وادِی سون سکیسر کی جھیلیں سیاحوں کی راہ تک رہی ہیں

جھیل
Image caption کلرکہار جھیل آنے والے سیاح اس کے فطرتی حسن کی تعریف تو کرتے ہیں لیکن اس حسن کو گہنانے والے مسائل (گدلے پانی، مری ہوئی مچھلیوں اور خود رو جھاڑیاں)کی شکایت کرتے بھی نظر آتے ہیں

’آب و ہوا تو بہت ہی اچھی ہے یہاں کی لیکن انتظامات ویسے نہیں جیسے ہمیں مری یا ناران کاغان میں ملتے ہیں۔ ہوٹلنگ کا معیار وہ نہیں جو بندہ سوچ کر آتا ہے۔ کوئی معلوماتی بورڈ بھی نہیں ملے جن سے پتا چلے کہ جانا کدھر ہے۔ بار بار رک کر پوچھنا پڑ رہا تھا کہ کہاں سے جانا ہے، جھیل کا راستہ کدھر ہے۔‘

راولپنڈی سے کلرکہار سیاحت کی غرض سے پہلی بار آنے والے مرزا فیصل اس صورتحال میں اپنے فیصلے پر کچھ پریشان نظر آئے اور ان کی پریشانی کچھ غلط بھی نہیں تھی۔

اگر آپ نے کبھی اسلام آباد سے لاہور براستہ موٹروے سفر کیا ہے تو کوہستانِ نمک کے وسیع پہاڑی سلسلے سے تو یقیناً گزرے ہوں گے۔ نمکین پانی سے بھری قدرتی جھیلوں والے اس سرسبز علاقے کو مقامی زبان میں ’موروں کی وادی‘ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اس کی ایک اور وجہِ شہرت یہاں نمک کی کانیں بھی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

جب برف باری میں تفریح ایک بھیانک خواب بن گئی

پتریاٹہ: رات بھر کیبل کار میں پھنسے لوگوں کی کہانی

’دنیا کی سب سے بڑی غلطی کی، واپسی سے خوف آ رہا ہے‘

پنجاب کے ضلع چکوال میں واقع یہ وادی اسلام آباد سے 290 کلومیٹر اور ایم ٹو موٹروے سے 30 منٹ کی مسافت پر واقع ہے۔

یہ کلرکہار سے شروع ہوتی ہے اور یہاں آنے والے زیادہ تر سیاح اپنے دورے کی شروعات پہاڑ کی چوٹی پر واقع ’آہو باہو‘ یا ’موروں والی سرکار‘کے مزار سے کرتے ہیں جہاں شیخ عبدالقادر جیلانی کے دونوں پوتوں کی قبریں موجود ہیں۔

یہاں آنے سے قبل سنا تھا کہ اس مزار پر مور ناچتے ہیں۔ ہمیں مور تو نہیں ملے لیکن مزار کے اندر چکوال سے آئی ایک خاتون غزالہ ملیں۔

مزار
Image caption مشہور صوفی قلندر سلطان باہو نے یہاں کی پہاڑی پر 40 روز تک چلہ کاٹا تھا۔ اس چوٹی اور اسے کے ساتھ ملحقہ مزار تک جانے کے لیے کیبل کار لفٹ لگائی گئی ہے

غزالہ نے یہاں آنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ’میرے بیٹے نے منت مانی تھی کہ اگر میٹرک کے امتحان میں پاس ہو گیا تو دیسی مرغا خود پال کر قربان کروں گا۔ اس نے پانچ روپے کا چوزہ لیا اور اب منت پوری ہونے پر ہم وہی مرغا لے کر آئے ہیں۔ بس مزار کے گرد چکر لگوا کر اسے ذبح کرکے ادھر ہی پکا کر کھائیں گے۔‘

مزار سے باہر زائرین کے لیے سجاوٹی اشیا کا ایک بازار ہے جس کے ایک طرف چلے والی چوٹی اور اس سے ملحقہ مزار تک پہنچنے کے لیے کیبل کار لفٹ لگائی گئی ہے۔

پہاڑی پر موجود مزار اور نیچے جھیل کے درمیان میں تختِ بابری موجود ہے۔

یہاں لگی تختی کے مطابق مغل شہنشاہ ظہیرالدین بابر کی فوج نے چٹان تراش کر بابر کے لیے ایک تخت بنوایا جس پر کھڑے ہو کر مغل بادشاہ نے اپنی فوجوں سے خطاب کیا تھا۔

