قبائلی اضلاع کی خواتین امیدوار: ’آپ کو کیا ضرورت ہے سیاست میں آنے کی، یہ تو مردوں کا کام ہے‘

قبائلی خواتین تصویر کے کاپی رائٹ AFP

'کیا آپ نذرانہ کا انٹرویو نشر کریں گی؟ اگر نہ کریں تو۔ مخصوص نشست ہے ناں تو جلسے کی تو ضرورت نہیں۔ ویسے بھی یہاں عورتوں کا جلسہ جلوس کرنے کی روایت نہیں ہے۔ تصویر تو کوئی نہیں ہے، یہاں عورت کی تصویر نہیں نکالی جاتی۔ ابھی ہم گھر سے دور ہیں، بہن کو اسمبلی میں بھیج رہا ہوں تو فون پر آپ سے بات کیوں نہیں کرواؤں گا، ضرور کرواؤں گا۔'

یہ وہ باتیں ہیں جو مجھے ٹیلی فونک رابطے پر قبائلی اضلاع میں رواں ہفتے ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے والی چند خواتین امیدواروں کے اہلخانہ سے سننے کو ملیں۔

قبائلی علاقوں میں خواتین کا انتخابات میں حصہ لینا نئی بات نہیں لیکن اس مرتبہ یہ الیکشن کچھ خاص ہے۔ فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کے بعد پہلی مرتبہ اس علاقے میں صوبائی اسمبلی میں نمائندگی کے لیے الیکشن ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’قبائلیوں کو بھی سہولت گھر کی دہلیز پر ملنی چاہیے‘

قبائلی اضلاع کا ماضی اور مستقبل

اس میں جہاں خواتین کے لیے چار مخصوص نشستیں ہیں وہیں دو خواتین جنرل نشستوں پر میدان میں ہیں جبکہ ایک خاتون کو اقلیتی نشست پر ٹکٹ دیا گیا ہے۔

ان خواتین میں سے زیادہ تر جمیعت علمائے اسلام اور جماعتِ اسلامی کی امیدوار ہیں۔ وفاق اور صوبے میں حکمران جماعت پی ٹی آئی کی جانب سے قبائلی علاقوں میں جنرل نشست پر کسی خاتون امیدوار کو تو ٹکٹ نہیں ملا تاہم جنوبی وزیرستان سے مخصوص نشست پر ایک خاتون پی ٹی آئی کی امیدوار ہیں۔

’جہاں چشمے بہتے تھے وہ کھنڈر بن گیا‘

ضلع خیبر کے علاقے باڑہ کی رہائشی سراج النسا بھی ایسی ہی ایک امیدوار ہیں۔ ان کے والد کے نمبر پر رابطہ ممکن ہوا تو انھوں نے اپنی بیٹی سے بات کرنے کی اجازت تو دی تاہم تصویر دینے سے معذرت کا اظہار کیا۔

سراج النسا نالہ کھجوری کی رہنے والی ہیں۔ آٹھویں جماعت تک اسی علاقے میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد انھوں نے اسلام آباد میں ہاسٹل میں رہ کر ایف اے کیا اور اب گھر پر رہ کر مزید تعلیم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انھیں اس الیکشن کے لیے جمعیت علمائے اسلام نے اپنا امیدوار بنایا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سراج النسا کا کہنا تھا کہ ’میرے خاندان میں تو کسی کا سیاست سے تعلق نہیں لیکن میں نے دہشت گردی کا دور بھی دیکھا اور آپریشن کے بعد آج بھی میں یہیں رہتی ہوں۔ سب کچھ گزر چکا ہے لیکن یہاں کے مسائل اب بھی ویسے ہی ہیں۔ میں تب ہی سوچتی تھی کہ جب بھی مجھے موقع ملا تو میں اپنے مسائل کے حل کے لیے کچھ کروں گی۔‘

مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’اس علاقے میں پہلے جشمے بہتے تھے، پھر یہ کھنڈرات میں تبدیل ہو گیا۔ لوگ اب بھی اپنے گھروں کو بنانے کے لیے کوشاں ہیں اور کچھ لوگ لوٹ کر ہی نہیں آئے۔‘

