئی لاش رہ نہ جائے۔ ناردرن لائٹ انفنٹری نے تمام لاشیں برآمد کر کے انھیں مکمل اعزاز کے ساتھ خاندانوں کے حوالے کر دیا۔

Image caption گل شیر کے مطابق لاشیں واپس لانے میں بہت وقت اور وسائل صرف ہوئے مگر پاکستانی فوج نے یقینی بنایا کہ کوئی لاش رہ نہ جائے

کارگل کی جنگ اپریل 1999 میں شروع ہوئی اور 26 جولائی کو انڈیا نے اپنی سرزمین سے پاکستانی فورسز کے مکمل انخلا کا اعلان کر دیا۔

گل شیر سمجھتے ہیں کہ پاکستانی حکام کو اس پورے آپریشن کی منصوبہ بندی بہتر انداز میں کرنی چاہیے تھی اور انھیں آپریشن شروع کرنے سے قبل دستیاب وسائل کو مدِنظر رکھنا اور مزید وسائل کا انتظام کرنا چاہیے تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ 'میں تو صرف رضاکار ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ جنگ کیوں لڑی گئی مگر آج بھی کسی بھی سانحے یا آفت کی صورت میں میں خدمت کے لیے تیار ہوں۔'

اسی بارے میں