دادو: ’جنگل میں پیاس نے ماں اور بچے کی جان لے لی‘

well
Image caption جن علاقوں میں پانی 70 سے 80 فٹ کی گہرائی پر ملتا تھا اب وہ تین سو سے چار سو فٹ نیچے چلا گیا

شام پانچ بجے کا وقت تھا، طوفانی ہوا کے جھکڑ چل رہے تھے اور چاروں طرف ریت کا گرد و غبار تھا۔ دو بچے جو جنگل میں بکریاں چرانے گئے تھے محرم چانڈیو کے پاس آئے اور بتایا کہ جنگل میں ایک عورت اور بچے کی لاش موجود ہے۔

محرم چانڈیو ضلع دادو کے علاقے کاچھو کے گاؤں جعفر خان چانڈیو کے رہائشی ہیں جو تحصیل فرید آباد سے 17 کلومیٹر دور واقع ہے۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ زمین پر عورت اور دو سالہ بچے کی لاشیں موجود تھیں اور بچہ ماں کے سینے سے لگا ہوا تھا اور ماں کا ایک ہاتھ اس کے سر پر تھا۔

’میں نے ٹیلیفون پر آس پاس کے گاؤں کے لوگوں کو اطلاع دی کہ جنگل سے عورت اور بچے کی لاش ملی ہے، جس کے بعد آس پاس کے علاقے سے لوگ شناخت کے لیے آئے۔ عورت کی شناخت سبحانہ اور بچے کی شناخت واحد بخش کے طور پر کی گئی جو مشغور چانڈیو گاؤں کے رہائشی تھے۔‘

مزید پڑھیے

بلوچستان کی بارشیں کسانوں کے لیے امید کی کرن بھی

قحط زدہ زندگی کے روپ

محرم چانڈیو کے مطابق مذکورہ عورت ’اپنی بیٹی سے ملنے پانچ کلومیٹر دور وسان گاؤں جا رہی تھی کہ طوفان کے باعث راستہ بھول گئی۔ اس کے ساتھ پانی وغیرہ نہیں تھا جبکہ آس پاس بھی کہیں پینے کا پانی دستیاب نہیں کیونکہ آبادیاں بہت دور دور ہیں۔‘

پولیس تھانے کی حدود میں تنازعے کی وجہ سے چند گھنٹے لاشیں وہاں ہی موجود رہیں بعد میں ایس ایس پی کی مداخلت پر لاشیں تحصیل ہپستال میھڑ لائی گئیں جہاں ڈاکٹر نعیم اختر کھوکھر نے ان کا پوسٹ مارٹم کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ خاتون کی عمر پچاس سال کے لگ بھگ تھی جبکہ بچہ چار سال کا تھا اور دونوں کی موت کی وجہ پانی کی عدم فراہمی تھی۔ دونوں کے جسم خشک ہوچکے تھے۔

سندھ کے صحرائی علاقے تھر کی طرح کاچھو میں بھی گزشتہ دو سالوں سے قحط سالی ہے، یہ علاقہ پہاڑی سلسلوں، میدانی اور صحرائی علاقوں پر مشتمل ہے جو نوری آباد سے لے کر شہداد کوٹ کے پہاڑی سلسلے تک پھیلا ہوا ہے۔

صوبائی کابینہ دادو اور جام شورو کے کاچھو اور کوہستان کے علاقے کو قحط زدہ قرار دے چکی ہے۔

محرم چانڈیو کے مطابق علاقے میں پینے کے پانی کی دستیابی بہت بڑی مشکل ہے۔ ’زیر زمین پانی 300 فٹ سے زیادہ گہرائی پر ملتا ہے۔ بعض اوقات میٹھا ہوتا ہے ورنہ اکثر کھارا نمکین پانی ہے جو قابل استعمال نہیں۔ گذشتہ دو سالوں سے انتہائی کم بارشیں ہوئیں جس وجہ سے کھیتی باڑی نہیں کر سکے ورنہ یہاں جوار اور باجرہ کاشت کرتے ہیں۔‘

Image caption سندھ کے صحرائی علاقے تھر کی طرح کاچھو میں بھی گزشتہ دو سالوں سے قحط سالی ہے

کاچھو میں سرگرم غیر سرکاری تنظیم سجاگ سنسار آرگنائزیشن کے اہلکار معشوق برہمانی کا کہنا ہے کہ یہ ماں اور بچے کی پیاس سے ہلاک ہونے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے قبل بھی وہ اپنے بڑوں سے اور بعد میں اپنی زندگی میں ایسے واقعات کے بارے میں سنتے اور پڑھتے آئے ہیں۔

ان کے مطابق ’میدانی پہاڑی علاقے میں سراب نظر آتا ہے جس میں لوگ بھٹک جاتے ہیں۔‘

معشوق کے مطابق اس علاقے میں پانی کے وسائل تبھی حاصل ہوتے ہیں جب بارشیں ہوں جس سے زمین سیراب ہوتی ہے جبکہ بارشوں سے زیر زمین پانی کی صورتحال میں بھی بہتری آتی ہے لیکن چند سالوں سے بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے صورتحال سنگین ہوتی جارہی ہے۔

’جن علاقوں میں پانی 70 سے 80 فٹ کی گہرائی پر ملتا تھا اب وہ تین سو سے چار سو فٹ نیچے چلا گیا، خاص طور پر خیرپور ناتھن شاہ، سالاری اور شاہ گودڑو کے دیہی علاقے کے لوگ دیگر علاقوں کی طرف نقل مکانی کر گئے ہیں ورنہ دور دراز علاقوں سے پانی لانے پر مجبور ہیں، خواتین ہوں یا بچہ یہی نظر آتا ہے زندگی بس پانی کی ہی تلاش میں سرگرداں ہے۔‘

معشوق برہمانی نے شکوہ کیا کہ صحرائے تھر میں صورتحال میڈیا اور ایوانوں تک پہنچ جاتی ہے لیکن اس پسماندہ علاقے میں سیاست اور صحافت میں بھی پسماندہ ہے۔ حالانکہ بارشیں نہ ہونے اور فصلیں اور چارے کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہاں بھی جانور مر گئے ہیں خواتین اور بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں لیکن ساتھ میں عدم توجہی کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں