ڈیرہ اسماعیل خان دھماکہ: ’مریم ہماری بہن نہیں جان تھی‘

عرفان اور مریم تصویر کے کاپی رائٹ MOHAMMAD ASIF
Image caption اتوار کو ہونے والے خودکش دھماکے میں جو افراد اپنی جان سے گئے ان میں مریم اور ان کے 20 سالہ بھائی عرفان بھی شامل تھے

’مریم ہماری بہن نہیں جان تھی۔ ہمارا تو پورا گھر ہی اجڑ گیا ہے، اللہ نہ کرے آئندہ پھر کسی کے ساتھ ایسا ہو۔‘

نو سالہ مریم بی بی پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان کے مقامی ہسپتال میں گئی تو ویکسینیشن کے لیے تھیں لیکن وہاں سے واپس ان کی لاش ہی آئی۔

یہی نہیں بلکہ مریم کے خاندان کو دوہرا صدمہ اٹھانا پڑا ہے کیونکہ اتوار کو ہونے والے اس خودکش دھماکے میں جو افراد اپنی جان سے گئے ان میں مریم کے علاوہ ان کے 20 سالہ بھائی بھی شامل تھے۔

ان کے ایک اور بھائی محمد اسامہ اس دھماکے میں شدید زخمی ہوئے اور اس وقت ہسپتال میں زیِر علاج ہیں۔

’ہر طرف دھواں اور چیخ و پکار تھی‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مریم کے بڑے بھائی محمد ذیشان کا کہنا تھا کہ مریم بی بی کو کچھ عرصہ قبل کتے نے کاٹا تھا اور اتوار کو ان کی تیسری ویکسینشن ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں ہونا تھی۔

ان کے مطابق وہ مصروفیت کی وجہ سے مریم کو خود ہسپتال نہیں لے جا سکے اس لیے انھوں نے اپنے چھوٹے بھائیوں کو مریم کے ساتھ ہسپتال بھیجا تھا۔

ذیشان کے مطابق جب یہ تینوں بہن بھائی ہسپتال پہنچے تو انھیں مطلع کیا گیا کہ ویکسین ختم ہو چکی ہے۔ ذیشان کے مطابق ہسپتال میں زیرِ علاج اسامہ نے انھیں بتایا کہ جب وہ پارکنگ کی جانب بڑھے تو اچانک دھماکہ ہوا اور ہر طرف دھواں پھیل گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ADIL WAQAR
Image caption جب یہ تین بہن بھائی پارکنگ کی جانب بڑھے تو اچانک دھماکہ ہوا اور ہر طرف دھواں اور چیخ و پکار اٹھنے لگی

’مریم ہماری بہن نہیں جان تھی‘

محمد ذیشان کا کہنا تھا کہ مریم بی بی چار بھائیوں کی اکلوتی بہن تھیں۔

’وہ کتنی لاڈلی تھی یہ الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے۔ اس کی ہر خواہش ہم بھائی پوری کرتے تھے اور ماں باپ کی تو وہ جان تھی۔

’مریم ہماری بہن نہیں ہم سب کی جان تھی۔ ہمارا تو پورا گھر ہی اجڑ گیا۔ اللہ نہ کرے آئندہ پھر کسی کے ساتھ ایسا ہو۔‘

مزید پڑھیں

ڈی آئی خان: شدت پسندی کے واقعات میں سات افراد ہلاک

’پانچ لڑکے جہاد کے لیے گھر سے چلے گئے‘

امریکی دباؤ سے کیا مذہبی شدت پسندی کم ہو گی؟

اس دن کے بارے میں بتاتے ہوئے ذیشان نے کہا کہ ’اس نے مجھے سے وعدہ لیا تھا کہ میں ہسپتال سے واپسی پر اسے کھانے پینے کی چیزیں خرید کر دوں گا۔’مگر مجھے تو ہسپتال جا کر اس کی لاش وصول کرنا پڑی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ADIL WAQAR
Image caption 'اس نے مجھے سے وعدہ لیا تھا کہ میں ہی اس کو کھانے پینے کی چیزیں خرید کر دوں گا مگر اتوار کو مجھے ہسپتال جا کر ان کی لاش وصول کرنا پڑی'

دھماکے میں ہلاک ہونے والے اپنے بھائی کے بارے میں ذیشان نے بتایا کہ ’عرفان گھر کے تمام کام اور معاملات سنبھالتا تھا۔ اس کی موجودگی میں ہمیں گھر کے کاموں اور معاملات کی کبھی فکر نہیں ہوئی تھی۔ ماں باپ کا ہم سب سے زیادہ خیال رکھا کرتا تھا۔‘

’ہم نے اسے بتایا کہ وہ زخمی ہیں‘

واقعے کے بعد سے ان دونوں بہن بھائیوں کے والدین سکتے کے عالم میں ہیں۔ مریم بی بی اور محمد عرفان کے چچا محمد آصف نے بتایا کہ بچوں کے والد محمد مبارک بالکل چپ ہیں نہ روتے ہیں نہ بات کرتے ہیں۔

ان کے مطابق ’بچوں کی والدہ یہ تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں ہیں کہ مریم اور عرفان اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ وہ رہ رہ کر مریم، عرفان اور اسامہ کو آوازیں دے رہی ہیں اور سنبھالے نہیں سنبھل رہی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ MOHAMMAD ASIF
Image caption ذیشان کے مطابق عرفان اپنے ماں باپ کا سب سے زیادہ خیال رکھا کرتا تھا

محمد آصف کے مطابق اس حالت کے پیشِ نظر انھیں نیند کے انجیکشن لگائے گئے ہیں تاکہ انھیں کچھ سکون مل سکے۔

ہسپتال میں زیرِ علاج اسامہ کے بارے میں ذیشان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے وقت اسامہ ہوش و حواس کھو بیٹھا تھا اور جب اسے ہوش آیا تو اس نے سب سے پہلے اپنے بہن اور بھائی کا پوچھا تھا۔

ذیشان نے بتایا کہ انھوں نے اس وقت تو اسامہ کو یہ بتایا تھا کہ وہ بھی زخمی ہیں تاہم جب وہ مریم اور عرفان کی تدفین کے بعد واپس گئے تو ’وہ زاروقطار رو رہا تھا کہ اس کو ہسپتال میں پتا چل گیا تھا کہ وہ دونوں اب اس دنیا میں نہیں۔‘

ان کے مطابق وہ اسامہ کے علاج کے حوالے سے فکرمند ہیں کیونکہ ان کی ایک ٹانگ میں فریکچر ہے جبکہ جسم کے باقی حصوں پر بھی بم کے ٹکڑے لگے ہوئے ہیں۔

محمد ذیشان کے مطابق اپنے بھائی اور بہن کی تدفین کے بعد جب وہ ہسپتال پہنچے تو رات کے ایک بجے ڈاکٹروں نے انھیں اسامہ کے لیے خون کا انتظام کرنے کو کہا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’وہ تو شکر ہے کہ کسی نے خون کا عطیہ دے دیا ورنہ اس وقت ہم کہاں جاتے؟‘

اسی بارے میں