مخصوص شخصیات کے انٹرویوز یا موقف پر پابندی: کیا پیمرا ایسا کر سکتا ہے؟

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان میں میڈیا کے نگران ادارے پیمرا نے 2015 میں میڈیا کے لیے ایک کوڈ آف کنڈکٹ یعنی ضابطہِ کار جاری کیا تھا جس میں یہ واضح کیا گیا کہ خبروں اور حالات حاضرہ سے متعلق پروگراموں میں کیا دکھایا جا سکتا ہے اور کیا نہیں۔

لیکن گذشتہ چند دنوں میں حکمراں جماعت کی جانب سے کچھ ایسے اشارے ملے ہیں کہ وہ اب ان شخصیات کے انٹرویوز یا موقف پر پابندی کا سوچ رہی ہے جو یا تو سزا یافتہ ہیں یا ان کے مقدمات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔

وفاقی کابینہ کے گذشتہ روز ہونے والے اجلاس کے بعد ایسی خبریں مقامی میڈیا میں آئیں کہ وزیراعظم نے پیمرا کو اسی بارے میں ہدایات دی ہیں۔ پی ٹی آئی کے رہنما شفقت محمود نے اپنی پریس کانفرنس میں اس کی تصدیق بھی کی۔

خیال رہے کہ ان ہدایات کے اجرا سے قبل ہی پیمرا نے پیر کو تین نجی ٹی وی چینلز، 24 نیوز، اب تک نیوز اور کیپیٹل ٹی وی کی نشریات بند کر دی تھیں۔

ان تینوں ٹی وی چینلز کی نشریات 19 گھنٹے سے زیادہ عرصے تک معطلی کے بعد منگل کی شام بحال تو ہو گئیں تاہم ان کی بندش کی وجہ نہیں معلوم کی جا سکی۔

چینلز کی اس بندش کے بارے میں کوئی واضح صورتحال سامنے نہ آنے کی وجہ سے ان قیاس آرائیوں نے جنم لیا تھا کہ نشریات مبینہ طور پر اتوار کو پنجاب کے شہر منڈی بہاؤالدین میں پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے جلسے کی کوریج پر بند کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیے

نشریات کی معطلی: ’یہ نہیں پتا چلتا کہ حکم آتا کہاں سے ہے‘

’پاکستانی نیوز رومز میں سیلف سنسرشپ میں اضافہ‘

کیا پی ٹی ایم کی میڈیا کوریج کرنا جرم ہے؟

’پاکستان میں میڈیا کے گرد گھیرا تنگ ہو گیا ہے‘

اس سے قبل رواں ماہ ہی پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق صدر آصف علی زرداری کا ایک نجی ٹی وی کو دیا گیا انٹرویو بھی نشر ہونے کے چند منٹ بعد ہی رکوا دیا گیا تھا۔

آصف زرداری اس وقت نیب کی حراست میں ہیں اور ان سے مالی بے ضابطگیوں کے مقدمات میں تفتیش کی جا رہی ہے۔

پیمرا کا قانون کیا کہتا ہے؟

پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ 2015 کی کسی بھی شق میں ایسے شخص جس کا مقدمہ کسی عدالت میں زیر سماعت ہو یا جس کو عدالت نے سزا دے دی ہو، سے متعلق خبر نشر کرنے، ان پر کسی پروگرام میں بحث کرنے کی ممانعت نہیں ہے یا کم از کم اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔

آرٹیکل تین (ایک) کی شق 10 کے تحت عدلیہ یا مسلح افواج کے خلاف جھوٹی خبر یا ایسا مواد نشر کرنے سے منع کیا گیا ہے جبکہ آرٹیکل چار کی شق 4 کے تحت عدالت میں زیر سماعت معاملات پر معلوماتی بنیادوں پر تو خبر یا پروگرام چلائے جا سکتے ہیں تاہم اس بات کا خیال رکھا جائے کہ یہ کسی بھی طرح مقدمے کی سماعت یا عدالتی کارروائی پر اثر انداز نہ ہوں۔