تخت
Image caption بابر نے اپنی تصنیف 'تزکِ بابری' میں کلرکہار کو ایک پُرفضا اور قدرتی خوبصورتی سے بھرپور خوشگوار مقام قرار دیا تھا

تخت سے نیچے اتریں تو اسی سڑک پر تھوڑا آگے جھیل کی پارکنگ ہے۔ موسم اور جگہ کے لحاظ سے پارکنگ خاصی ویران نظر آئی بس اکا دکا گاڑیاں ہی کھڑی تھیں جو خاصا خلافِ متوقع لگا۔

یہاں لاہور سے آیا ایک خاندان ملا۔ خاندان کے سربراہ ریحان نے بتایا کہ وہ فون پر ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن پنجاب (ٹی ڈی سی پی) کے ریزورٹ میں بکنگ کروا کر آئے تھے لیکن یہاں آکر انھیں بتایا گیا کہ کمرہ دستیاب نہیں ہے اور وہ پریشان پھر رہے تھے کہ کدھر جائیں۔

'آس پاس کے ہوٹلوں میں سات سے آٹھ ہزار میں ایک رات کے لیے کمرہ دستیاب تو ہے۔ چلو بندہ اتنے دور سے آیا ہے تو جیسے تیسے رہ ہی لیتا ہے لیکن کوئی انتظام تو ہو۔'

ان کی اہلیہ صبا کا کہنا تھا 'لاہور کے موسم سے بھاگ کر یہاں آئے ہیں۔ لاہور کے لحاظ سے یہاں کا موسم تو بہت ہی خوشگوار ہے لیکن زیادہ مسئلہ رہنے کے لیے ہوٹل اور کھانے کا ہے۔ جس ہوٹل میں کمرہ لینے گئے وہاں بھی سرے سے ہی کھانے کا کوئی انتظام نہیں۔'

کلرکہار جھیل

اس وادی کی قدرتی جھیلوں اور تاریخی مقامات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ریحان کہتے ہیں 'چھٹی گزارنے کے لیے اس سے بہتر جگہ ہو نہیں سکتی اگر یہاں بس ہوٹلنگ اور کھانے کے انتظامات کچھ بہتر کر دیے جائیں۔'

پارک سے نکل کر جھیل کی جانب مڑیں تو ایک شدید قسم کی بو آپ کا استقبال کرتی ہے۔۔۔ اتنی بو کہ خدا کی پناہ۔

بےشمار لمبی لمبی جھاڑیاں، کائی، مری ہوئی مچھلیاں اور گندگی، جھیل میں اڑتے خوبصورت سفید بگلوں کی اٹھکیلیوں کو ماند کر دیتی ہیں۔

اگر آپ بو برداشت کر سکتے ہیں تو یہاں خودکار پیڈل والی کشتیوں اور موٹر بوٹ سے چلنے والی کشتیوں کا انتظام بھی موجود ہے جن میں آپ جھیل کا چکر لگا سکتے ہیں۔

جھیل
Image caption کلر کہار جھیل میں خودکار پیڈل والی کشتیوں اور موٹر بوٹ سے چلنے والی کشتیوں کا اننتظام بھی موجود ہے

یہاں پہاڑ کی چوٹی پر بنایا گیا پی ٹی ڈی سی کا ریزورٹ، ریزورٹ کم اور ایک سرکاری دفتر زیادہ لگتا ہے۔

یہاں ہمیں میجر شیراز اور ان کی فیملی ملے۔ موٹروے پر لاہور سے راولپنڈی جانے سے پہلے ان کا ارادہ کٹاس جانے کا ہے لیکن وہ بھی سڑکوں کی صورتحال کا شکوہ کرتے نظر آئے۔

'میں رات کو بیٹھا دیکھتا رہا کہ اگر کلرکہار جا رہا ہوں تو فیملی اور بچوں کے ساتھ کہاں کہاں جا سکتا ہوں۔ پہلے تو میں نے سوچا تھا بچوں کے ساتھ ہائی کنگ ٹریک پر سویک جھیل چلا جاتا ہوں لیکن ایک تو ٹریک کی حالت اتنی خراب ہے دوسرا اگر خدانخواستہ کوئی حادثہ ہو جاتا ہے تو بچانے والا کوئی عملہ موجود نہیں۔ میں تو بچوں کے ساتھ وہاں جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔'