ان کے مطابق ’یہاں ڈاکٹر اپنی ڈیوٹی صحیح ادا نہیں کرتے شاید باہر والوں کے لیے یہی تاثر ہے کہ یہاں آنا ٹھیک نہیں۔‘

سراج النسا نے بتایا کہ قبائلی علاقوں میں خواتین کے لیے انتخابی مہم چلانا آسان نہیں۔ ’یہاں عورتوں کا جلسہ نہیں ہوتا لیکن ہم ایک گھر مخصوص کر لیتے ہیں اور وہاں خواتین اکھٹی ہو جاتی ہیں۔ یہاں سب کو اکھٹا کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔‘

قبائل علاقے کی عورتوں کے حقوق کے بارے میں انھوں نے کہا ’میں چاہتی ہوں میرے علاقے کی عورتوں کو بھی شریعت کے مطابق وہی آزادی ہو جو شہری علاقوں میں عورتوں کو حاصل ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’فاٹا میں کبھی کوئی ایسی جماعت آئی ہی نہیں جس نے عورتوں کی صحت، ان کے بچوں کی تعلیم اور گھر کے اندر انھیں پانی و بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا ہو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ SURYA BIBI

'مسلمان دوستوں کی خواہش پر سیاست میں آئی'

اقلیتی نشست کے لیے امیدوار ثریا کا تعلق بھی خیبر ایجنسی سے ہے اور وہ بھی جے یو آئی کی امیدوار ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ الیکشن میں ان کا مقابلہ اپنے ہی بھائی سے ہے جو ملک اور صوبے میں حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں۔

ثریا کا تعلق لنڈی کوتل سے ہے اور میٹرک کرنے کے بعد وہیں ان کی شادی بھی ہوئی۔ والدین کی وفات کے بعد اپنے ایک معذور بھائی کی ذمہ داری بھی ثریا پر آ گئی اور ان حالات میں انھوں نے اپنے مکان میں سلائی سینٹر کھولا جو ان کے مقامی خواتین کے مسائل جاننے کا بڑا ذریعہ بھی بنا۔

’پولیٹیکل ایجنٹ سے ملنے والے فنڈ سے میں نے چھ سال کے عرصے میں تقریباً 800 عورتوں کو سلائی کڑھائی کا ہنر سکھایا لیکن جب فاٹا خیبر پختونخوا میں ضم ہوا تو ہمارے فنڈز بھی بند کر دیے گئے۔‘

ثریا کے مطابق انھوں نے اپنی مسلمان دوستوں کے زور دینے پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔

’الیکشن کی بات چلی۔ یہاں اردگرد مسلمان گھرانوں کی خواتین سے میرا بہت ملنا ملانا ہے۔ انھوں نے مجھے کہا کہ تم بھی کسی پارٹی سے بات کرو، ہمارے مسائل کے حل کے لیے تم کچھ کر سکتی ہو۔

’پہلے مجھے ہچکچاہٹ تھی، پھر میں نے بھائی سے بات کی اس نے جے یو آئی سے۔ مجھے اتنی امید نہیں تھی کہ میرا نام آ جائے گا لیکن کاغذات جمع کروانے کے دوسرے دن ہی کال آ گئی۔‘

ثریا کے مطابق مسیحی برادری سے تعلق کے باوجود انھیں کبھی اس علاقے میں کوئی اجنبیت محسوس نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔

’طالبان کے دور میں بھی ہم یہیں رہے منگل باغ ہمارے گھر کے سامنے موجود مدرسے میں بھی آ کر رہا۔ ہمارے رشتہ دار ہمیں کہتے تھے کہ علاقہ چھوڑ دو لیکن ہم نے کہا نہیں۔‘

ان کے مطابق حالات تو اب بہتر ہو گئے ہیں لیکن غربت اس علاقے کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ’یہاں غربت بہت ہے۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کے گھر اب بھی بن نہیں سکے۔ عورتوں کے لیے خاص طور پر صحت کے حوالے سے مشکلات ہیں۔

’پورے خیبر میں ایک ہی ہسپتال ہے وہاں بھی جاؤ تو کہتے ہیں اسے پشاور لے جائیں۔ نہ ہی بچیوں کے لیے ڈگری کالج ہے، میری بیٹی نے ایف اے تو کر لیا لیکن اب اسے پرائیویٹ پڑھنا پڑ رہا ہے۔‘

