پاکستانی میڈیا مذہبی اقلیتوں کو کیسے رپورٹ کرتا ہے؟

اقلیت تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں میڈیا مذہبی اقلیتوں کو مستحکم نہیں بلکہ متنازعہ گروہ، سیاسی مسئلہ اور مظلوم کے طور پر پیش کرتا ہے

پاکستان میں میڈیا مذہبی اقلیتوں کو مستحکم نہیں بلکہ متنازعہ گروہ، سیاسی مسئلہ اور مظلوم کے طور پر پیش کرتا ہے اس کے باوجود کے یہ لاکھوں کی تعداد میں ہیں اور اقلیت سے ہٹ کر بھی کوریج کے مستحق ہیں۔

انسٹیٹیوٹ فار ریسرچ، ایڈووکیسی اینڈ ڈویلپمنٹ نے ’پاکستانی میڈیا مذہبی اقلیتوں کو کیسے رپورٹ کرتا ہے؟‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ میں میڈیا کا تحقیقاتی جائزہ لیا ہے، جس میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مذہبی اقلیتوں کے متعلق خبروں کی کوریج میں ان کا موقف اور رائے زیادہ تر شامل ہی نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیے

’اقلیتوں کا ملازمت کوٹہ، سینیٹری ورکرز تک محدود‘

پاکستان کی جانب سے مذہبی آزادی پر امریکی رپورٹ مسترد

اقلیتوں کا پاکستان: ’مذہب ذات یا نسل سے ریاست کا کوئی لینا دینا نہیں‘

میڈیا اقلیتی نمائندوں سے رابطے میں ناکام رہتا ہے اور اس وجہ سے انہیں دبانے میں کردار ادا کرتا ہے۔

اقلیتوں کی سکڑتی آبادی

پاکستان میں سنہ 2017 کی قومی مردم شماری کے مطابق ملک کی مجموعی آبادی 20 کروڑ 76 لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے جس میں 96.47 فیصد مسلمان اور 3.53 مذہبی اقلیتیں ہیں۔

سنہ 1998 کی مردم شماری کے مطابق مسلم آبادی 96.28 فیصد جبکہ مذہبی اقلیتیں 3.72 فیصد تھیں، اس طرح دو مردم شماریوں کے دوران مذہبی اقلیتوں کی تعداد میں 0.19 فیصد کمی آئی ہے۔

اس تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اقلیتی آبادی میں کمی کیوں آئی ہے اس کی وجہ سرکاری طور پر نہیں بتائی گئی اور نہ ہی میڈیا نے اس پر کوئی تحقیقاتی خبریں دی ہیں۔

مردم شماری کے مطابق مذہبی اقلیتوں میں ہندو آبادی سب سے زیادہ ہے، جس کے بعد عیسائی، احمدی اور شیڈیول کاسٹ ہیں، دیگر اقلیتوں سکھ، بہائی، زرتش، پارسی، کیلاش اور یہودی وغیرہ کو دیگر کے ضمن میں لکھا گیا ہے۔

میڈیا میں اقلیتوں کی نمائندگی

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میڈیا کی مختلف نمائندہ تنظیموں کے غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی میڈیا کے اداروں میں ڈھائی لاکھ ملازم کام کرتے ہیں جن میں سے بیس ہزار صحافی ہیں۔ 20 ہزار صحافیوں میں سے 270 یا 1.3 فیصد مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

پاکستان میڈیا اینڈ ریگیولیٹری اتھارٹی کے مطابق پاکستان میں کل 96 ٹی وی چینلز ہیں جن میں 37 خبروں اور حالات حاضرہ کے چینلز ہیں اور ان میں سے 14 کی نشریات مقامی زبانوں میں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 2017 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان میں اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کی تعداد گذشتہ مردم شماری کی نسبت تعداد کم ہوئی ہے

اسی طرح ایف ایم ریڈیوز کی تعداد 143 ہے، 137 روزنامہ، 13 ہفتے روزہ، 2 پندرہ روزہ اور 45 ماہانہ میگزین ہیں۔ غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 16 کروڑ ٹی وی ناظرین ہیں، آٹھ کروڑ ایف ایم سنتے ہیں جبکہ پرنٹ میڈیا کی سرکولیش 70 لاکھ ہے۔

اس تجزیاتی رپورٹ کے لیے 12 مختلف اداروں کی کوریج کی نگرانی کی گئی اور یہ حقیقت سامنے آئی کہ اخبارات نے مذہبی اقلیتوں کے متعلق سب سے زیادہ خبریں اور تصاویر شایع کیں، ریڈیو نے انھیں مکمل طور پر نظر انداز کیا۔ اس تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اقلیتوں کی سب سے زیادہ مخالفانہ خبریں بھی اخبارات میں ہی شائع ہوئیں۔

توہین مذہب خبروں کا بڑا موضوع

میڈیا میں اقلیتوں کے حوالے سے خبروں میں سب سے زیادہ موضوع توہین مذہب کا تھا، ان خبروں میں مسیحی برادری کو اجاگر کیا گیا، تاہم ٹی وی اور ریڈیو نے توہین مذہب کے متعلق کوئی خبر نہیں دی۔

مذہبی اقلیتوں کے حوالے سے خبروں کا دوسرا موضوع ان کا ورثہ، خاص طور پر ثقافت اور آثار قدیمہ تھے۔ اس کے علاوہ ہندو اور احمدی کمیونٹیز کی املاک پر قبضے اور مذہبی اقلیتوں کے تہواروں کی بھی بعض خبریں نشر اور شائع ہوئیں۔

انسٹیٹیوٹ فار ریسرچ، ایڈووکیسی اینڈ ڈولپمنٹ کے محقق اور صحافی عدنان رحمت کا کہنا ہے کہ توہین مذہب کا معاملہ عددی لحاظ سے دیکھیں تو مسلمانوں کے خلاف زیادہ ہے لیکن جب اقلیتوں کی بات ہوتی سخت گیر پوزیشن آجاتی ہے۔

’جب اقلیتوں کے بارے میں رپورٹنگ ہی نہیں ہو گی اور کبھی کبھار جب ہوتی ہے تو اس میں مفروضے پر مبنی سوچ سامنے آ جاتی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے مسیحی اور ہندو کمیونٹی کا توہین مذہب کے علاوہ کوئی کام ہی نہیں ہے۔‘

تحقیق میں مانیٹرنگ کی گئی 53 خبروں میں سے 20 ہندو کمیونٹی کے متعلق تھیں، دوسرے نمبر پر مسیح برادری اور تیسرے نمبر پر سکھوں کے بارے میں خبریں تھیں، کیلاش کمیونٹی کی دو جبکہ احمدی، اسمائیلی اور شیعہ کمیونٹی کا ایک ایک خبر میں حوالہ تھا۔

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے سابق سربراہ ڈاکٹر توصیف احمد کا کہنا ہے کہ سندھ اور پنجاب میں ہندو اور مسیحی کمیونٹی کا جو جبری مذہب تبدیلی کا مسئلہ ہے اس کو اردو میڈیا اور بلخصوص ٹی وی چینل زیر بحث ہی نہیں لاتے، دوسرا مسئلہ امتیازی سلوک کا ہے جو آئینی، قانونی اور روایتی ہے اس پر بھی بحث نہیں ہوتی کیونکہ آئین میں سب شہری یکساں حقوق نہیں رکھتے اور اگر کوئی یہ مطالبہ کرتا ہے تو اسے ہائی لائیٹ نہیں کیا جاتا۔

نظریاتی مسئلہ یا پروفیشل ازم کا فقدان

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے سابق سربراہ ڈاکٹر توصیف احمد کا کہنا ہے کہ بنیادی مسئلہ نظریاتی ہے، کیونکہ گیٹ کیپر سے لیکر سب ایڈیٹر اور رپورٹر تک لوگ جو نصاب پڑھ کر آئے ہیں وہ جنرل ضیاالحق کے دور میں تشکیل دیا گیا ہے جس میں مذہبی جنونیت اور دیگر مذاہب سے حقارت پر مبنی ہے، تاہم اب جا کر بعض جامعات میں انسانی حقوق کا باب شامل کیا جا رہا ہے۔

عدنان رحمت کا کہنا ہے کہ کہیں بھی یہ پالیسی نہیں ہے کہ اقلیتوں کو رپورٹ نہیں کریں گے لیکن ترجیحات کا مسئلہ ہے اب عوامی مفاد عامہ کی صحافت نہیں رہی ٹی وی چینلز سے لے کر اخبارات تک آسان صحافت کرتے ہیں یعنی بیان بازی وغیرہ۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ان کا کہنا تھا کہ جو مذہبی اقلیتوں کے نمائندہ جماعتیں ہیں وہ اپنی فطرت میں مذہبی ہیں سیاسی نہیں۔ میڈیا واقعات کو رپورٹ کرتا ہے جب تک اقلیتی اپنے پروگرامز میں اپنے سیاسی معاشی حقوق اور مسائل کی بات نہیں کریں گے میڈیا رپورٹ نہیں کرے گا۔

سینیئر صحافی مظہر عباس کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر یہ نیوز چینلز کے بجائے انفوٹینمنٹ چینلز زیادہ ہو گئے ہیں جس میں نیوز ہوتی ہے لیکن اس کی پیشکش ایک تفریحی انداز میں کی جاتی۔ اب اس کا دفاع وہ اس طرح کرتے ہیں کہ جو ریٹنگ کا فارمولا ہے اس میں ان چیزوں کو ہی زیادہ ریٹنگ ملتی ہے جس میں جوش، تفریح، اور دہشت ہو۔

’چینلز سنجیدہ موضوعات کو پیش ہی نہیں کرنا چاہتے۔ اگر ریٹنگ کے فارمولے کو بہتر بنایا جائے تو صورتحال کافی بہتر ہو جائے گی۔‘

اسی بارے میں