مرید عباس: میانوالی کے کسان خاندان سے اینکرپرسن تک

مرید عباس تصویر کے کاپی رائٹ Facebook/Mureed.Abbas.9

کراچی میں رواں ہفتے مبینہ طور پر اپنے کاروباری شراکت دار کے ہاتھوں قتل ہونے والے نجی ٹی وی چینل بول نیوز کے اینکر مرید عباس کی زندگی نشیب و فراز سے بھرپور تھی۔

مرید عباس کو منگل کی شب ڈیفینس کے علاقے خیابانِ بخاری میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا اور اس واقعے میں ملوث قرار دیے گئے ملزم عاطف زمان نے بھی خودکشی کی کوشش کی تھی۔

قتل کی تفتیش کہاں تک پہنچی؟

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق کراچی پولیس نے مرید عباس کے قتل کا مقدمہ ان کی اہلیہ اور ٹی وی اینکر زارا عباس کی مدعیت میں درج کیا ہے جبکہ ملزم عاطف زمان پر اقدام خودکشی کے الزام میں بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

مرید عباس کھر کی اہلیہ نے پولیس کو بتایا ہے کہ ملزم عاطف زمان نے مرید کے علاوہ ان کے دیگر دوستوں کے بھی پیسے دینے تھے جبکہ پولیس کا بھی کہنا ہے کہ عاطف ایک بڑی رقم کا مقروض ہے۔

ڈی آئی جی شرجیل کھرل کے مطابق یہ 15 کروڑ کی رقم کا معاملہ ہے جس کے متاثرین میں میڈیا کے لوگ بھی شامل ہیں جنھوں نے عاطف کے پاس سرمایہ کاری کی تھی۔

مرید عباس کی بیوی زارا عباس نے ان کے قتل کے بعد میڈیا کو بتایا تھا کہ انھیں منگل کی شب تقریباً آٹھ بجے مرید عباس نے کال کیا اور بتایا تھا کہ عاطف نے انھیں ادائیگی کے لیے بلایا ہے اور وہ شاید 50 لاکھ روپے ادا کریں گے۔

زارا عباس نے بتایا ’ہم نے سرمایہ کاری کی ہوئی تھی لیکن وہ رمضان سے ہمیں پیسے نہیں دے رہے تھے۔ سب کی انویسٹمنٹ لگی ہوئی ہے۔‘

پولیس کے مطابق ملزم نے رقم کا تقاضا کرنے والے چار افراد کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا اور جائے وقوعہ سے آدھے گھنٹے کے فاصلے پر ملزم نے پہلے خضر حیات نامی شخص کو بھی کار میں فائرنگ کر کے ہلاک کیاجو ٹرانسپورٹر اور مرید عباس کے دوست تھے۔

یہ بھی پڑھیے

’آپ کو کیسے یقین کہ وہ انٹیلیجنس اہلکار تھے؟‘

کیا ٹی وی بھی آلہِ قتل ہے؟

کس کی صحافت زیادہ آزاد، انڈیا یا پاکستان؟

سی سی ٹی وی ویڈیو میں عاطف زمان کو اسلحہ سمیت دیکھا گیا ہے، جس میں وہ اپنے ایک ساتھی کے ساتھ دفتر سے باہر نکلتے اور پھر واپس آتے دکھائی دیتے ہیں اور پھر کچھ دیر بعد ہاتھ میں پستول لیے فرار ہو جاتے ہیں۔

پولیس کی تحقیقات کے مطابق بالاکوٹ سے تعلق رکھنے والے عاطف زمان ٹائروں کے کاروبار سے منسلک تھے جبکہ رواں سال ان کا ایک کنٹینر پکڑا گیا تھا، جس سے انھیں پانچ کروڑ کا نقصان پہنچا اور جن لوگوں نے ان کے ساتھ سرمایہ کاری کی ہوئی تھی وہ مسلسل رقم کا تقاضا کر رہے تھے۔

ایس ایس پی شیراز نے بتایا کہ پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ ملزم نے آخر رقم مانگنے والے سرمایہ کاروں کو قتل کیوں کیا اور آیا یہ صرف لین دین کا معاملہ تھا یا اس کا کوئی اور زاویہ بھی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook/Mureed Abbas

