بجٹ کے خلاف تاجروں کی ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال

راولپنڈی، ہڑتال
Image caption راولپنڈی کے ایک بازار میں سنیچر کو ہڑتال کے سبب کاروباری روز ہونے کے باوجود سناٹا چھایا ہوا ہے۔

مالی سال 20-2019 کے بجٹ میں نئے ٹیکس اقدامات اور دستاویزات کی شرائط کے خلاف سنیچر کو پاکستان کی تاجر تنظیموں کی کال پر ملک بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے۔

تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو بہت زیادہ دستاویزات کی فراہمی اور ’ٹیکسوں کی ظالمانہ شرائط’ جیسے حکومتی اقدامات کی وجہ سے وہ شٹر ڈاؤن کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

اس حوالے سے بی بی سی کو ملنے والی معلومات کے مطابق ملک بھر کے مختلف شہروں بشمول صوبائی اور وفاقی دار الحکومتوں میں کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں۔

آل پاکستان انجمنِ تاجران کے جنرل سیکریٹری نعیم میر نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ تاجر تنظیمیں بجٹ مسترد کرتی ہیں اور کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان اس حوالے سے تاجروں سے مذاکرات کریں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 80 فیصد تاجر برادری بجٹ میں اٹھائے جانے والے نئے اقدامات کے خلاف ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کروائے گی۔

تاجروں کو کیا خدشات ہیں؟

اپنے بیان میں نعیم میر کا کہنا تھا کہ نئے ضوابط کے تحت تاجروں کو تین طرح کے گوشوارے جمع کروانے ہوں گے۔ سالانہ بنیادوں پر انکم ٹیکس ریٹرن، ششماہی بنیادوں پر ودہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی کا ریٹرن اور ہر مہینے سیلز ٹیکس کا ریٹرن جمع کروانا ہوگا۔  

’ان تین ریٹرن کے لیے اکاؤنٹنٹس رکھنے پڑیں گے۔ عملہ رکھنے پڑے گا پھر یہ ٹیکس آپ کو وکلا کے ذریعے بھاری فیسیں ادا کرکے جمع کروانے ہوں گے اور پھر اس میں کوئی غلطی کوتاہی ہوئی تو سخت جرمانے اور ایک سال تک کی قید بھی ہوسکتی ہے۔ سپیشل جج مقرر کیے جائیں گے جو جلدی جلدی مقدمات نمٹا کر جلدی جلدی تاجروں کو جیل بھیج سکیں۔’

تاجروں کو قائل کرنے کی حکومتی کوششیں

بدھ کے روز وزیرِ اعظم عمران خان نے کراچی کے ایک روزہ دورے میں کاروباری شخصیات سے ملاقات کی جس کا مقصد صنعت و تجارت کے شعبے کو تازہ ترین بجٹ میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں قائل کرنا تھا۔

ان اقدامات میں سرِ فہرست پانچ صنعتی شعبوں یعنی ٹیکسٹائل، چمڑے، کارپٹ، سپورٹس اور سرجیکل آلات کے لیے زیرو ریٹنگ سہولت ختم کر کے واپس 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنا اور 50 ہزار سے زائد کسی بھی قسم کی خرید و فروخت کو شناختی کارڈ کا ریکارڈ رکھنے سے مشروط کرنا ہے۔

حکومت کا خیال ہے کہ سیلز ٹیکس کی بحالی سے اضافی 70 سے 80 ارب روپے کی آمدن متوقع ہے جبکہ شناختی کارڈ کی شرط زیادہ سے زیادہ افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانے میں مددگار ثابت ہو گی۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی کون کون سے ٹیکس دیتے ہیں؟

ڈالر کی بڑھتی قیمت کے پیچھے کیا وجہ ہے؟

موبائل فون کارڈز پر ٹیکس کی بحالی سے صارفین متاثر

مگر ان اقدامات سے متاثر ہونے والے شعبے نہ صرف یہ کہ حکومت سے اختلاف کر رہے ہیں، بلکہ بات اب کئی صنعتی یونٹس کی بندش تک جا پہنچی ہے۔ دوسری جانب تجارتی شعبہ بھی 13 جولائی کو ہڑتال کی کال دیے ہوئے ہے۔

بی بی سی نے اس حوالے سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور ٹیکس ماہرین سے بات کر کے ان کا مؤقف جاننے کی کوشش کی ہے۔