کلر کہار تک آنے والے سیاح آگے موجود جھیلوں کا رخ کیوں نہیں کرتے؟

اگرچہ کلر کہار آنے والے زیادہ تر لوگ کلرکہار جھیل سے ہی واپس لوٹ جاتے ہیں تاہم یہاں سے کچھ فاصلے پر وادی سون سکیسر میں بھی کئی جھیلیں بھی موجود ہیں۔

جہاں کلرکہار کے ایک طرف چوآسیدن شاہ روڈ پر وادی کہون میں سویک جھیل، کٹاس کا تاریخی مندر اور کھیوڑہ نمک کی کانیں موجود ہیں وہیں اس کے دوسری جانب خوشاب روڈ اور نوشہرہ جابہ روڈ پر کوہستان نمک کی پہاڑیوں کے دامن میں قدرتی طور پر بنی تین اور جھیلیں بھی ہیں۔

یہ جھیلیں کلرکہار کی جھیل سے کہیں زیادہ خوبصورت اور بڑی بھی ہیں لیکن ان کا راستہ مصطفیٰ زیدی کی ایک غزل کے مصرعے 'انھی پتھروں پر چل کے اگر آ سکو تو آؤ' کی حقیقی تصویر ہے۔

300 مربع میل پر پھیلی وادیِ سون سکیسر خوبصورت قدرتی جھیلوں، جھرنوں، آبشاروں، سرسبز جنگل پر مشتمل ہے۔ یہ وادی پنجاب کے ان چند مقامات میں سے ایک ہے جہاں برف باری بھی ہوتی ہے۔

گوگل میپس تصویر کے کاپی رائٹ GoogleMaps

نمکین پانی کی یہ جھیلیں کھبیکی، اچالی اور جھالر جھیل کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ ان تینوں جھیلوں کو ’اچالی کمپلیکس‘ کا نام دیا گیا ہے۔

رقبے کے لحاظ سے اچالی کمپلیکس کی جھیلیں کلرکہار جھیل کےمقابلے میں کئی گنا زیادہ بڑی اور قدرتی خوبصورتی سے مالامال ہیں لیکن کلرکہار تک آنے والے سیاح وادیِ سون میں موجود ان جھیلوں کا رخ کیوں نہیں کرتے؟

یہی جاننے کے لیے ہم نے بھی کھبیکی اور اچھالی جھیلوں کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

کھبیکی جھیل

کھبیکی جھیل کلرکہار سے 62 کلومیٹر جنوب کی جانب خوشاب روڈ و نوشہرہ جابہ روڈ پر واقع ہے۔ لیکن یہ سڑک اتنی بری حالت میں ہے کہ آپ کو 62 کلومیٹر کی مسافت طے کرنے میں ڈھائی گھنٹے سے زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔

سڑک
Image caption کلرکہار سے کھبیکی جھیل کو جانے والا راستہ

مقامی لوگوں کی مدد سے پوچھتے پوچھتے ہم بھی کسی طرح کھبیکی جھیل پہنچ ہی گئے۔

کھبیکی جھیل پر گائیڈ اور انتظامیہ کا کوئی اہلکار تو نہیں مل سکا جو جھیل کے بارے میں کچھ رہنمائی کرتا لیکن زندگی کے آثار ضرور نظر آئے اور علاقائی جانوروں نے ہمارا استقبال کیا۔

اس خطے کی باقی جھیلوں کی طرح یہ بھی نمکین پانی کی قدرتی جھیل ہے۔ پہاڑوں کے دامن میں بنی یہ جھیل، کلرکہار کی بدبودار جھیل کے مقابلے میں کہیں زیادہ خوبصورت ہے۔ لیکن یہاں ہر طرف ویرانی ہی ویرانی تھی، نہ بندہ تھا نہ بندے کی ذات۔

ایک جانب کچھ سیاح دکھائی دیے جن میں قائد آباد سے آنے والے عاطف بھی تھے۔ ان کا کہنا تھا 'ایک تو سڑک کے مسئلے کی وجہ سے لوگ ادھر کا رخ نہیں کرتے، دوسرا یہاں کھانے کو کچھ نہیں ملتا۔ حتیٰ کہ پینے کے پانی تک کا کوئی انتظام نہیں۔

’اگر کوئی سیاح آ کر جھیل کنارے بیٹھتا ہے تو وہیں ان کے بیچ سے آس پاس کے گاؤں کے مقامی جانور بھی گزر رہے ہوتے ہیں۔ نہ یہاں کوئی سایہ دار درخت ہے نا ہی دیکھ بھال کو کوئی انتظام۔‘

