انڈیا، پاکستان ٹریک ٹو ڈپلومیسی: مذاکرات اور تجارت آگے بڑھنے کا واحد حل

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’جب میرے رشتہ داروں اور دوست احباب کو خبر ہوئی کہ مجهے دو تین دن کے لیے پاکستان جانا ہے تو سبهی نے محتاط رہنے کا مشورہ دیا۔ کچھ نے کہا کہ ضرورت ہی نہیں پاکستان جانے کی، ایک دوست نے کہا کہ پاکستان جانے کی صورت میں انڈیا والے بلیک لسٹ کر دیں گے، جبکہ کچھ نے یہ کہا کہ پاکستان پہنچنے پر آئی ایس آئی والے تنگ کریں گے اور واپس آنے پر اپنے ملک کی ایجنسیاں سوال جواب کرتی رہیں گی، اس لیے چهوڑو یہ مصیبت گلے لینے کی کیا ضرورت ہے۔'

یہ باتیں اسلام آباد میں ہونے والے ٹریک ٹو مذاکرات میں انڈین وفد میں شامل ایک رکن نے بتائیں، ان کی درخواست پر یہاں ان کا نام ظاہر نہیں کیا جا رہا۔

لیکن وہ پاکستان آ کر خوش ہیں کیونکہ ان کے تمام خدشات‘ غلط ثابت‘ ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

'ریڈ کارپٹ بچھائیے، جنرل باجوہ کو دلی بلائیے'

ڈیئر میاں صاحب، آپ کے خط کا شکریہ: مودی

’آزادی رائے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت‘

انڈین آرمی چیف کا پاکستان کو سیکولر ہونے کا مشورہ

ان کا کہنا ہے کہ 'دراصل ایسا کچھ نہیں ہوا، پہلے لاہور اور پھر اسلام آباد پہنچ کر کہیں ایسا نہیں لگا کہ کسی اور ملک میں ہیں، نہ کسی ایجنسی نے کوئی سوال جواب کیے نہ ہی اسلام آباد کی مارکیٹ آنے جانے میں کوئی دقت ہوئی۔ یہاں سب شانتی ہے اور مجھے امید ہے کہ انڈیا میں آنے والے پاکستانیوں کو بھی دقت پیش نہیں آتی ہو گی۔‘

پاکستان اور انڈیا کے درمیان دو روزہ ٹریک ٹو مذاکرات کا پہلا دور سنیچر کے روز اسلام آباد میں ختم ہوا۔

مذاکرات میں انڈیا اور پاکستان کے وفود نے شرکت کی۔ پاکستان میں یہ مذاکرات تقریبا تین سال بعد منعقد کیے گئے ہیں جس کی ایک وجہ دونوں ملکوں کے درمیان ویزہ کے حصول کی سخت پالیسیاں بتائی جاتی ہے۔

امریکی انسٹی ٹیوٹ فار پیس اور مقامی غیرسرکاری تهنک ٹینک کے زیرِ اہتمام ہونے والے ٹریک ٹو مذاکرات میں شرکت کے لیے انڈین وفد دو روز قبل واہگہ کے راستے پاکستان پہنچا تها۔

انڈین وفد میں انڈیا کے مختلف تهنک ٹینکس کے سربراہان، اکیڈیمیا اور صحافی شامل تهے۔ ان مذاکرات کی خاص بات اس میں نوجوان نمائندوں کی شرکت تهی اور دونوں ملکوں کے نوجوانوں کے مابین رابطے ہی ان مذاکرات کی مرکزی خیال تھا۔

انڈیا سے آئے وفد کے شرکا نے کہا کہ 'پاکستان سے متعلق انڈیا میں ایسا خوف پایا جاتا ہے کہ جیسے وہاں پہنچنے پر نجانے کیا قیامت آ جائے گی، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔‘

اسی وفد میں شامل دویکا مٹل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سے پہلے بهی پاکستان آ چکی ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان عوامی سطح پر رابطوں کی بحالی کے لیے کام کرتی ہیں۔

وہ سمجهتی ہیں کہ دونوں ملکوں میں عوامی رابطوں کے فقدان کے باعث عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔

