آمنہ مفتی کا کالم: مارنا منع ہے!

فاطمہ سہیل اور محسن عباس حیدر تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

پرسوں رات ایک سہیلی نے خبر دی کہ محسن عباس کی بیگم فاطمہ سہیل نے ان پر تشدد کا الزام لگایا ہے اور چند گھنٹوں میں ہی یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی جسے آج کی زبان میں وائرل ہونا کہتے ہیں۔

جتنے منھ اتنی باتیں، لیکن فاطمہ کے چہرے اور ہاتھ کے نیل کچھ اور ہی داستان سنا رہے تھے۔ وہ خواتین (اور یہاں کون ہے جس نے بند کمروں کے پیچھے طمانچے کھا کے اپنی شادی نہیں بچائی؟) جو بد قسمتی سے گھریلو تشدد سے آگاہ ہیں۔ ان نشانات کو بخوبی پہچان گئیں ہوں گی۔ یہ کلائی مروڑنے کے نیل اور یہ گال پر ابھرے تین انگلیوں کے نشان۔

محسن عباس کا کہنا ہے کہ یہ چوٹیں، فاطمہ کو سیڑھیوں سے گرنے سے لگی تھیں۔ مزید بدقسمتی یہ کہ ایسی کمبخت پھسلویں سیڑھیاں، قریباً ہر پاکستانی گھر میں ہوتی ہیں، جہاں سے صرف بیوی اور بہو ہی پھسلتی ہے۔

شوہر مسٹنڈا کبھی گر کے سر میں گومڑا اور جبڑے پہ نیل نہیں ڈالواتا۔ خیر، کیا کہہ سکتے ہیں، نصیب اپنا اپنا۔

آمنہ مفتی کے مزید کالم پڑھیے

پلاسٹک کا بھوت!

تھپڑ سے نہیں، مردہ ضمیر سے ڈر لگتا ہے صاحب!

ایک ویڈیو جو ہمیں باعزت بری کرا دے!

گیس اور بجلی خون کی قیمت پر ملنے کی خوشخبری!

یہ ایک افسوسناک صورت حال ہے۔ ایک گھر برباد ہو رہا ہے۔ ایک اور بچہ ایک ٹوٹے ہوئے خاندان کی وجہ سے ایک پریشان زندگی گزارنے جا رہا ہے اور ہم کچھ نہیں کر سکتے۔

شاید ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں اور اسی لیے، فاطمہ اور محسن نے یہ معاملہ عدالت کے ساتھ ساتھ ہمارے سامنے بھی رکھا۔ ایک بات تو طے ہے کہ ان دونوں کی شادی ختم ہو رہی تھی۔ فاطمہ کو یقیناً کچھ معاشی تحفظات درکار تھے اور محسن عباس نے جیسا کہ خود بتایا کہ اپنے کپڑے خود دھو دھو کر اور کھانے خود گرم کر کے عاجز آچکے تھے اور اب وہ دوسری شادی کرنا چاہتے تھے جو کہ بقول ان کے ان کا شرعی حق ہے۔ یہ سب کہتے ہوئے ان کا ایک ہاتھ قرآن پاک پر تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ YouTube
Image caption محسن عباس نے اتوار کی رات لاہور پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سامنے اپنا موقف بیان کیا

فاطمہ کا شرعی حق کیا تھا؟ نا فاطمہ نے بتایا نہ پریس کانفرنس میں موجود کسی صحافی نے ہی پوچھا۔ شیر خوار بچے کی ماں کے لیے شرع کیا کہتی ہے؟ عورت پر مبینہ طور پر ہاتھ اٹھانے والے کی کیا سزا ہے؟

یہ وہ سوالات ہیں جو سالہا سال عورتوں پر ڈرامے لکھوانے، کرنے اور ان سے ان گنت پیسہ بنانے والوں نے بھی کبھی نہ اٹھائے۔ دکھائی گئی تو مار کھاتی ہوئی عورت جو اپنا گھر بچانے کو پٹ رہی تھی اور پٹے جا رہی تھی۔ صرف اس لیے کہ دنیا اس پر یقین نہیں کرے گی۔