چیئرمین آل کراچی تاجر اتحاد عتیق میر کہتے ہیں کہ 'آئی ایم ایف کی ایما پر دستاویزی معیشت مسلط تو کی جاتی ہے مگر کاروباری حالات بہتر نہیں بنائے جاتے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'اگر حکومت ٹیکسوں کا یورپی نظام لا رہی ہے اور چاہتی ہے کہ ہر شخص مغربی ممالک کی طرح ٹیکس دے، تو پھر سہولتیں بھی تو یورپ جیسی دیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ انھیں معیشت کو دستاویزی بنانے سے انکار نہیں ہے مگر دیگر شراکت دار مثلاً گھریلو صنعتیں یا خریدار شناختی کارڈ نہ دیں تو وہ کیا کر سکتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Press Information Department Pakistan
Image caption وزیرِ اعظم عمران خان بدھ کے روز گورنر ہاؤس کراچی میں صنعتی شعبے کے نمائندوں سے بات کر رہے ہیں۔

انھوں نے شکوہ کیا کہ وزیرِ اعظم کے دورہ کراچی میں چھوٹے تاجروں کی ان سے ملاقات نہیں کروائی گئی حالانکہ انھیں بلایا گیا تھا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ تاجر طبقہ اور دیگر کاروبار شناختی کارڈ دینے سے کیوں کترا رہے ہیں جبکہ دستاویزی معیشت ایک اچھی چیز ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ کئی جگہوں پر ٹیکس کی شرح منافع کی شرح سے زیادہ ہوجاتی ہے اس لیے حقیقی ٹرن اوور ہر جگہ دکھانا ممکن نہیں جبکہ انھوں نے الزام لگایا کہ ایف بی آر افسران کی جانب سے تنگ کرنا بھی اس کی ایک وجہ ہے۔

زیرو ریٹنگ سکیم کیا تھی؟

پیپلز پارٹی کے آخری دورِ حکومت میں زیرو ریٹنگ کی سہولت متعارف کروائی گئی تھی جس کے تحت ٹیکسٹائل، چمڑے، کارپٹ، سپورٹس اور سرجیکل آلات کو خام مال اور ان کی مصنوعات پر سیلز ٹیکس میں چھوٹ دی گئی تھی تاکہ ان کی برآمدات میں اضافہ ہو سکے۔

اس کے علاوہ مصنوعات کی تیاری میں استعمال کیے گئے سامان پر ادا کیے جانے والے سیلز ٹیکس پر بھی ری فنڈ دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔

مگر وقتاً فوقتاً اس سکیم کے جائز استعمال کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ آیا اس سکیم نے برآمدات میں اضافہ بھی کیا ہے یا نہیں۔

چنانچہ حالیہ بجٹ میں زیرو ریٹنگ کا خاتمہ کر دیا گیا جس کے بعد سے صنعتی شعبے میں ناراضی پائی جاتی ہے جبکہ حکومت کے سربراہ عمران خان خود کہہ چکے ہیں کہ وہ یہ سکیم بحال نہیں کریں گے۔

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے صدر سید علی احسان نے بی بی سی کو بتایا کہ جولائی کے آغاز سے اب تک ملک بھر کی ٹیکسٹائل پراسیسنگ اور سائزنگ فیکٹریاں حکومتی اقدامات کی وجہ سے ہڑتال پر گئی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے ٹیکسٹائل ملز کے پاس سے مال آگے نہیں جا رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت چار سے پانچ ٹیکسٹائل ملز نے کام بند کر دیا ہے اور اگر صورتحال میں بہتری نہ آئی تو اور بھی بند ہو جائیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’فی الوقت چار سے پانچ ٹیکسٹائل ملز نے کام بند کر دیا ہے اور اگر صورتحال میں بہتری نہ آئی تو اور بھی بند ہو جائیں گی’: اپٹما

ٹیکسوں کی بحالی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے 150 سے 200 ارب روپے مختلف ٹیکس ری فنڈز کی صورت میں حکومت کی جانب کئی سال سے واجب الادا ہیں جو کہ نہیں دیے گئے۔

'جب کہ ایک فیصد شرح والے ٹیکسوں کا ریفنڈ ہی نہیں دیا گیا تو یہ 17 فیصد کے ٹیکس پر جو ری فنڈ بنیں گے، وہ کہاں سے واپس آئیں گے؟'

یہ بھی پڑھیے

ٹیکس فری جنت کے رہائشی

پاکستان کو تین برس میں 38 ارب ڈالر قرض ملنے کی امید

زیرو ریٹنگ کے خاتمے پر ان کا کہنا تھا کہ یہ ریٹنگ ختم ہونے سے صنعتوں کو اضافی ٹیکسوں کی وجہ سے سرمائے کی کمی ہو گی جس کے لیے بینکوں سے قرض لینا پڑے گا جس کی شرح پہلے ہی بہت زیادہ ہے، نتیجتاً پیداواری لاگت میں اضافہ ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'حکومت کو ٹیکس ملوں کے بجائے ہول سیلر اور ریٹیلر پر لگانا چاہیے تھا کیونکہ ری فنڈز ملا کر حکومت کو کوئی سات سے آٹھ فیصد ٹیکس بچتا ہے مگر دکاندار کے پاس 'شٹر پاور' ہے۔'