'میرے خیال میں دونوں ملک چند بڑے ایشوز کو پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ پاکستان سب سے پہلے کشمیر کے مسئلے پر ہی بات کرنا چاہتا ہے اور انڈیا صرف دہشت گردی پر۔ ان دو مسائل کی وجہ سے کسی اور مسئلے پر بات نہیں ہو رہی جبکہ دونوں ملکوں میں بہت سے مسائل ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، قیدیوں کا تبادلہ، پانی، ویزوں کا آسان حصول، فضائی حدود کے استعمال جیسے مسائل ہیں لیکن ان پر دونوں ممالک بات کرنے کو تیار نہیں۔ کیونکہ ہماری سیاست ایسی رہی ہے کہ ہم تعاون یا بات چیت کرنے کو تیار ہی نہیں ہیں۔ ہمیں سمجهنا ہو گا اس رویے سے کسی کا بهلا نہیں ہو سکتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

دویکا کہتی ہیں کہ یہ 'بہت ضروری ہے کہ کلچر آف پیس بنایا جائے کیونکہ صرف مذاکرات کے ذریعے آگے بڑها جا سکتا ہے۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، جنگ ہو گی تو خوشحالی نہیں آئے گی، نہ پاکستان میں نہ ہی انڈیا میں۔‘

وفد کی رکن سمیتا جو کہ صحافی ہیں، پہلے بهی کئی بار پاکستان کا سفر کر چکی ہیں، اور انہیں پاکستان میں مختلف برانڈز کی لان بہت پسند ہے۔

ان مذاکرات میں وہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے نوجوانوں کے درمیان مضبوط رابطوں اور دونوں ملکوں میں سیاسی سطح پر ٹهوس اقدامات کی بات کر رہی تهیں وہیں آج ان کے لیے ایک قابل افسوس خبر ملک میں جاری شٹر ڈاؤن ہڑتال بهی تهی۔

'مجهے پاکستان آنے کا انتظار اس لیے بهی تها کہ مجهے یہاں کی لان بہت پسند ہے، لیکن اب ہڑتال کے باعث دکانیں بند ہیں اور نجانے کس وقت کهلیں گی۔‘

جبکہ پورشیا نے بتایا کہ صبح سے ہوٹل میں ملنے والی کئی پاکستانی خواتین ان کی ساڑھی کی تعریف کرتی رہی ہیں۔

ایک اور صحافی مِندرہ نیر نے بهی بی بی سی سے بات کی اور وفد میں شامل پاکستانی اور انڈین اراکین سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں میں 'بہترین تجارت ہو سکتی ہے، اور اس کی بڑی وجہ انڈیااور پاکستان کی ایک ہی ثقافتی ورثے میں شراکت داری ہے'۔

مِندرا نیر کے مطابق دونوں ملکوں میں بہت سی ایسی آوازیں موجود ہیں جو 'جنگ نہیں چاہتیں اور امن کی بات کرتی ہیں۔ جیسا کہ ہم نے فروری میں دیکها جب پاکستان نے انڈین پائلٹ ابهینندن کو پکڑا، تو پاکستان میں کئی لوگوں نے حکومت سے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا اور پهر انڈیا میں کئی لوگوں نے تهینک یو پاکستان یعنی شکریہ پاکستان کا ٹرینڈ بهی چلایا۔ جس کا مطلب ہے کہ عوام میں رابطے ہوں تو دونوں ملک مسائل کے حل کی جانب جا سکتے ہیں۔‘

مندرا خود بهی صحافی ہیں، اس لیے انھوں نے فروری میں دونوں ملکوں کے میڈیا کے کردار کے حوالے سے بهی بات کی۔