ان دونوں شقوں میں کسی مجرم یا ملزم کا موقف دکھانے سے نہیں روکا گیا ہے تو کیا حکومت کا ایسا کوئی اقدام پاکستانی آئین کے آرٹیکل 19 یعنی آزادی اظہار کے بنیادی حق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں، بی بی سی نے اس معاملے پر قانونی ماہرین سے بات کی۔

لیکن اس سے پہلے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ پیمرا آرڈیننس 2002 کی شق 5 کے تحت وفاقی حکومت کو پیمرا کو صرف پالیسی معاملات پر ہدایت جاری کر سکتی ہے۔ اس شق کے مطابق 'وفاقی حکومت، جب اور جس طرح ضروری سمجھے، پالیسی معاملات پر پیمرا کو ہدایات جاری کر سکے گی، پیمرا ان ہدایات پر عمل درآمد کا پابند ہوگا۔ اگر یہ سوال پیدا ہو کہ آیا کوئی معاملہ پالیسی کا معاملہ ہے یا نہیں تو اس معاملے میں وفاقی حکومت کا فیصلہ قطعی ہوگا۔'

کیا پاکستان میں ایسی کسی پابندی کا قانون موجود ہے؟

بی بی سی بات کرتے ہوئے ماہر قانون یاسر ہمدانی کہتے ہیں کہ ایسا کوئی بھی قانون پاکستان یا دنیا کے کسی بھی ملک میں نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں 'جب کوئی شخص سزا یافتہ ہونے کے بعد جیل چلا جائے تو اس پر جیل قوانین کا اطلاق ہوگا۔ اگر جیل قوانین میڈیا پر آنے سے روکتے ہیں تو ایسی صورت میں وہ مجرم میڈیا پر نہیں آ سکتا۔ لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ دنیا بھر میں جیل انتظامیہ کی اجازت کے بعد قید مجرموں کے بھی انٹرویوز نشر یا شائع کیے گئے ہیں۔'

وہ کہتے ہیں کہ ایسی پابندی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی سمجھی جائے گی۔ 'درحقیقت اگر ایسی پابندی لگائی جاتی ہے تو وہ اپنے رائے دینے کی آزادی کی خلاف ورزی ہو گی۔ اگر یہ قدغن برطانیہ میں لگے تو وہ ہیومن رائٹس ایکٹ کی خلاف ورزی، امریکہ میں فرسٹ امینڈمنٹ کی خلاف ورزی جبکہ پاکستان میں آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی ہو گی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کیا پیمرا قوانین کے تحت کسی شخص کی کوریج روکی جا سکتی ہے؟

سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم کے مطابق پیمرا خود سے یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ کس شخص کا انٹرویو چلایا جا سکتا ہے اور کس کو ٹی وی پر نہیں دکھانا ہے۔

وہ کہتے ہیں 'قانون میں اس کی گنجائش نہیں، اس لیے ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ ایسے معاملات میں پیمرا کی روایت کیا رہی ہے۔ تو ماضی میں پیمرا نے کبھی ایک سزا یافتہ شخص کا نکتہ نظر ٹی وی پر آنے سے نہیں روکا۔ جیسا کہ کراچی میں صولت مرزا جب جیل میں تھے تو ان کا انٹرویو میڈیا کو لیک کیا گیا اور وہ ہر چینل پر چلا۔ اس وقت پیمرا کے پاس کوئی شکایت آئی اور نہ ہی پیمرا نے یہ نشریات روکیں۔

’دوسرا، کاالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کا انٹرویو جب صحافی سلیم صافی نے کیا تو اس کی نشریات سے قبل آرمی پبلک سکول حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین نے پیمرا میں شکایت درج کرائی اور اس انٹرویو کی نشریات روکنے کی استدعا کی۔ پیمرا نے جیو نیوز کو یہ انٹرویو نشر کرنے سے منع کر دیا۔ تاہم لاہور ہائی کورٹ نے پیمرا کے حکم کو کالعدم قرار دیا اور پھر یہ انٹرویو بھی نشر کیا گیا تو ماضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں۔'

ابصار عالم کہتے ہیں کہ پیمرا کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں اور نہ ہی کوڈ آف کنڈکٹ میں ایسی کوئی شق موجود ہے جو کسی بھی ایسے شخص کو ٹی وی پر اپنا موقف پیش کرنے سے روکے جو سزا یافتہ ہے یا اس پر ابھی جرم ثابت نہیں ہوا ہے۔