کھبیکی
Image caption کھبیکی جھیل

دیکھ بھال کے لیے کوئی اہلکار موجود نہیں، شاید اسی لیے گاڑیوں کی پارکنگ ہونے کے باوجود اسے استعمال نہیں کیا جا رہا۔ جس کا جدھر دل چاہا ادھر گاڑی اور موٹرسائیکل کھڑی کر دی حتیٰ کہ کچھ لوگ تو اپنی گاڑیاں اور موٹر سائیکل تو جھیل کے پانی تک لے آئے۔

جھیل کنارے کافی ساری ٹک شاپس بھی بنی نظر آئیں لیکن ان میں سے ایک میں بھی کوئی دکاندار یا کھانے پینے کا کوئی سامان نظر نہیں آیا۔

اتنے مشکل راستے سے گزر کر یہاں پہنچنے پر ویرانی اور کوئی انتظامات نہ ملنے پر سیاح خاصے مایوس نظر آتے ہیں۔

فیصل آباد سے آئے عاشق علی کے مطابق 'جب سردیوں کے موسم میں روس میں سخت برف پڑتی ہے تو مرغابیاں وہاں کی جھیلوں سے ہجرت کر کے موسمِ سرما گزارنے ادھر کا رخ کرتی ہیں اور تب یہ جھیل کیا ہی خوبصورت نظارہ پیش کرتی ہے۔'

انیقہ
Image caption ’اب ایک لڑکی اتنے دور سے سفر کر کے کہیں پہنچے تو پہلی چیز جس کے بارے میں آپ پوچھتے ہیں وہ واش روم ہی ہوتی ہے۔ یہاں ریستوران میں ایک بنا تو ہوا ہے لیکن اسے ایسی جگہ بنایا گیا ہے جہاں سامنے ہی کھانے پینے کا انتظام ہے‘

عاشق علی کے ساتھ آنے والی انیقہ وہاں موجود واش روم کی سہولیات پر سخت نالاں نظر آئیں۔

'اب ایک لڑکی اتنے دور سے سفر کر کے کہیں پہنچے تو پہلی چیز جس کے بارے میں آپ پوچھتے ہیں وہ واش روم ہی ہوتی ہے۔ یہاں ریستوران میں ایک بنا تو ہوا ہے لیکن اسے ایسی جگہ بنایا گیا ہے جہاں سامنے ہی کھانے پینے کا انتظام ہے، وہیں فیملیز بیٹھی کھانا کھا رہی ہیں اور سامنے دروازہ ہے واش روم کا۔۔ کیا صفائی اور کیا پرائیویسی۔ گندا تو تھا ہی میں واش روم جاتے ہوئے عجیب ہیجان کا شکار رہی ۔‘

کھبیکی جھیل میں دو پرانی سی کشتیاں بھی نظر آئیں۔ جن میں سے ایک پر بٹھا کر ملاح آپ کو آدھی جھیل کا چکر تو لگوا ہی دیتے ہیں لیکن کشتی تک پہنچنے والا راستہ دشوار گزار پتھروں پر مشتمل ہے۔

یہاں ٹکٹ دینے اور چیک کرنے والے ثاقب اقبال کے مطابق ’یہ راستہ ٹھیک کرانے کے لیے کتنی بار کہا ہے لیکن افسر لوگ نہیں کر کے دیتے۔‘

کھبیکی جھیل کے کنارے ایک شامیانے کے نیچے دو سازندے بھی ہارمونیم اور ڈھول بجاتے نظر آتے ہیں۔ یہ لیاقت علی حسرت اور ان کے صاحبزادے آصف علی ہیں جو ہر روز یہاں آ کر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

جھیل
Image caption کھبیکی جھیل میں کشتی تک پہنچنے والا راستہ دشوار گزار پتھروں پر مشتمل ہے

جھیل کنارے مقامی پنجابی زبان میں گایا جانے والا گیت سننے کا اپنا ہی مزا ہے لیکن یہ مزا تب کرکرا ہو جاتا ہے جب آپ لطف اندوز ہو رہے ہوں اور مویشیوں کا ریوڑ مٹرگشتی کرتا ہوا وہاں آئے اور فضلہ گرانا شروع کر دے۔

پورے دن ہمیں کھبیکی جھیل پر انتظامیہ کا کوئی اہلکار نہ مل سکا اور مقامی لوگوں کے مطابق یہ کوئی عجیب بات نہیں کیونکہ انھوں نے بھی وہاں انتظامیہ کے کسی نمائندے کو آتے نہیں دیکھا ہے۔

