ٹرمپ پاکستان سے ایک نیا رشتہ استوار کرنا چاہتے ہیں: شاہ محمود قریشی

ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ PMO
Image caption عمران خان نے صدر ٹرمپ کے سامنے یہ واضح کیا کہ پاکستان کو امداد کی نہیں تجارت کی ضرورت ہے

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی ملاقات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔

پاکستان کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان جامع بات چیت ہوئی جس کا مرکز پاکستان اور امریکہ کے درمیان وسیع تر اور پائیدار شراکت داری کا قیام اور جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے تعاون مضبوط کرنے پر رہا۔

اس سے قبل واشنگٹن میں پاکستانی اور امریکی حکام کے درمیان ملاقاتوں کے بعد پیر کی شب پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ فریقین کے درمیان تین نشستوں پر محیط بات چیت میں دو طرفہ تعلقات، تجارت، افغان امن اور کشمیر کے مسئلے پر ’بڑی اچھی اور کھل کر بات ہوئی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بات چیت میں ہمارا مقصد یہی ہے کہ ہم پاکستان کا نقطہ نظر پیش کریں۔‘

یہ بھی پڑھیے

ٹرمپ کی کشمیر پر ثالثی کی پیشکش، انڈیا کا انکار

ثالثی کی پیشکش: ’پاکستان کے ساتھ ہاتھ ہو گیا‘

عمران ٹرمپ ملاقات: آخر امریکہ پاکستان سے چاہتا کیا ہے؟

دو طرفہ تعلقات

شاہ محمود قریشی کے مطابق صدر ٹرمپ ’پاکستان کے ساتھ عظیم تعلقات کا آغاز کرنا چاہتے ہیں اور وہ ایک نیا اور مختلف قسم کا رشتہ استوار کرنا چاہتے ہیں۔‘

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان روابط کو دیکھا جائے تو ایک بڑا خلا موجود تھا۔

’پانچ برس تک اس سطح کا رابطہ نہیں ہوا۔ چاہے وہ کیپیٹل ہل پر راوبط ہوں یا انتظامیہ کی سطح پر ایک خلا پیدا ہو چکا تھا۔ اس خلا میں پاکستان کے ناقدین کو اپنا نقطہ نظر ہیش کرنے کا موقع ملتا تھا اور ایک یکطرفہ موقف سامنے آتا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PMO
Image caption 'آج تک کسی امریکی صدر سے مسئلہ کشمیرکےحل کی خواہش کا اتنا بر ملا اظہار نہیں سنا'

شاہ محمود کا کہنا تھا کہ دفاعی امور کے حوالے سے دونوں ممالک کے تعلقات تعطل کا شکار تھے اس لیے دفاعی امور پر بات چیت خوش آئند تھی۔

انھوں نے کہا کہ ملاقات میں صدر ٹرمپ نے اس بات کو سراہا کہ پاکستان کی سول اور فوجی قیادت ایک صفحے پر ہے۔

شاہ محمود قریشی کے مطابق ملاقات میں پاکستانی وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کو پاکستان آنے کی دعوت بھی دی جو انھوں نے قبول کر لی ہے۔

کشمیر پر ثالثی کی پیشکش

امریکی صدر کی جانب سے کشمیر کے تنازعے پر ثالثی کی پیشکش کا ذکر کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ انھوں نے ’آج تک کسی امریکی صدر سے مسئلہ کشمیرکے حل کی خواہش کا اتنا برملا اظہار نہیں سنا۔‘

اس سوال پر کہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے بارے میں ماضی میں بھی کئی امریکی صدور تعاون کی پیشکش کے ساتھ ساتھ اس کے حل پر زور دے چکے ہیں مگر مسئلہ حل نہیں ہوا، پاکستانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’ایک عرصے سے تو کشمیر کا نام تک نہیں لیا جاتا تھا، اس کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس معاملے میں دوبارہ جان آئی ہے۔‘ 

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر صدر ٹرمپ کی پیشکش کے بعد اس حوالے سے کوئی پیشرفت ہوتی ہےتو جنوبی ایشیا میں استحکام کا امکان پیدا ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PMO
Image caption امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں نئے دور کا آغاز ہے

خیال رہے کہ انڈیا نے صدر ٹرمپ کے اس بیان کی تردید کر دی ہے کہ انڈین وزیراعظم نے ان سے کشمیر کے معاملے میں ثالثی کے لیے کہا تھا۔

مسئلہ کشمیر سے متعلق ایک اور سوال پر پاکستانی وزیر کا کہنا تھا کہ’ پاکستان امن کا داعی ہے اور چاہتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ بات چیت کے ساتھ حل ہو، کیونکہ دونوں ممالک جوہری قوت ہیں اور ان کے درمیان جنگ خودکشی ہو گی۔‘

پاکستانی دفترِ خارجہ کے اعلامیے کے مطابق عمران خان نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ ایک ’پرامن ہمسائیگی‘ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیح ہے کیونکہ امن اور استحکام ہو گا تو ہی پاکستان اپنے افرادی قوت کے خزانے کو استعمال کرتے ہوئے ترقی کر سکتا ہے۔