ان کا کہنا تها کہ میڈیا کے کردار کا تعلق بهی کسی حد تک دونوں ملکوں میں عوامی سطح پر رابطوں کے فقدان سے جڑتا ہے۔ ’میڈیا بهی انہی سٹیریو ٹائپس کے لیے کام کر رہا ہے، میڈیا پر پابندی تو نہیں لگائی جا سکتی نہ ہی لگانی چاہییے تو ہم صرف یہ امید ہی کر سکتے ہیں کہ جب دونوں ملکوں میں رابطے اور سفارتکاری بڑهے گی، لوگوں کو امن کی قدر ہو گی تو میڈیا میں رپورٹنگ بهی شاید زیادہ متوازن اور بہتر ہو جائے۔ ہم امید ہی کر سکتے ہیں۔‘

پاکستانی وفد میں شامل وقار احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'انڈیا اور پاکستان کے درمیان تجارت کے شعبہ سب سے زیادہ اہم ہے۔ اس پر کام ہونا چاہییے، تاکہ ملکوں کی معیشت میں بہتری آئے۔ اور غربت پر کچھ قابو پایا جا سکے۔ جب دونوں ملکوں کا تعلق معیشت پر انحصار کرنے لگے گا تو جنگ و جدل اور نیوکلیئر بموں کے دعوے اور چیخ و پکار سنائی نہیں دے گی ، سب مذاکرات سے ہی حل ہو گا'۔

وفد میں شامل ساؤتھ ایشیا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر بینانجے تیریپاتھی نے تجویز دی کہ اس وقت 'انڈیا کی کسی یونیورسٹی میں کوئی پاکستانی طالبِ علم زیر تعلیم نہیں اور پاکستان کی کسی یونیورسٹی میں کوئی انڈین طالب علم نہیں، دونوں ملکوں کو اسٹوڈنٹ ایکسچینج پروگرامز پر کام کرنا چاہییے۔ جبکہ ویزوں کی پالیسی میں بهی دونوں جانب سے نرمی اختیار کرنے کی ضرورت ہے'۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ان مذاکرات میں پاکستان میں امور خارجہ کی پارلیمانی سیکرٹری عندلیب عباس نے بهی شرکت کی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان دونوں ملکوں میں امن قائم کرنے اور مذاکرات کی پالیسی پرعمل پیرا ہیں اور یہ معاملات وقت مانگتے ہیں۔

'امن کا قیام وقت طلب ہے اور آسان بهی نہیں۔ یہی وجہ کہ سیاستدان عام طور پر اس سے دُور رہتے ہیں، کیونکہ یہ ان کے مفاد میں نہیں۔ لیکن ہم دوسرے آپشنز بهی دیکھ رہے ہیں جیسا کہ ٹریک ٹو سفارتکاری ہے، یا بین الاقوامی ڈپلومیسی ہے۔ تاکہ یہ سب كو واضح ہو جائے کہ امن ہی واحد راستہ ہے۔‘

اس سوال پر کہ آج ہونے والے مذاکرات میں پہلےایسی خبریں آئیں کہ پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اور انڈین ہائی کمیشن سے نمائندے کی شرکت کا امکان ہے، لیکن پهر دفتر خارجہ نے لاتعلقی کا اظہار کیا اور دونوں جانب سے معذرت کرلی گئی تو کیا اس تاثرکو تقویت ملتی ہے کہ دونوں ملکوں کی حکومتیں ٹریک ٹو ڈپلومیسی کی سفارشات کو سنجیدہ نہیں لیتی ہیں؟ عندلیب عباس نے کہا کہ وزیر خارجہ ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے شرکت نہیں کر پائے جبکہ وہ خود اس وقت دفتر خارجہ اور حکومت پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہیں۔‘

ٹریک ٹو سفارتکاری کیا ہے؟

ممالک کے درمیان رابطے کئی سطحوں پر ہوتے ہیں، جنھیں عام طورپر نو مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

ان میں سب سے پہلی قسم ٹریک ون یا آفیشل ڈپلومیسی ہے جس میں سربراہان مملکت، وزرائے اعظم، وزرائے خارجہ وغیرہ سرکاری سطح پر بات چیت کرتے ہیں۔ یعنی یہ آفیشل سفارتکاری، پالیسی سازی اور قیام امن کے لیے حکومتی سطح پر کوششوں کا نام ہے۔

