وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی ملاقات 22 جولائی کو ہوگی

عمران خان، ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عمران خان 22 جولائی کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے

وائٹ ہاؤس نے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے دورۂ امریکہ کی تصدیق کر دی ہے۔

وائٹ ہاؤس نے ایک انتہائی مختصر بیان میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ 22 جولائی کو وائٹ ہاؤس میں وزیر اعظم پاکستان کو خوش آمدید کہیں گے۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم عمران خان کے درمیان ملاقات میں دونوں ملکوں میں تعاون کو مستحکم کرنے پر توجہ مرکوز رہے گی جس کی وجہ سے خطے میں امن استحکام اور معاشی خوشحالی کا حصول ممکن ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل عمران خان کے دورۂ امریکہ کے بارے میں بہت سے قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں اور یہ واضح نہیں تھا کہ عمران خان کا یہ دورۂ سرکاری نوعیت کا ہو گا یا نہیں۔

عمران خان کے دورۂ امریکہ کے حوالے سے پایا جانے والا یہ ابہام منگل کو اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان کی جانب سے اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا گیا تھا۔

دوسری جانب پاکستان نے کہا تھا کہ اس ضمن میں باضابطہ اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔

منگل کو محکمۂ خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان مورگن اورتاگس نے کہا تھا کہ ان کی معلومات کے مطابق وائٹ ہاؤس نے تاحال اس (دورے) کی تصدیق نہیں کی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اس دورے کی تصدیق یا تردید کے لیے میں وائٹ ہاؤس سے رابطہ کروں گی، فی الحال محکمۂ خارجہ کے پاس اس حوالے سے بتانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔‘

خیال رہے کہ پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق عمران خان 21 جولائی کو امریکہ کے دورے پر جا رہے ہیں جس کے دوران وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات بھی کریں گے۔

نو جولائی کو پریس بریفنگ میں امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان سے سوال پوچھا گیا کہ اس ماہ کے اختتام پر پاکستانی وزیراعظم امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں تو اس دوران ان کی کس کے ساتھ ملاقاتیں متوقع ہیں؟

یہ بھی پڑھیے

عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ ملاقات کا ایجنڈا کیا ہو گا؟

’عمران خان پاکستان کے ٹرمپ‘، امریکی شو پر تنازع

’پاکستان نے ہمیں جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا‘

اس سوال کے جواب میں ترجمان کا کہنا تھا کہ 'میرے علم کے مطابق، وائٹ ہاؤس نے باقاعدہ اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔ (اس حوالے سے) میں نے بھی وہی رپورٹس پڑھی ہیں جو کہ آپ نے۔'

انھوں نے کہا تھا کہ ’اس بارے میں محکمۂ خارجہ کے پاس اعلان کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے اور میں وائٹ ہاؤس سے اس دورے کی تصدیق یا تردید کے لیے رابطہ کروں گی۔‘

ان کی جانب سے یہ بیان سامنے آنے کے بعد بدھ کو پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ وزیراعظم کے دورے کے حوالے سے قیاس آرائیوں کے برخلاف حقیقت واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان اس سلسلے میں امریکی حکام سے قریبی رابطے میں ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’مروجہ طریقہ کار کے مطابق اس ضمن میں باقاعدہ اعلان مناسب وقت پر کر دیا جائے گا۔‘

منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر تعلیم شفقت محمود نے بھی میڈیا کے نمائندوں کو مطلع کیا تھا کہ اس دورے کے دوران عمران خان فائیو سٹار ہوٹل کی بجائے واشنگٹن میں پاکستانی سفیر کی رہائش گاہ پر قیام کریں گے جبکہ ان کا عملہ تھری سٹار ہوٹل میں رکے گا اور ایسا موجودہ حکومت کی جاری کفایت شعاری مہم کے تحت کیا جائے گا۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ وزیراعظم عمران خان کے کسی غیر ملکی دورے کے بارے میں کوئی تنازعہ کھڑا ہوا ہو۔

حال ہی میں عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق روسی حکام نے یہ کہا تھا کہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان کو روس میں چار سے چھ ستمبر کے دوران ہونے والے 'ایسٹرن اکنامک فورم' میں مدعو نہیں کیا گیا ہے۔

روس کو یہ وضاحت اس وقت کرنی پڑی جب پاکستانی میڈیا نے ذرائع سے یہ خبر نشر کی کہ عمران خان اس کانفرنس میں شریک ہوں گے جبکہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی بھی وہاں موجود ہوں گے۔

روس کے وضاحتی بیان کے بعد پاکستان میں وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی عمران خان کی ایسٹرن اکنامک فورم میں شرکت کی خبروں کو 'قیاس آرائی پر مبنی' قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اعلیٰ سطح کے تعلقات کے لیے پاکستان اور روس باہم رابطے میں ہیں۔

وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل کے مطابق 'اس حوالے سے کوئی بھی باقاعدہ اعلان مناسب وقت پر کیا جائے۔'

پاکستانی میڈیا میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کو روس کے دورے کی دعوت صدر ولادیمیر پوتن نے دی ہے۔

اسی بارے میں