افغان امن عمل

افغانستان میں قیامِ امن کی کوششیں پیر کو صدر ٹرمپ اور وزیراعظم عمران خان کی ملاقات کا محور رہیں۔

اس حوالے سے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’افغانستان کے جو چیلنجز ہیں ان کی بہت سی وجوہات ہیں اندرونی وجوہات ہیں جن سے صرفِ نظر نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارے حصے میں خاطرخواہ بہتری آئی ہے اس کی تازہ مثال وہاں گذشتہ ہفتے ہونے والے پرامن انتخابات ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان کی افغانستان میں قیامِ امن کے لیے کوششوں کو سراہا اور افغانستان میں امن، استحکام اور ترقی کو فروغ دینے کے اقدامات پر زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے برسرِاقتدار آنے سے پہلے اس امریکی انتظامیہ نے ایک حکمتِ عملی بنا لی تھی جس میں افغان مسئلے کا الزام پاکستان پر ڈال دیا گیا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PMO
Image caption دفاعی عمور کے حوالے سے دونوں ممالک کے تعلقات تعطل کا شکار تھے اس لیے دفاعی عمور پر بات چیت خوش آئند تھی

انھوں نے کہا کہ عمران خان کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ اس مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور افغانستان می امن صرف مذاکرات کے ذریعے آ سکتا ہے۔

پاکستانی اعلامیے میں بھی اس بارے میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان نیک دلی سے افغان امن عمل کی حمایت کرتا رہے گا اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچانا ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔

’امداد نہیں تجارت‘

شاہ محمود کا کہنا تھا کہ ملاقات کی سب سے خوش آئند بات دونوں رہنماؤں کے درمیان دو طرفہ تجارت کے امور پر بات چیت تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو کچھ عرصے سے امریکہ سے گلہ رہا ہے کہ وہ اسے صرف افغانستان کی عینک سے دیکھتا ہے اور دو طرفہ تعلقات کو اہمیت نہیں دی جاتی۔

انھوں نے بتایا کہ عمران خان نے صدر ٹرمپ کے سامنے یہ واضح کیا کہ پاکستان کو امداد کی نہیں تجارت کی ضرورت ہے کیونکہ تجارت سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےکہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ ماضی سے ہٹ کر مضبوط تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت 20 گنا بڑھانے کی امید رکھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PMO
Image caption امریکہ کو اس کی منی لانڈرنگ کی روک تھام میں پاکستان کا ساتھ دینا چاہیے

پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق ان ملاقاتوں میں جن معاملات پر اتفاقِ رائے ہوا ان پر مستقبل میں بات چیت کے لیے ایک نظام کی تشکیل کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

’دہشتگردوں کی مالی معاونت‘

جب شاہ محمود قریشی سے پوچھا گیا کہ آیا صدر ٹرمپ کے ساتھ وزیرِ اعظم عمران خان کی ملاقات میں ایف اے ٹی ایف پر بات ہوئی، تو ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم عمران خان بار بار کہہ چکے ہیں کہ تیسری دنیا میں غربت کی ایک بڑی وجہ منی لانڈرنگ ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ کو اس کی روک تھام میں پاکستان کا ساتھ دینا چاہیے، اور یہی بات انھوں نے صدر ٹرمپ کے ساتھ نشست میں بھی کی گئی۔ 

انھوں نے کہا کہ 'آپ جانتے ہیں کہ دہشتگردوں کی مالی معاونت پر ہمارا عزم کیا ہے۔ موجودہ حکومت میں اس حوالے سے سیاسی عزم موجود ہے، اور ہم نے اس حوالے سے [دہشتگرد تنظیموں کے] اثاثے منجمد کرنے سمیت دیگر اقدامات اٹھائے ہیں۔‘

وائٹ ہاؤس اعلامیہ

اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ پاکستان کے ساتھ ان معاملات پر تعاون مضبوط کرنے کے لیے کوشاں ہیں جو جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے کلیدی ہیں۔

اعلامیے کے مطابق امریکہ جنوبی ایشیا کو پرامن علاقہ بنانے کے لیے ضروری حالات پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے اور صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ خطے میں امن و استحکام کے خواہاں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PMO

امریکہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے خطے کی سکیورٹی بہتر بنانے اور انسدادِ دہشت گردی کے سلسلے میں جو ابتدائی اقدامات کیے گئے ہیں صدر ٹرمپ نے ان کی ستائش کی۔

اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں قیامِ امن کے لیے بات چیت کے عمل کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں کی ہیں اور اس سلسلے میں اس سے مزید کام کرنے کو کہا جائے گا۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک مضبوط تعلق کا راستہ افغانستان کے تنازعے کے ایک پرامن حل کے لیے مشترکہ کوششوں سے جاتا ہے۔

اعلامیے کے مطابق پاکستان نے اپنی سرزمین پر سرگرم دہشت گردوں کے خلاف کچھ اقدامات کیے ہیں لیکن یہ نہایت اہم ہے کہ پاکستان ہمیشہ کے لیے ان تمام گروپوں کے خاتمے کے لیے کارروائی کرے۔

اسی بارے میں