انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی تحقیقات کے بعد سندھ سے فوکل پرسن افتخار لونڈ برطرف

میر افتخار تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK

حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والی وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق نے مبینہ طور پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے مرتکب افتخار لونڈ کو انسانی حقوق سندھ کے فوکل پرسن کے منصب سے برطرف کرتے ہوئے ان کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن واپس لے لیا ہے۔

پیر کو انسانی حقوق وزارت کے وفاقی وزیر شیریں مزاری نے سماجی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ’ہماری تحقیقات اور نئے ثبوتوں کی دستیابی پر میں افتخار لونڈ کو برطرف کرتی ہوں۔‘ شیریں مزاری نے اس سے قبل ان کی تعیناتی کے جاری کیے گئے نوٹیفیکیشن پر معذرت بھی کی۔

اسی بارے میں اور پڑھیے

'پنجاب میں انسانی حقوق کی سب سے زیادہ خلاف ورزی'

پاکستان میں انسانی حقوق کی کارکن پر سائبر حملے

اقوام متحدہ انسانی حقوق 2018 ایوارڈ عاصمہ جہانگیر کےنام

انسانی حقوق کے قوانین کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ

اس تعیناتی کے فوری بعد ہی سے تحریک انصاف کو اس تعیناتی پر شدید تنقید کا سامنا رہا۔ اس تعیناتی پر پاکستان کے ایوان بالا میں چیئرمن قائمہ کمیٹی سینیٹ برائے انسانی حقوق مصطفیٰ نواز کھوکھر نے نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او گھوٹکی کو ڈرائیور پر تشدد کے مقدمے کے ریکارڈ سمیت طلب کیا تھا۔

اس تعیناتی پر سوال اٹھاتے ہوئے چیئرمین قائمہ کمیٹی نے پوچھا تھا کہ بقول ان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے ملزم کو کس ضابطے کے تحت تعنیات کیا جا سکتا ہے۔ ’یہ برداشت نہیں کیا جا سکتا کہ قانون کی دھجیاں اڑانے والوں کو انسانی حقوق کا ترجمان بنایا جائے۔‘

دوسری جانب میر افتخار احمد خان کی تعیناتی پر وزارت انسانی حقوق کے ترجمان نے موقف اختیار کیا تھا کہ سندھ میں وزارت انسانی حقوق کے رضاکارانہ طور پرفوکل پرسن کی تعیناتی میں میرٹ اور شفافیت کو مد نظر رکھا گیا ہے۔ ’میر افتخار احمد خان کی رضاکارانہ طور پرتعیناتی کے وقت ان کی جانب سے اپنی بے گناہی کے ثبوت فراہم کیے گئے تھے۔ اس معاملے کو مزید دیکھا جا رہا ہے تاہم اگر وہ مبینہ واقعہ میں قصوروار پائے گئے تو وزارت انسانی حقوق اس معاملے کا از سر نو جائزہ لے گی۔‘

افتخار لوند کی تعیناتی اور تنازع کا پس منظر

دس جولائی کو پاکستان میں انسانی حقوق کی وزارت نے سندھ میں اپنے فوکل پرسن کے طور پر ضلع گھوٹکی سے تحریک انصاف کے صدر افتخار لوند کو مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس عہدے پر کام کرتے ہوئے افتخار لوند انسانی حقوق کے بارے میں وفاقی وزیر شیریں مزاری کی معاونت کریں گے تاہم یہ خدمات رضاکارانہ طور پر ہوں گی جس کے لیے وزارت انھیں کوئی ادائیگی کرنے کی پابند نہیں ہے۔

واضح رہے کہ ان پر دو ماہ قبل اپنے ملازم پر تشدد کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا تاہم افتخار لوند اس الزام کو غلط قرار دیتے ہوئے اسے سیاسی کارروائی قرار دیتے ہیں۔

ملازم پر تشدد کے الزام کے بعد سیکنڈ سیشن جج گھوٹکی کی عدالت نے پچھلے دنوں میر افتخار لوند کی گرفتاری کا حکم جاری کیا تھا۔

ان پر اپنے ڈرائیور اللہ رکھیو پر تشدد کرنے کا الزام تھا تاہم بعد میں فریقین میں عدالت سے باہر سمجھوتہ ہوجانے پر عدالت نے افتخار لوند کو بری کردیا تھا۔

میر افتخار احمد خان لوند نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا تشدد کے واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ ایک سیاسی انتقامی کارروائی تھی جس کا وہ نشانہ بنے۔

’ہمارے ملک کی سیاست بہت گندی ہے۔ اس میں کسی واقعے سے آپ کا براہ راست کوئی تعلق نہ بھی ہو لیکن پھر بھی آپ کو گھسیٹا جاتا ہے۔ اس میں بھی منشی اور ڈرائیور کا معاملہ تھا لیکن مجھے زبردستی گھسیٹا گیا اور بالآخر عدالت نے انصاف کیا۔‘

میر افتخار لوند نے اللہ رکھیو سے مبینہ طور پر معذرت کرنے سے بھی لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ یہ ان کے منشی کا معاملہ ہے جنھوں نے ایسا کچھ کیا ہوگا البتہ وہ نہ خود گئے تھے اور نہ انھیں اس بارے میں معلومات ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK

یہ نوٹیفیکیشن وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کی سپیشل اسسٹنٹ خولہ بتول کے دستخط سے جاری کیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر جب ان کے دفتر سے ٹیلیفون کے ذریعے رابطہ کیا گیا تھا کہ میر افتخار لوند تشدد کے الزام کے بعد ایک متنازعہ شخصیت رہے ہیں تو ان کی تعیناتی کن بنیادوں پر ہوئی، تو وفاقی سیکریٹری وزرات انسانی حقوق سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا گیا اور جب سیکریٹری کے دفتر رابطہ کیا گیا تو انھوں نے ڈی جی محمد ارشد سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈی جی وزرات انسانی حقوق محمد ارشد نے واضح کیا تھا کہ وہ میر افتخار کی تعیناتی اور ان کے پس منظر سے لاعلم ہیں لہذا وزارت سے ہی رابطہ کیا جائے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ٹوئٹر کے ذریعے بھی وفاقی وزیر شیریں مزاری کا موقف جاننے کی کوشش کی گئی تھی تاہم انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

میر افتخار خان لوند کون ہیں؟

میر افتخار احمد خان لوند تحریک انصاف سندھ کے سابق نائب صدر ہیں اور گذشتہ انتخابات میں تحریک انصاف کی جانب سے صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں گھوٹکی سے امیدوار تھے جس میں انھوں نے 25 ہزار ووٹ حاصل کیے۔ وہ لارنس کالج مری اور اس کے بعد خیرپور یونیورسٹی سے گریجوئیٹ ہیں۔

میر افتخار نے اپنے فیس بک پیج پر اپنی تعیناتی کے نوٹیفیکیشن کی تصویر بھی لگائی اور ساتھ میں تحریر کیا ہے کہ ’شکریہ عمران خان وزیراعظم پاکستان، شکریہ پاکستان تحریک انصاف اور دل و جان سے شکریہ گھوٹکی کے عوام۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے میر افتخار لوند کا کہنا تھا کہ ان کا منصب ایک وزیر کے اسسٹنٹ کے برابر ہوگا۔ وہ سندھ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کریں گے۔

تاہم انھوں نے اعتراف کیا کہ اس سے قبل ان کا کسی انسانی حقوق کی تنظیم یا تحریک سے کبھی کوئی واسطہ نہیں رہا۔

اسی بارے میں