اسی بارے میں بات کرتے ہوئے قانون دان اور ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر شمائلہ خان نے بھی اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی قدغن نہیں ہے۔

تاہم ان کے مطابق ’یہ دیکھنا پڑے گا کہ کہیں کوئی شخص عدالتی کارروائی پر اثر انداز ہونے کوشش تو نہیں کر رہا۔ اس کے علاوہ سزا یافتہ یا انڈر ٹرائل شخص کی اپنی رائے کے اظہار سے نہیں روکا جا سکتا۔ یہ تو بنیادی حقوق ہیں، یہاں تک کہ جیل میں موجود قیدیوں کے بھی بے شمار حقوق ہیں جنہیں سلب نہیں کیا جا سکتا۔'

وہ کہتی ہیں کہ سابق چیف جسٹس نے اس معاملے پر پیمرا کو ہدایت کی تھی کہ وہ مزید تشریح کرے اور زیادہ تفصیل کے ساتھ ان معاملات پر کوڈ ترتیب دے، کیونکہ دوسرا طریقہ پھر توہین عدالت کے تحت مقدمات کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

یاسر ہمدانی نے پیمرا ضابطہِ اخلاق کی اسی شق پر رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ 'ججز کو میڈیا پر کسی مقدمے کے بارے میں بات چیت سے متاثر ہی نہیں ہونا چاہیے، انہیں اپنے مقدمے میں موجود ثبوت و شواہد کی بنیاد پر فیصلہ دینا چاہیے نہ کہ میڈیا پر آنے والے تجزیے کی بنیاد پر۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کیا حکومت پیمرا کو کسی چینل کی نشریات کنٹرول کرنے یا روکنے کی ہدایت دے سکتی ہے؟

سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم کہتے ہیں کہ ایسا ممکن نہیں ہے۔ ان کے مطابق 'پیمرا کو وفاقی حکومت صرف پالیسی ہدایت دے سکتی تھی لیکن وہ قانون بھی ایک آرڈیننس کے ذریعے تبدیل ہو چکا ہے۔ لیکن اس کی موجودگی میں بھی حکومت پیمرا کو نہیں بتا سکتی کہ چینلز نے کیا نہیں چلانا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی تقاریر روکنے کا حکم بھی لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے آیا تھا کہ پیمرا یقینی بنائے کہ ان کی تقاریر نہ دکھائی جائیں، حکومت یا پیمرا نے خود یہ قدم نہیں اٹھایا تھا۔ دراصل پیمرا کے اختیارات بہت محدود ہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ پیمرا کا جو دل چاہے، یا کسی اور کا جو دل چاہے وہ پیمرا سے کروائے۔‘

موجودہ حکومت اپوزیشن رہنماؤں کا موقف کیوں روکنا چاہتی ہے؟

یاسر ہمدانی کہتے ہیں کہ 'اگر وزیر اعظم یہ کہتے ہیں تو یہ بالکل غیرقانونی ہے۔'

ان کے مطابق 'بظاہر حکومت مریم نواز سے خوفزدہ ہے، کیونکہ حال ہی میں انھوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ اب تک ہونے والی عدالتی کارروائی میں بہت سارے سقم ہیں اور وہ ایسے سقم ہیں جو بلیک میلنگ کی وجہ سے پیش آئے ہیں تو ابھی تک حکومت کی جانب سے کوئی بھی مخالفت کسی اصولی بنیادوں پر تو نہیں کی گئی ہے۔'

جبکہ ابصار عالم سمجھتے ہیں کہ اگر پیمرا کی جانب سے کسی شخص کے انٹرویو یا پریس کانفرنس چلانے سے روکا جا رہا ہے یا حکومت ایسی کوئی کوشش کر رہی ہے تو 'یہ غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات ہیں۔'

اسی بارے میں رائے لینے کے لیے جب پیمرا اور پاکستان تحریک انصاف کے رکن شفقت محمود سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بی بی سی کے سوالوں کا جواب نہیں دیا۔

اسی بارے میں