ثریا کا بھی یہی کہنا تھا کہ وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران جلسے نہیں کر رہیں۔ ’جلسہ تو نہیں کرتی میں۔ یہاں کی روایات کے مطابق برقعہ اوڑھ کر باہر نکلتی ہوں۔ کبھی علاقے کی خواتین کو اپنے گھر آنے کی دعوت دیتی ہوں اور کبھی کبھی خود ان کے گھروں میں جاتی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ منتخب ہوئیں تو علاقے میں ہسپتال اور کالج کی تعمیر ان کا اولین مقصد ہو گا۔ ’میں چاہتی ہوں چھوٹا یا بڑا لیکن سیٹ ملنے کے فوراً بعد یہاں ایک ہسپتال ضرور بنواؤں اور بچیوں کے لیے ڈگری کالج۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ NAEEMA KISHWAR

اب یہاں کوئی مرد آواز لگا کر عورت کی شادی نہیں رکوا سکتا!

قبائلی اضلاع کی خواتین امیدواروں میں سے نعیمہ کشور خان وہ واحد امیدوار ہیں جو پہلے بھی اسمبلی کا حصہ رہ چکی ہیں۔

جنوبی وزیرستان کے علاقے منتوئی میں جنم لینے والی نعیمہ نے تعلیم پشاور سے حاصل کی اور زمانۂ طالبعلمی میں ہی وہ سیاست کے میدان میں قدم رکھ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سٹوڈنٹ لائف سے ہی میں جمعیت علمائے اسلام (ف) سے وابستہ تھی پھر شادی کے بعد مردان چلی گئی۔‘

نعیمہ سنہ 2002 میں ایم پی اے اور 2013 میں ایم این اے رہ چکی ہیں۔

ان کے مطابق ’خاندان والوں کو پسند نہیں تھا میرا سیاست میں جانا لیکن میرے شوہر نے ساتھ دیا۔‘

ان کے مطابق ’الیکشن میں پیسہ لگانا پڑتا ہے، باہر نکل کر ٹائم دینا پڑتا ہے لیکن ہمارے علاقوں میں عورتوں کے لیے ایسا مشکل ہوتا ہے۔ نہ ہی ان پر کوئی اتنا خرچہ کر سکتا ہے اس کے لیے بہترین یہی رہ جاتا ہے کہ وہ مخصوص نشست پر آئیں۔ یہ متناسب نمائندگی کی ایک شکل ہے۔‘

نعیمہ کا کہنا تھا کہ وہ علاقے میں خواتین کا استحصال کرنے والی رسوم و رواج کے خلاف ہیں۔ ’مثلاً غک کا رواج ہے کہ اگر کوئی مرد یہ کہہ دیتا تھا کہ وہ کسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے تو پھر اس لڑکی سے کوئی بھی شادی نہیں کر سکتا تھا۔ ہم نہیں چاہتے کہ خواتین فاٹا کے انضمام کے بعد مسائل میں رہیں۔‘

نعیمہ کشور کے مطابق مقامی لوگوں کے مسائل اگر حل نہ ہوئے تو علاقے کے حالات پھر بگڑ سکتے ہیں۔

’پہلے ہم دہشت گردی کی جنگ میں تھے، اب جو لوگوں کے گلے شکوے ہیں اگر وہ دور نہ ہوئے تو ہم ایک اور جنگ میں چلے جائیں گے۔ حکومت کو اپنے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔

’اب بھی وہاں بارودی سرنگیں موجود ہیں، بچوں کو بہت خطرات ہیں۔ یہ مسائل حل ہونے چاہییں۔ بعض علاقے ایسے ہیں جہاں مشکل ہے۔ اب بھی شناخت ضروری ہے، سکیورٹی کے مسائل ہیں۔‘

نعیمہ کے خیال میں قبائلی اضلاع میں مضبوط مقامی حکومتیں بھی بہت ضروری ہیں۔ ’مضبوط لوکل گورنمنٹ بھی ہونی چاہیے۔ ان کے نام پر بہت فنڈ آئے لیکن لگے نہیں۔ یہاں پہلے ہی کالج کم ہیں لیکن اب ایک خبر یہ ملی ہے کہ یہاں لڑکیوں کے کالج کو عدالتی کمپلیکس میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK
Image caption انیتا محسود جنوبی وزیرستان سے پی ٹی آئی کے لیے خواتین کی نمائندہ ہیں