شناختی کارڈ کی شرط پر اختلاف

تاجروں کا کہنا ہے کہ اس شرط سے ان کی سیلز متاثر ہوں گی کیونکہ بہت سی گھریلو صنعتیں جن سے وہ سامان خریدتے ہیں وہ ٹیکس نیٹ میں نہیں آنا چاہتے جبکہ وہ طبقہ جو اپنے ذرائع آمدن واضح نہیں کر سکتا یا نہیں کرنا چاہتا، ان کی وجہ سے بھی ان کے کاروبار پر فرق پڑے گا۔

مگر اس میں بھی صنعتی شعبے اور تجارتی شعبے میں اختلاف موجود ہے اور بظاہر دونوں ہی شعبے چاہتے ہیں کہ اقدامات دوسری طرف سے شروع کیے جائیں۔

اپٹما کے صدر سید علی احسان شناختی کارڈ کی شرط کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ شرط بری نہیں ہے پر اگر کوئی خریدار ٹیکس کی فہرست سے نکل جاتا ہے یا غلط شناختی کارڈ استعمال کرتا ہے تو ماضی میں اس کے لیے ملوں پر پینلٹی لگائی گئی۔

پاکستان کے ایوان ہائے صنعت و تجارت کی مرکزی تنظیم فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (ایف پی سی سی آئی) کے سینیئر نائب صدر مرزا اختیار بیگ بھی اس حوالے سے تحفظات رکھتے ہیں۔

وہ بدھ کے روز کراچی میں وزیرِ اعظم کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں بھی شریک تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ کچھ عناصر کی جانب سے شناختی کارڈ کے معاملے پر ابہام پھیلایا جا رہا ہے

شناختی کارڈ کی شرط پر بھی ان کا یہی کہنا تھا کہ منڈیوں میں خریدار مال خریدنے کو تیار نہیں کیونکہ فروخت کرنے والا ان سے شناختی کارڈ مانگتا ہے تو وہ منع کر دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے میٹنگ میں بھی یہ بات اٹھائی تھی کہ اس طرح کے اقدامات سے کاروباری لاگت میں اضافہ ہو گا جس سے صنعتیں دیوالیہ ہو جائیں گی۔

ٹیکس ریفارم کمیشن کے رکن اور انسٹیٹوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان کی فسکل لاء کمیٹی کے چیئرمین اشفاق تولا بھی صنعت کاروں اور تاجروں کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں۔

زیرو ریٹنگ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ سہولت ٹیکس بچا کر مصنوعات کی مقامی فروخت کو روکنے کے لیے ختم کی جا رہی ہے مگر ایکسپورٹ شعبے کے لیے باقی رہے گی۔

'مگر اس کے باوجود یہ 17 فیصد ٹیکس جو کہ قابلِ ری فنڈ ہو گا، ان برآمد کنندگان کے سرمائے میں کمی کا سبب بنے گا اور ان کے 500 سے 600 ارب روپے بلاک ہونے کا خدشہ موجود ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا کاروباری نظام دنیا کے دیگر ممالک سے کافی مختلف ہے اور پاکستان جیسے ممالک میں جہاں متوازی معیشت کا پھیلاؤ بے انتہا ہو وہاں معیشت کو بتدریج دستاویزی تو بنایا جا سکتا ہے مگر ایسا راتوں رات کرنے کا کوئی فارمولہ موجود نہیں۔

دوسری جانب جمعے کو چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے اسی معاملے پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عناصر کی جانب سے ابہام پھیلایا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ شناختی کارڈ کی سہولت صرف رجسٹرڈ سیلز ٹیکس دہندگان کے لیے ہے جن کی تعداد 40 ہزار ہے اور یہ کہ ہر خرید و فروخت کنندہ شناختی کارڈ کی اس شرط کا پابند نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایسا کوئی فیصلہ نہیں لے گی جو صنعت یا تجارت کے لیے نقصان دہ ہو۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ کاروباری اور تجارتی شخصیات سے مذاکرات میں کوئی ڈیڈ لاک نہیں ہے جبکہ ٹیکسٹائل کی صنعت ترقی کی راہ پر ہے۔

اسی بارے میں