مرید عباس کون تھے؟

مرید عباس کا صحافتی کریئر تقریبا ایک دہائی پر مشتمل ہے، جس میں وہ نیوز اینکر اور اینکر پرسن رہے۔ ان کا تعلق میانوالی کے ایک غریب خاندان سے تھا تاہم انھوں نے کراچی کے ڈی ایچ اے کالج سے تعلیم حاصل کی تھی۔

مرید عباس نے سنہ 2007 میں بزنس پلس سے اپنے کریئر کا آغاز کیا جس کے بعد انھوں نے سما ٹی وی کی ٹیم میں شمولیت اختیار کی پھر وہاں سے اب تک نیوز چینل اور پھر 2017 میں بول ٹی وی کا حصہ بنے۔

مرید کے بھائی وسیم عباس نے صحافی زبیر خان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے بار بار صرف وہ وقت یاد آرہا ہے جب میں کراچی کے ایک مدرسے میں پڑھتا تھا تو مرید ہر ہفتے اپنی سائیکل پر میرے پاس آیا کرتا تھا۔ اس وقت اس کی تنخواہ دو یا ڈھائی ہزار روپیہ تھی اور اس میں سے بھی وہ مجھے ہر ہفتے سو، دو سو روپیہ دے جاتا تھا۔‘

مرید عباس کی نماز جنازہ کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وسیم عباس کا کہنا تھا کہ ’ہم لوگ کسان تھے اور اب بھی کسان ہی ہیں۔ بچپن میں جب مرید عباس نے تھوڑا بہت پڑھا تو انھیں ہمارے چچا اپنے ساتھ کراچی لے گئے تھے۔ وہ وہاں پر ایک بنگلے میں کام کرتے تھے اور مرید بھی ان کے ساتھ کام کرنے لگا۔‘

وسیم کے مطابق ’اس بنگلے کے مالکاں نے کہا کہ یہ (مرید عباس) بچہ ہے ہم اس کو تعلیم دلاتے ہیں جس کے بعد مرید عباس نے وہاں سے میٹرک کیا اور پھر کالج میں داخلہ لے کر مزید تعلیم حاصل کی تھی۔‘

مرید عباس کے بھائی کے مطابق وہ اپنے بھائیوں اور پورے خاندان کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے۔

’ہمارا گھر اور بھائیوں کا سارا نظام، سارا سلسلہ مرید عباس کی وجہ سے ہی چلتا تھا۔ میری ٹائروں کی دکان ہے، جو بھی انھوں نے ڈلوا کردی تھی۔ ۔ ہمیں تو اب یہ لگ رہا ہے کہ ہم لوگ دوبارہ چالیس سال پیچھے چلے گئے ہیں۔‘

مرید عباس نے کچھ عرصہ نیوز چینل اب تک میں خدمات انجام دی تھیں۔ اب تک کے ڈائریکٹر نیوز شہاب محمود ان کی پیشہ ورانہ صلاحتیوں اور انسان دوستی کے معترف ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مرید عباس ایک بہترین نیوز اینکر تھے اور اس سے بھی اچھے انسان تھے۔

’وہ لڑائی جھگڑے کا بندہ نہیں تھا، انتہائی نرم مزاج تھا، اچھے اور پیار سے بات کرتا اور بحث سے پرہیز کرتا تھا۔ مرید کے قتل پر اس کا ہر ساتھی انتہائی غمگین ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مرید عباس نے اپنی دنیا خود تعمیر کی تھی۔ ’ہم لوگوں نے ایک پروگرام شروع کیا جس میں اپنے محنت کے بل بوتے پر کامیابی حاصل کرنے والوں کی کہانیاں بیان کرتے تھے مطلب یہ کہ اصل ہیرو۔ ایک دفعہ میں مرید عباس کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو اس کی زندگی کی جدوجہد کی کہانی سن کر کہا کہ مرید عباس تمہاری کہانی اصل ہیرو کی کہانی ہے۔

شہاب محمود کا کہنا تھا کہ مرید اس بات کی مثال تھے کہ ’اگر چاہت، محنت اور لگن ہو تو کس طرح اپنی دنیا اپنی محنت اور زورِ بازو سے تعمیر کی جا سکتی ہے۔‘

اسی بارے میں