’ترقیاتی کام نہ ہونے کی وجہ سے ووٹ نہیں ڈالتے‘

’مجھے اردو نہیں آتی لیکن اسمبلی میں سب کو پشتو آتی ہے۔ میں اردو سیکھنے کی کوشش کروں گی لیکن کسی زبان پر پابندی نہیں۔‘

یہ کہنا تھا جمرود کی بسروضہ بیگم کا جن کے شوہر زرغون نے بطور مترجم ان کی بات سمجھنے میں میری مدد کی۔

زخاخیل قبیلے سے تعلق رکھنے والی بسروضہ بیگم نے پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے۔ ان کا خاندان 20 برس سے جماعتِ اسلامی سے منسلک ہے۔

ان کے مطابق باڑہ میں دس برس رہنے کے بعد جب حالات خراب ہوۓ تو ان کا خاندان وہاں سے نکل گیا۔ ’جنگ کے دوران ہم نے ایک سال پشاور میں گزارا اور پھر ہم جمرود آ گئے۔‘

بسروضہ بیگم کا کہنا تھا کہ وہ ماضی میں بھی انتخابی سرگرمیوں کا حصہ رہی ہیں۔ ’میں نے اس سے پہلے ووٹ بھی ڈالا ہے اور بطور پولنگ ایجنٹ کام بھی کیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں 2013 کی نسبت 2018 کے عام انتخابات میں زیادہ عورتوں نے ووٹ ڈالے تاہم علاقے میں ووٹ نہ ڈالے جانے کی ایک وجہ ترقیاتی کام نہ ہونے پر لوگوں کی مایوسی بھی ہے۔

’یہاں عورتوں کے لیے بہت مسائل ہیں۔ نہ گھر میں بجلی ہے، نہ گیس ہے۔ ہمیں لکڑیاں جلانی پڑتی ہیں۔ دور دراز علاقوں میں صحت کے مراکز نہیں ہیں میں وہ بنانا چاہتی ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK_DC_KHYBER

’ہمارے لوگوں کو جانوروں کی طرح سمجھا جاتا ہے‘

25 سالہ امیدوار نذرانہ سے رابطہ ان کے والد عبدالرؤف کے نمبر پر ہوا جو پہلے تو انٹرویو کی اجازت دینے کے بعد کہنے لگے کہ رہنے ہی دیں مگر پھر اس دلیل پر قائل ہو گئے کہ نذرانہ یہاں بات نہیں کریں گی تو اسمبلی میں جا کر کیسے بولیں گی۔

نذرانہ اپنی چار بہنوں میں سے واحد تعلیم یافتہ لڑکی ہیں۔ انھیں بھی جماعتِ اسلامی نے صوبائی اسمبلی کے انتخاب کے لیے ٹکٹ دیا ہے۔

نذرانہ کے مطابق وہ سیاست میں علاقے اور خواتین کے مسائل کے حل کے لیے آئی ہیں۔

’میرے شوہر نے مجھے اجازت دی کہ میں سیاست میں آؤں۔ وہ خود بے روزگار ہیں اور یہاں روزگار کا بہت مسئلہ ہے۔ سیاست میں اس لیے آئی ہوں کہ میں یہاں کے مسائل خود حل کروں۔ یہاں نہ بجلی ہے، نہ پانی ہے، نہ سکول ہے، نہ کالج ہے اور نہ ہسپتال۔

’دن میں ایک یا دو گھنٹے بجلی آتی ہے۔ میری شادی کچھ مہینے پہلے ہی ہوئی ہے۔ سسرال میں چھ ماہ سے بجلی نہیں آئی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے لوگوں کو جانوروں کی طرح سمجھا جاتا ہے۔ ہماری عورتیں دور دور سے پانی لے کر آتی ہیں یا پھر ہمیں پیسے دے کر ٹینکر ڈلوانا پڑتا ہے۔‘

