عمران خان کا دورۂ امریکہ: ’امریکہ کو باور کروانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان مثبت کردار ادا کر سکتا ہے‘

عمران، ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

وزیر اعظم عمران خان 21 جولائی کو تین روزہ سرکاری دورے پر امریکہ روانہ ہو رہے ہیں جہاں 22 جولائی کو ان کی ملاقات صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہو گی۔

وائٹ ہاؤس سے جاری ایک اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ اس ملاقات کے دوران امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے گی تاکہ خطے میں امن، استحکام اور معاشی آسودگی کی راہ ہموار ہو سکے۔

بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کاروں کی یہ رائے تھی کہ اگرچہ یہ دورہ پاکستان کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہو گا تاہم اس سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کے حوالے سے کسی بھی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں کی جانی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے

’ٹرمپ اور عمران خان کی ملاقات 22 جولائی کو ہوگی‘

عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ ملاقات کا ایجنڈا کیا ہو گا؟

عمران خان اور ٹرمپ ایک جیسی شخصیات کے مالک ہیں: امریکی سینیٹر

ان کے مطابق اس دورے کے دوران افغانستان میں جاری امن مذاکرات کو مرکزی حیثیت حاصل رہے گی۔

بڑی تبدیلی متوقع کی جا سکتی ہے؟

اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب منیر اکرم کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کا دورہ امریکہ میں پروگرام وہی جو گا جو کہ عموماً پاکستانی وزرائے اعظم کا اس نوعیت کے دوروں پر ہوتا ہے۔

'اس دورے کے دوران سب سے اہم ملاقات عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہو گی اور اس کو دورے میں مرکزی حیثیت حاصل ہو گی۔'

کیٹو انسٹیٹیوٹ سے وابستہ تجزیہ کار سحر خان کا کہنا تھا کہ عام طور پر پاکستان اور امریکہ کے خارجہ تعلقات مستحکم انداز میں چلتے ہیں اور آئندہ ملاقات میں کوئی بڑی پیش رفت متوقع نہیں ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان کو افغانستان کے تناظر میں دیکھتا ہے اور کم از کم صدر ٹرمپ کے دورِ صدارت میں یہ تاثر نہیں بدلے گا۔

'اگرچہ پاکستان اس بات کی امید رکھتا ہے مگر اس دورے سے کوئی بڑی تبدیلی واقع نہیں ہو گی۔'

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا دورہ کافی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ بہت عرصے بعد اس نوعیت کی ملاقات ہونے جا رہی ہے۔

'عمران خان کے پاس ایک موقع ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ اس موقع کو وہ کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ امریکہ میں مقتدر حلقوں پر وہ اپنا کیا نقش چھوڑتے ہیں، پاکستان کا مقدمہ کس طرح لڑتے ہیں اور امریکہ کو یہ باور کروانے میں کس حد تک کامیاب ہوں گے کہ پاکستان کو صرف ایک مخصوص (افغانستان کے) زوایے سے نہ دیکھا جائے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ FOREIGN OFFICE
Image caption گذشتہ ماہ پاکستان میں منعقدہ افغان امن کانفرنس میں حزب اسلامی کے امیر گلبدین حکمت یار کے علاوہ افغانستان کے اہم سیاسی رہنماؤں اور زعما نے شرکت کی تھی

شیری رحمان کے مطابق اگر پاکستان افغانستان میں جاری امن عمل کو اپنی بہتری کے لیے استعمال نہ کر سکا تو یہ بڑی زیادتی ہو گی۔

منیر اکرم کا کہنا تھا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری مذاکرات میں بہت سے مسائل حل طلب ہیں۔ کس قسم کی حکومت آئے گی کیا لین دین ہو گا ابھی ان سوالات کے جوابات آنا باقی ہیں۔

'یہ بہت پیچیدہ مسائل ہیں جن کو حل کرنے کے لیے پاکستان کو اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا۔ اور یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ افغانستان میں پاکستان کا ایک اثر ہے اور طالبان اور دوسرے لوگ پاکستان کی بات سنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کو اس وقت تک پاکستان کی ضرورت ہو گی جب تک یہ مسئلہ مکمل طور پر حل نہ ہو اور امریکی افواج کا افغانستان سے انخلا مکمل نہ ہو۔'

افغانستان میں مثبت پیش رفت اور پاکستان کی علاقائی اہمیت

اس سوال کے جواب میں کہ آیا افغانستان کے امن عمل میں مثبت پیش رفت سے پاکستان کی علاقائی اہمیت کم ہو جائے گی، سحر خان کا کہنا تھا افغان مذاکرات میں پاکستان کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