محسن عباس ہماری انٹرٹینمینٹ کی صنعت کا بڑا نام ہیں۔ انھوں نے بڑی محنت سے اپنا نام بنایا۔ ان کی شادی بھی محبت کی شادی تھی۔ وہ محبت جو چند ماہ کے اندر اڑن چھو ہو گئی اور اس کی جگہ ایک زہریلے تعلق نے لے لی۔ محسن کو شکایت ہے کہ ان کی بیگم جھوٹی تھیں اور گھر کا دھیان نہیں رکھتی تھیں۔ ملازموں تک سے کام نہیں لے پاتی تھیں، انھیں گھر جاتے ہوئے خوف آتا تھا۔

میں معاذ اللہ، محسن کو جھوٹا نہیں کہہ رہی لیکن پاکستانی مرد کتنے بد نصیب ہیں کہ ننانوے فی صد مردوں کو اپنی بیویوں سے یہ ہی شکایت ہے۔

ہمارے ڈراموں میں جب عورت شوہر سے پٹ کر ماں کے گھر جاتی ہے تو ماں کہتی ہے کہ واپس چلی جا، یہ گھر تو بھائی بھابھیوں کا ہے۔ سہیلی کے گھر پناہ لیتی ہے تو سہیلی کا پریم چوپڑا کی وضع کا شوہر اس کی طرف بڑھتا ہے۔ دارالامان میں جاتی ہے تو میڈم پہلے ہی ایک سیٹھ سے تازہ گوشت کا سودا کیے بیٹھی ہوتی ہے۔

ہر طرف سے مایوس ہو کر واپس پلٹتی ہے تو میاں معافی مانگ لیتا ہے اور سب خوشی خوشی رہنے لگتے ہیں۔ جی نہیں، وجہ کچھ بھی ہو، جذباتی اور جسمانی تشدد کے بعد نا محبت بچتی ہے نا خوشی۔ سماجی، مجبوری اور معاشی کمزوری کے باعث اگر عورت پلٹ بھی آتی ہے تو یہ تعلق مردہ گھوڑے کو گھسیٹنے جیسا ہوتا ہے۔

تشدد کا ثبوت کتنی عورتیں پیش کر سکتی ہیں؟ کیا ہر تھپڑ، ہر گالی، کردار پر لگے ہر الزام کا میڈیکل کرایا جا سکتا ہے؟ ہر زخم، پولیس سرجن کو نظر نہیں آتا۔ کچھ گھاو صرف ان کو نظر آتے ہیں جن کے درمیان خون کا یا کاغذ کا رشتہ چاہے موجود نا ہو مگر درد کا رشتہ ضرور ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

فاطمہ کے ساتھ آج ان گنت خواتین کھڑی ہیں اور یہ ہی ان کی طاقت ہے۔ سچ جھوٹ کا فیصلہ عدالت اور وقت کرے گا لیکن ایک بات کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ عورت کی بات سنی جائے گی۔ اس پر اعتبار بھی کیا جائے گا، اسے ایک شہری کے طور پر اس کے حقوق بھی دلوائے جائیں گے۔ اگر یہ عورت کارڈ ہے تو ہاں یہ عورت کارڈ اب عام ہو چکا ہے۔

چڑی کی دکی نے حکم کے اکے کو شکست دے دی ہے۔ ہار مان لیجئے ۔ تھپڑ، مکا، زبانی، ذہنی یا کسی بھی قسم کے تشدد کے لیے صفر برداشت کا رویہ پیدا ہو کے پروان چڑھ چکا ہے۔ معاشرے میں اس شخص کی عزت صفر بھی نہیں جس کی بیوی روز پٹ کر سڑک پر نکلتی ہو اور جس کے قریبی دوست بھی گواہی دیں کہ ہم ان زخموں پر پھاہے رکھواتے رہے ہیں۔

ویسے آفرین ہے ایسے دوستوں پر بھی جو یہ دیکھتے ہوئے بھی منھ سیئے بیٹھے رہے۔ ان بے چاروں کی بھی شدید خواہش ہو گی کہ یہ گھر بسا رہے۔ عورت پٹ رہی ہے تو پٹتی رہے( آخر سب ہی نے پٹ کٹ کے گھر بسا رکھے ہیں، واہ، واہ!) مگر اب مزید نہیں، کان کھول کر سن لیجیے، مارنا منع ہے!

اسی بارے میں