’آنے والی نسلوں کے لیے راستہ کھولنا چاہتی ہوں‘

لنڈی کوتل سے جنرل نشست پر امیدوار ناہید رحمان الیکشن کے حوالے سے قبائلی اضلاع کی خواتین امیدواروں میں سب سے زیادہ فعال دکھائی دے رہی ہیں۔

زخاخیل قبیلے سے تعلق رکھنے والی ناہید کے خاندان کا سیاست سے پرانا تعلق ہے۔ اگرچہ وہ پہلی مرتبہ الیکشن لڑ رہی ہیں لیکن سنہ 2013 میں وہ فاٹا کے لیے اے این پی کی نائب صدر رہ چکی ہیں۔

پشاور یونیورسٹی سے فلسفے میں ایم اے کرنے والی ناہید رحمان کا کہنا تھا کہ ’یہ نہیں کہ میں نے سوچا کہ سیاست میں جاؤں، میں تھی ہی اس کا حصہ۔ میرے دادا خدائی خدمت گار تحریک میں تھے جبکہ والد بھی اے این پی سے منسلک رہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اگر میری زندگی خیبر میں ہی گزرتی تو شاید میں سیاست کی جانب نہ آتی نہ ہی پڑھ لکھ سکتی اور شاید میں شادی شدہ ہوتی تو بھی الیکشن لڑنے کی اجازت آسانی سے نہ ملتی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ NAHEED RAHMAN

ناہید کے مطابق قبائلی علاقہ جات کو جس قسم کے حالات کا سامنا گذشتہ دہائی میں رہا ہے اس کے اثرات اب بھی وہاں کے عوام پر باقی ہیں۔

’لنڈی کوتل میرا حلقہ ہے اور یہ وہ علاقہ ہے جہاں پنجاب کے لوگ بھی شاپنگ کرنے آتے تھے لیکن طالبان کے دور کے بعد یہ عالم ہے کہ عورتیں اب بھی پانی لینے کے لیے بھی برقعہ پہن کر جاتی ہیں۔‘

ان کے مطابق ’تیراہ سے میرے کچھ خاندان کے لوگ اب بھی وہاں واپس نہیں جانا چاہتے جہاں انھوں نے اپنے پیاروں کو کھویا۔ وہ تکلیف دہ دور گزر چکا ہے لیکن بہت سے لوگوں کے ذہنوں پر اب بھی اس کے سائے قائم ہیں۔‘

ناہید رحمان کے مطابق قبائلی علاقوں میں خواتین کے لیے انتخابی مہم چلانا آسان نہیں۔ ’خواہش تھی کہ اپنے آبائی علاقے وادی تیراہ، تورا والا سے انتخاب لڑوں لیکن پارٹی نے کہا جب تم وہاں مہم نہیں چلا سکتیں تو کیا کرو گی۔ وہاں جانا اتنا آسان نہیں۔ اب بھی تیراہ میں کچھ نو گو ایریا ہیں۔‘

یہی نہیں بلکہ ایک خاتون امیدوار ہونے کے ناتے انھیں مہم کے دوران عوامی ردعمل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے

’لوگ مجھے برا بھلا کہتے ہیں لیکن میں برداشت کرتی ہوں کیونکہ میں آنے والی نسلوں کا راستہ کھولنا چاہتی ہوں۔

’عورت ہونے کے ناطے مجھے بہت گالیاں سننی پڑ رہی ہیں۔ کل میں ایک دکان پر گئی، ایک لڑکے کو پمفلٹ دیا تو وہ میری طرف دیکھ بھی نہیں رہا تھا۔ اس کے چہرے پر نفرت تھی، میں نے کہا بیٹے کیوں آپ کو برا لگ رہا ہے تو اس نے کہا کہ ہاں آپ کو کیا ضرورت ہے سیاست میں آنے کی یہ مردوں کا کام ہے۔

’تاہم دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ میں عورتوں کے پاس جاتی ہوں۔ عورتیں اپنے مسائل بتاتی ہیں اور میری دیکھا دیکھی دوسری جماعتوں نے بھی مہم شروع کی ہے۔ کیونکہ انھیں پتہ ہے کہ اگر عورتوں کے اتنے ووٹ ہیں تو انھیں کیوں ضائع کریں۔‘

اسی بارے میں