'پاکستان نے ہمیشہ افغان طالبان سے ایک تعلق رکھا ہے اور یہ تعلق نوے کی دہائی سے چلا آ رہا ہے۔ امریکہ کی خواہش ہے کہ ان تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان امن مذاکرات میں مثبت کردار ادا کرے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان طالبان کو اس بات پر قائل کرے کہ وہ صرف امریکہ سے بات چیت کا آغاز نہ کریں بلکہ افغان حکومت کے ساتھ بھی مذاکرات شروع کریں۔

'امن مذاکرات سے بڑا مسئلہ طالبان کے مطالبات ہیں اور میرے خیال میں وہ پاکستان بھی نہیں بدل سکتا۔ ان مطالبات میں سرِفہرست امریکی افواج کا افغانستان سے انخلا ہے جبکہ دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ افغانستان میں موجودہ حکومت اور آئین کو ختم کیا جائے اور نئی حکومت اور آئین کی تشکیل کی جائے۔'

سحر خان کا کہنا تھا کہ یہ وہ دو مطالبات ہیں جن سے طالبان پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

تاہم منیر اکرم کا کہنا تھا کہ مذاکرات جاری ہیں اور ان میں فریقین اپنی اپنی پوزیشن لیتے ہیں، مگر وقت کے ساتھ یہ بدل سکتیں ہیں کیونکہ مذاکرات کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ سب کے لیے قابل قبول حل ڈھونڈا جائے۔

انھوں نے کہا کہ طالبان جب کہتے ہیں کہ وہ افغان عوام سے مذاکرات کریں گے نہ کہ افغان حکومت سے تو یہ ایک ہی بات ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption گذشتہ ماہ افغان صدر اشرف غنی دو روزہ دورے پر اسلام آباد آئے تھے

'سب کو ساتھ بیٹھ کر ایک حل ڈھونڈنا ہو گا کہ اگلی حکومت کس کی اور کیسے بنائی جائے۔ اور اس تمام معاملے میں ان تمام فریقین کے علاوہ اس خطے اور دیگر عالمی طاقتوں کا بھی کردار ہو گا۔'

پاکستان صدر ٹرمپ کو کیسے راضی رکھ سکتا ہے؟

منیر اکرم کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ سپر پاور کے سربراہ ہیں اور پاکستان کے لیے یہ انتہائی اہم ہے کہ وہ اپنی پالیسی پر صدر ٹرمپ کو اپنا ہمنوا بنا سکیں۔

'یہ مشکل ضرور ہے۔ ٹرمپ کی ٹویٹس دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ شاید وہ دور ہیں اور زمینی حقائق سے زیادہ باخبر نہیں ہیں اور پاکستان کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ہم کیسے مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف اور آّئی ایم ایف کے ذریعے حالیہ دنوں میں جس طرح پاکستان پر دباؤ ڈالا گیا وہ ٹھیک نہیں تھا۔ 'ٹرمپ کو بتانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں مستحکم اور خوشحال معیشت ہی اس خطے میں بہتری کی ضامن ہو گی۔'

ایک سوال کے جواب میں سحر خان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن میں انڈیا کی لابی پاکستان میں مقابلے میں کافی بڑی اور مضبوط ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو دو زاویوں سے دیکھا جاتا ہے: اول، افغانستان کے تناظر میں اور دوسرا یہ کہ پاکستان کن دہشت گردوں یا گروہوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔

سحر خان کے مطابق پاکستان میں حال ہی میں سول ملٹری تعلقات میں دیکھی جانے والی یگانگت بہت ضروری تھی اور اس دورے میں پاکستان کی سول، ملٹری لیڈرشپ مل کر امریکہ کی انتظامیہ سے ملیں گے۔

امریکہ، ایران کشیدگی اس دورے کا موضوع ہو گا؟

منیر اکرم کا کہنا تھا کہ یہ موضوع بھی زیرِ بحث آئے گا۔ اور ابھی تک اگر یہ ایجنڈے میں نہیں ہے تو اس کو ہونا چاہیے کیونکہ ایران کا افغانستان اور خطے میں جو کردار ہے وہ کافی اہم ہے۔ اگر امریکہ ایران کشیدگی بڑھتی رہی تو یہ خطے کے لیے بھی ٹھیک نہیں ہو گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ہمیں ایران کو افغان امن عمل میں شامل کرنا ہو گا اور اس حوالے سے ان کے جو مفادات ہیں انھیں بھی دیکھنا ہو گا۔'

سحر خان کا کہنا تھا کہ اگر ایران اور امریکہ میں کشیدگی جنگ کی نہج تک پہنچ جاتی ہے تو یہ پاکستان کے لیے انتہائی خطرے کی بات ہو گی۔

اسی بارے میں