باہمی رابطوں کی دوسری قسم ٹریک ٹو ڈپلومیسی ہے۔

اس میں غیرسرکاری، پیشہ ورانہ، اور تنازعات کے حل تلاش کر کے امن کے قیام کی کوشش کا نام ہے۔ اس میں ان امور کے ماہرین مل بیٹهتے ہیں اور مسائل کا جائزہ لے کر ان کے حل تجویز کرتے ہیں، ان کی سفارشات رپورٹس کی شکل میں مرتب کی جاتی ہیں اور حکومتوں کے ساتھ بهی شیئرکی جاتی ہیں۔

سفارتکاری کی دیگر اقسام میں کاروباری ڈپلومیسی، عام شہریوں کی سطح پر سفارتکاری، ٹریک فائیو یعنی ریسرچ، تربیت اور تعلیمی سطح پر سفارتکاری، پِیس (امن) ایکٹویزم، ٹریک سیون یعنی مذہبی سفارتکاری، ٹریک ایٹ فنڈنگ ڈپلومیسی، اور ٹریک نائن یعنی میڈیا اور اشاعتی سطح پر سفارتکاری جیسے مواقعوں سے مختلف ممالک ایک دوسرے سے رابطے قائم رکهتے ہیں۔

پاکستان میں مختلف ممالک کے ساتھ ٹریک ٹو مذاکرات کا اہتمام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ریجنل پیس انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر اور عالمی امور کے ماہر رؤف حسن کہتے ہیں کہ ٹریک ٹو ڈپلومیسی غیر سرکاری سطح پر، بیک ڈور چینلز کے ذریعے، دو مکوں کے درمیان رابطوں کا نام ہے۔

'جب دو ملکوں میں سفارتی رابطے مشکل یا ختم ہو جائیں تو ایسے موقع پر ٹریک ٹو ڈپلومیسی ان رابطوں کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جیسا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان فروری میں پیش آنے والے مختلف واقعات کے بعد تناؤ اور کشیدگی میں بے حد اضافہ ہوا اور اس کے بعد کسی سطح پر اگر بات چیت جاری بهی تهی تو وہ ختم ہو گئی۔ ایسے کشیدہ ماحول میں یہ ٹریک ٹو مذاکرات نہایت اہمیت اختیار کر لیتے ہیں۔‘

پارلیمانی سیکرٹری برائے امور خارجہ عندلیب عباس نے کہا کہ ٹریک ٹو ڈپلومیسی بنیادی طور پر عوامی سطح پر عوامی ایشوز پر دو ملکوں کے بیچ رابطہ ہے، اور ایک ایسے وقت میں جب سفارتکاری میں یا حکومتوں کے درمیان رابطوں میں جمود یا کمی ہوئی ہے تو یہ ٹریک ٹو مذاکرات مزید اہم ہو گئے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان فروری میں پلوامہ حملے، اور پهر پاکستان کے شہر بالاکوٹ میں انڈین کاروائی اور جوابا ستائیس فروری کو پاکستان کی فضائیہ کی جانب سے ملکی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر انڈین طیارے کو مار گرانے اور انڈین ایئرفورس کے پائلٹ کی گرفتاری جیسے واقعات کے بعد جنگ کی سی صورتحال پیدا ہو گئی تهی۔

روایتی اور سوشل میڈیا پر تو یہ جنگ پوری شدت کے ساته شروع ہو چکی تهی، ایسے میں سرکاری اور نجی دونوں سطحوں پر پی ان ممالک میں بات چیت کا خاتمہ ہو گیا۔ یہاں تک کہ پاکستان کی فضائی حدود آج بهی انڈیا سے آنے والی پروازوں کے لیے بند ہے جبکہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی تقریب حلف برداری میں وزیر اعظم عمران خان کو دعوت دی نہ ان کی جانب سے بات چیت کی پیشکش کو قبول کیا۔

ایسے حالات میں ماہرین سمجهتے ہیں کہ ٹریک ٹو ڈپلومیسی کا آغاز ، خاص طور پاکستان کے کسی شہر میں، نہایت اہم ہے اور مستقبل کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔

اسی بارے میں