اچھالی جھیل

کھبیکی سے ہم نے اچھالی جھیل کا رخ کیا جو وہاں سے تقریباً 26 کلومیٹر کی مسافت (خوشاب روڈ و نوشہرہ جابہ روڈ ) پر واقع ہے لیکن سڑک کی خراب حالت اور راستوں کی نشاندہی نہ ہونے کے باعث وہاں پہنچنے میں بھی ہمیں تقریباً ایک گھنٹہ لگ گیا۔

اچھالی
Image caption اچھالی جھیل

اچھالی جھیل کے حالات کھبیکی سے بھی بدتر نظر آئے۔

یہاں پارکنگ کا کوئی انتظام نہیں۔ جھیل تک جانے کے لیے آپ کو گاڑی یک رویہ سڑک پر پارک کرنا پڑتی ہے جس پر دونوں جانب سے ٹریفک آ جا رہی ہے۔

اب ایسے میں اگر آپ کو جھیل کا نظارہ کرنا ہے تو گاڑی بس خدا کے رحم و کرم پر اسی سڑک کے کنارے چھوڑ جائیں۔

جھیل تک پہنچنے کے لیے ایک بہت ہی تنگ راستہ ہے جس کی مرمت ہو رہی ہے۔

کھبیکی جھیل کی طرح یہاں بھی نہ تو بیٹھنے ک کوئی بینچ ہیں، نہ سایہ، نہ کھانے پینے کی کوئی دکان، نہ کوئی ریستوران۔ پینے کے لیے ٹھنڈا تو کیا گرم پانی تک میسر نہیں۔ ایک کشتی نظر آئی لیکن چلانے کے لیے کوئی ملاح نہیں تھا۔

جھیل

یہاں ہمیں خوشاب سے آئے بلال اور صہیب ملے، جن کا کہنا تھا 'ہم نے انٹرنیٹ پر اس جھیل کی ایک ویڈیو دیکھی تو سوچا جانا چاہیے۔۔ لیکن یہاں تو کچھ بھی نہیں۔ نہ درخت ہیں نہ کوئی پوائنٹ بنا ہے۔ آ کر کر غلطی ہی کی ہے ۔'

اچھالی بھی نمکین پانی سے بنی قدرتی جھیل ہے۔ یہاں بھی گائیڈ یا رہنمائی کرنے کے لیے کوئی نہیں مل سکا لیکن دیکھنے میں اچھالی سالٹ رینج کی سب سے بڑی جھیل نظر آتی ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق موسمِ سرما میں یہ جھیل سائبیریا اور یورپ کے دوسرے ممالک سے ہجرت کرکے آنے والے تقریباً دس لاکھ پرندوں کا مسکن بنتی ہے۔

پہاڑوں کے دامن میں واقع تاحدِ نظر تک پھیلی یہ جھیل قدرت کا ایک عظیم شاہکار ہے۔۔اچھالی جھیل کے شفاف پانی پر تیرتے اور اٹھکیلیاں کرتے بگلے بھی نظر آتے ہیں۔

جھیل
Image caption اچھالی جھیل کے نامساعد حالات فطرت سے محبت کرنے والے سیاحوں کو محکمہ ٹوریزم پر تنقید کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں

لیکن حکومت کی عدم توجہی کے باعث قدرت کے یہ انمول شاہکار سیاحوں کی نظروں سے اوجھل ہونے کے ساتھ ساتھ بربادی کی جانب گامزن ہیں۔

مقامی لوگوں اور یہاں آنے والے سیاحوں کی یہ خواہش ہے کہ ان جھیلوں تک پہنچنے والی سڑکیں بہتر کرنے کے علاوہ اگر سیاحوں کی سہولت کے لیے کچھ انتظامات ہو جائیں تو یہ جھیلیں بہت اچھے تفریحی مقامات بن سکتی ہیں جس سے شمالی علاقہ جات میں جانے والے سیاحوں کا بوجھ کم کرنے میں مدد ملنے کے ساتھ علاقے کے لوگ بھی مستفید ہوں گے۔

حکومت میں آنے سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے منشور میں سیاحت کے فروغ سے متعلق منصوبے شامل تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کو اپنے منشور کے اس اہم حصے پر عملدرآمد کے لیے مزید کتنا وقت درکار ہو گا۔

۔

اسی بارے میں