آمنہ مفتی کا کالم: پلاسٹک کا بھوت!

پلاسٹک تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یہ اسی کی دہائی کا ذکر ہے ہمارے گھر میں سودا سلف لانے کے لئے زین کے دو موٹے تھیلے ہوا کرتے تھے۔ ایک تھیلا بھٹی چڑھنے جاتا تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا۔

سودا لانے والا ملازم بچھیری نامی گھوڑی کو تانگے میں جوتتا، جن بچوں نے سکول جانا ہوتا انھیں تانگے میں سوار کراتا، راستے بھر دل سے جوڑ جوڑ کر رنگ برنگے قصے سناتا، واپسی پر سودا سلف لے کر مسر مسر گھر پہنچتا۔ سودے کا تھیلا عمرو کی زنبیل کی طرح گرم مصالحوں، اخباری کاغذ میں لپٹے گوشت، قیمے اور سبزیوں وغیرہ سے بھرا ہوتا تھا۔

سال کے سال کمہار آتا تھا اور کئی درجن، گھڑے، کنالیاں، روغنی ہانڈیاں، صراحیاں، پیالے، سکوریاں، ڈولیاں، ڈولے اور چاٹیاں چھوڑ جاتا تھا۔ اس وقت تک پنجاب کے بیشتر علاقوں میں ہینڈ پمپ استعمال ہوتے تھے اور ابھی کئی جگہ کا پانی کھارا بھی تھا۔

آمنہ مفتی کے مزید کالم پڑھیے

گیس اور بجلی خون کی قیمت پر ملنے کی خوشخبری!

ایک ویڈیو جو ہمیں باعزت بری کرا دے!

پنجاب کی تقسیم

آمنہ مفتی کا کالم: گندی باتیں!

یہ بھی اسی کی دہائی کا ہی ذکر ہے کہ کراچی سے آنے والی ایک عزیزہ نے ہلکے گلابی پولکا ڈاٹس والا ایک بہت ہی مہین لفافہ جس کے دو ہینڈل سے بھی بنے ہوئے تھے، سفری بیگ سے نکال کر صحن میں پھینکا۔ مئی کی لو میں وہ شاپر، شام پڑے تک کبھی ادھر اور کبھی ادھر اڑتا پھرا۔ جیسے پلاسٹک سے پاک اس صحن میں چاروں کھونٹ اپنی حکمرانی قائم کرنا چاہتا ہو۔

اگلی صبح پتا چلا کہ حوض کے کنارے ایک بطخ تڑپ رہی ہے۔ فٹافٹ ذبح کیا گیا۔ پیٹ چاک کرنے پر معلوم ہوا کہ بے چاری کی موت شاپر کھانے سے ہوئی ہے۔

شاپر کا بھوت پنجاب کے دور افتادہ ترین گاوں میں اپنی راجدھانی کے لئے پہلی بھینٹ لے چکا تھا۔

دن پر دن گزرتے گئے، سودے کا تھیلا موقوف ہوا۔ کون روز دھلوائے اور پیوند لگوائے؟ دکاندار خود ہی پلاسٹک کے شاپروں میں سودا ڈال کے پکڑا دیا کرتے تھے۔ کچھ ہی سال گزرے کہ پتا چلا، پانی میں زہر ہے، اتنے لوگ بیمار ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹروں نے مریضوں کو منرل واٹر پینے کی تلقین شروع کر دی۔ گلی گلی پلاسٹک کی بوتلوں میں بند پانی پہچنے لگا۔

کوزے، کجے، سکوریاں غائب ہوئیں، ڈسپوزایبل چمچ، پلیٹ اور گلاس آ گئے۔ تانبے کے برتن، جرمن سلور اور سٹین لیس سٹیل مہنگے تھے، پلاسٹک کے برتنوں نے اس منڈی پر بھی قبضہ جما لیا۔ کلہڑ، پیالے، منظر سے غائب ہوئے اور پلاسٹک کے ڈھکن والے ڈسپوزایبل کپ آ گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یہ سب کب ہوا؟ کمہار کہاں غائب ہوا؟ مٹکے، صراحی کی جگہ پانی کا ڈسپنسر کب آیا، یاد نہیں پڑتا۔

