عمران خان کا واشنگٹن میں خطاب: ملک میں طاقتور کا احتساب شروع ہو چکا ہے

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@PTIOfficial

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ قوم پاکستان کو ہر سال تبدیل ہوتا اور اوپر جاتا دیکھے گی۔

امریکہ کے شہر واشنگٹن ڈی سی کے کیپیٹل ون ایرینا میں امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد سے خطاب کرتے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ وہ پاکستان کو ریاستِ مدینہ کی طرز پر ایک فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں طاقتور کا احتساب شروع ہو چکا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے ملکی معیشت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ مشکل وقت ہے جو چند ماہ یا سال بھر تک رہے گا لیکن ہم ملک کو مشکل سے نکال کر دکھائیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آج تک کبھی کسی کے سامنے جھکا ہوں اور نہ اپنی قوم کو کبھی جھکنے دوں گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

عمران خان کا دورہ امریکہ: ’تبدیلی واشنگٹن پہنچ چکی ہے‘

دورۂ امریکہ: ’افغانستان کو مرکزی حیثیت حاصل رہے گی‘

عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ ملاقات کا ایجنڈا کیا ہو گا؟

عمران خان اور ٹرمپ ایک جیسی شخصیات کے مالک ہیں: امریکی سینیٹر

عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک کے تاجروں کو پاکستان کو قرضوں کی دلدل سے نکالنے کے لیے رجسٹرڈ ہونا پڑے گا اور ٹیکس دینا پڑے گا، 10 سال پہلے پاکستان کا قرضہ چھ ہزار ارب روپے تھا جو 30 ہزار ارب تک پہنچ گیا، ہمیں گذشتہ دو حکومتوں سے یہی پیسہ واپس لینا ہے۔

وزیر اعظم کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’پاکستانی باصلاحیت ہیں لیکن میرٹ نہ ہونے کی وجہ سے انھیں پاکستان میں مواقع نہیں ملتے۔ ہمیں میرٹ کا سسٹم بحال کرنا ہے۔ خاندانوں کی سیاست اور جاگیر دارانہ نظام ختم ہوگا تب ہی میرٹ آئے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@PTIOfficial
Image caption تقریب میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان میں معدنیات کے اربوں ڈالر کے ذخیرے موجود ہیں۔ ’ہمارے ملک میں اربوں ٹن کوئلہ موجود ہے۔ یہاں تو سو سال تک بجلی کی کمی ہونی ہی نہیں چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ بڑی کمپنیاں پاکستان میں کرپشن کی وجہ سے نہیں آتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جن کمنپیوں سے بھی ملے ہر کمپنی یہی کہتی ہے کہ ہم سے رشوت مانگی جاتی ہے لیکن اب کمپنیاں پاکستان ضرور آئیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم پہلی بار سرکاری اسکولوں میں ایک نصاب لانے کی کوشش کررہے ہیں، مدرسوں کی تنظیموں سے معاہدہ کرکے مدرسے کے بچوں کو عصری علوم دینے کا کام جاری ہے تاکہ وہاں سے بھی ڈاکٹر و انجینئر بنیں کیوں کہ 25 لاکھ بچے مدرسے میں جاتے ہیں۔

عمران خان نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان میں کرپشن پر بات ہوتی ہے تو کہتے ہیں کیوں نکالا؟ دراصل یہ نیا پاکستان بن رہا ہے۔ یہ ہے تبدیلی، کبھی پاکستان میں طاقتور کا احتساب نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ سب حکومت کے خلاف اکھٹے ہو گئے ہیں اور ان کا ایک ہی مقصد ہے این آر او۔ ان کا کہنا تھا کہ ’انھیں جو کرنا ہے کرلیں، دھرنا دینا ہے تو کنٹینر دیتا ہوں، جلسے کرنا ہے تو وہ کریں لیکن لوٹا ہوا پیسہ واپس دینا پڑے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@PTIOfficial

وزیر اعظم نے نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بیرون ملک سے سفارشیں کرائی گئیں، ایک بادشاہ نے بھی سفارش کی، اگر ہم نے طاقتور کا احتساب کر دیا اور بے نامی جائیدادیں ضبط کرلیں اور بیرون ملک گیا پیسہ واپس لے آئے تو یہی ہے وہ وقت جب پاکستان بدلے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کہتے ہیں جیل کا کھانا اچھا نہیں ہے، ایئرکنڈیشنر لگا دو، اب ٹی وی چاہیے، اگر یہی سب کچھ جیل میں دینا ہے تو یہ سزا تو نہیں ہوئی، ایئرکنڈیشنر اور ٹی وی جیل سے نکالیں گے جس پر مریم بی بی بہت شور مچائیں گی۔

سابق صدر آصف زرداری پر بھی تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’دیکھ رہا ہوں کہ وہ جیل جاتے ہی ہسپتال پہنچ جاتے ہیں۔ آپ کو بھی ہم جیل میں رکھیں گے جہاں ٹی وی اور ایئرکنڈیشنر نہیں ہوگا۔‘

عورتوں کے حقوق کے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افسوس سے کہتا ہوں کہ دیہات میں آج تک خواتین کو جائیداد میں حصہ نہیں دیا جاتا۔

’ایک قانون لے کر آ رہے ہیں جس میں خواتین کو جائیداد میں حصہ دینا پڑے گا۔ خواتین کو حقوق دینے کا تصور بھی ریاست مدینہ نے دیا۔ ریاست مدینہ ایک جدید ریاست تھی جو جدید اصولوں پر استوار تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@PTIOfficial

انھوں نے امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے درخواست کی کہ یہاں موجود لوگ اپنے بچوں کو پاکستان بننے کا مقصد بتائیں کہ اسے ایک اسلامی فلاحی ریاست بننا تھا جو کہ مدینہ کی ریاست تھی جو کہ قرآن و سنت کے اصولوں پر مبنی تھی۔

انھوں نے ملک میں کھیلوں کے فروغ سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈکپ کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کو ٹھیک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگلے ورلڈکپ میں بہترین ٹیم لے کر آئیں گے اور اسی طرح دیگر کھیلوں پر بھی توجہ دیں گے۔

واضح رہے عمران خان تین روزہ دورے پر امریکہ میں ہیں جہاں وہ پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ملاقات کریں گے۔

دورے کے پہلے دن عمران خان نے تاجروں اور سرمایہ کاروں سے بھی ملاقاتیں کیں۔

پاکستانی سفارتخانے میں ہونے والی ملاقاتوں میں وزیراعظم عمران خان نے امریکی تاجروں اور سرمایہ کاروں کو پاکستان میں اقتصادی اور کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھانے کی پیشکش کی۔

اسی بارے میں