اسی دوران بھینس کو شہر سے نکال کر ٹیٹرا پیک کی ہوا بنائی گئی۔ پیکجنگ کے نام پر کوڑا پلاسٹک کے تھیلوں میں بھر بھر کے بیچا اور خریدا جانے لگا۔ ہم سب زومبیوں کی طرح اسی کام میں مصروف رہے۔

یہ بھی شائد اسی کی دہائی کا ذکر ہے کہ ماحولیات پر رونے والوں نے واویلا شروع کیا۔ مگر ابھی کسی کو کچھ خاص سمجھ نہ آئی۔

شاید نوے کی دہائی کا آخری سال تھا۔ مئی کی ایک شام میں نے شمال سے آندھی اٹھتی دیکھی۔ آندھی کیا تھی، کئی لاکھ، یا شاید کئی کروڑ شاپروں کی ایک بارات تھی جو ناچتی گاتی، لڈیاں، دھمالیں ڈالتی، تالیاں پیٹتی، شہر پر وارد ہو رہی تھی۔ بیس سال پہلے اڑتے اکیلے شاپر کی لائی تباہی مجھے یاد تھی۔ جانے یہ سب مل کے کس کس کا گلا گھونٹنے آ رہے تھے؟

شاپروں کی یہ کہانی اس لیے یاد آ گئی کہ کہیں سے کان میں بات پڑی کہ 14 اگست سے اسلام آباد کو شاپر فری کر دیا جائے گا۔ سن کر دلی سکون ملا۔ دل کا تو یہ ہے کہ کمبخت، باتوں سے بہل جاتا ہے مگر اس عقل کا کیا کیجئے جو مستقل نفی میں سر ہلاتی رہی۔

شاید شاپر کے بھوت نے بچپن سے ایسا ڈرا رکھا تھا کہ اب ذہن یہ تسلیم کرنے پر ہی نہیں آ رہا تھا کہ شاپر کبھی غائب بھی ہو سکتے ہیں۔

پھر ترجمان وزیر اعلی پنجاب کا ایک اعلان نظر سے گزرا، جس سے یہ معلوم ہوا کہ اب سے تمام ہوائی اڈوں پر سفری بیگ پلاسٹک سے مڑھوانے بحکم سرکار لازمی ہیں۔ اتنا بھولا تو اب بھولا بھی نہیں رہا کہ بین السطور جھانکتی سچائی کو نا پاسکے۔

فی بیگ پلاسٹک مڑھوانے کا خرچہ پچاس روپے ہوگا۔ ایک ایک مسافر کے پاس دو بیگ تو لازمی ہوتے ہیں۔ کتنے مسافر ہوائی سفر کرتے ہیں اس کا حساب بھی لگا لیجئے۔ باقی باریک باریک حساب بھی خود ہی سمجھ آ جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عرض یہ ہے کہ کمانا اور ٹھیکے ویکے لینا بہت اچھی بات ہے۔ لیکن یہ کمائی کسی اچھے ڈھنگ سے بھی ہو سکتی ہے۔

لاہور کے علاقے محمود بوٹی پر کوڑے کا پہاڑ پڑا سڑ رہا ہے۔ اسے دساور فروخت کرنے کا ٹھیکہ لیجئے۔ یہاں جو جنگل ہوا کرتا تھا، اسے دوبارہ سے اگانے کا ٹھیکہ لیجئے۔ یقین جانیئے یہ پچاس روپے فی بستہ موت فروخت کرنا آپ پر بالکل زیب نہیں دیتا۔ زندگی بانٹیے ہمیں اور اگلی نسلوں کو پلاسٹک کے عذاب سے بچایئے۔

اگر یہ تجویز نہیں بھاتی تو بجلی کے بل میں جہاں اتنے سرچارج ہیں وہیں ایک ’پلاسٹک سر چارج‘ لگا کر فی صارف سو روپے کاٹ لیجئے مگر خدارا یہ پلاسٹک ہم پر مت مڑھئیے۔ سب دم گھٹنے سے مر گئے تو حکومت کس پر کیجئے گا حضور؟

اسی بارے میں