عاصمہ شیرازی کا کالم: الحمدللہ بوائز پلیڈ ریئلی ویل!

عمران خان اور قمر جاوید باجوہ تصویر کے کاپی رائٹ PMO

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق کا یہ جملہ 'الحمداللہ، بوائز پلیڈ ریئلی ویل' بہت دلچسپ اور مقبول جملہ ہے۔ اکثر میچ جیت جانے کے بعد بولا جانے والا یہ جملہ کانوں کو بہت بھلا، خوبصورت اور دلفریب لگتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بنتے ہی امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں جو تناؤ آیا، وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ شروع میں پاکستان نے بھی پروا نہیں کی مگر دھیرے دھیرے پاکستان 'نیچرل الائنس' یعنی خطے کے قدرتی اتحاد سے نکل کر ایک بار پھر ’اپنے پرانے پیار’ کی جانب لوٹنے لگا۔

سی پیک کی حقیقت اور اہمیت اپنی جگہ مگر امریکہ سے جُڑی محبت کی یادیں اور پیار کی پینگیں ہم کیسے بھول سکتے تھے؟

امریکہ نے اس دوران منانے کے جتن کیے یا نہیں مگر یہ سچ ہے کہ محبت کی اس ڈور سے بندھے ہونے کی وجہ سے جب کوئی پیار سے بلائے گا۔۔۔ ہم کو بس امریکہ ہی یاد آئے گا۔

یہ بھی پڑھیے

ٹرمپ کی کشمیر پر ثالثی کی پیشکش، انڈیا کا انکار

عمران ٹرمپ ملاقات: آخر امریکہ پاکستان سے چاہتا کیا ہے؟

دورۂ امریکہ: ’افغانستان کو مرکزی حیثیت حاصل رہے گی‘

پاکستان کی فوجی قیادت نے گزشتہ کچھ عرصے میں افغانستان کے حوالے سے امریکی خدشات کے بالکل برعکس کردار ادا کیا ہے، جس کی گواہی گاہے بگاہے افغان قیادت اور سفارت کار دیتے دکھائی دیتے ہیں۔

گذشتہ کچھ عرصے میں افغان امن عمل میں بہتری اُس اعتماد کی بحالی ہے جو پاکستان کی عسکری قیادت نے افغانستان اور خاص طور پر امریکہ کو دیا ہے۔

مگر دہائیوں کی عدم اعتمادی کا خاتمہ بہرحال تین برسوں میں ممکن نہیں اور اس کے لیے ایک 'تسلسل' کی ضرورت ہے جو اُن تمام 'ضمانتوں' پر عملدرآمد میں کارآمد ہو جو حال ہی میں امریکہ کو دی گئی ہیں۔

امریکہ کے حالیہ دورے سے عیاں ہے کہ پاکستان اور امریکہ اس پالیسی کے تسلسل کے لیے تیار اور آمادہ ہیں۔

اس دورے نے جہاں پاکستان اور امریکہ کے مابین جمی برف کو پگھلایا ہے وہیں کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے صدر ٹرمپ کی جانب سے وزیرِ اعظم مودی کو کی جانے والی مبینہ پیشکش نے انڈیا اور پاکستان کے ٹھہرے پانی میں ارتعاش ضرور پیدا کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم عمران خان کی یہ پہلی ملاقات تھی

صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد انڈین محکمۂ خارجہ چند لمحوں میں ہی تردید تو کر دیتا ہے تاہم یہ لکھنا نہیں بھولتا کہ شملہ اور لاہور معاہدوں کے تحت پاکستان اور انڈیا دو طرفہ تعلقات پر بات چیت کرنے کے پابند ہیں۔

یہ بیان آنے والے دنوں میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشمیر سمیت تمام مسائل پر بات چیت کا عندیہ دے رہا ہے۔ یہاں گو کہ ایک بہت بڑا 'اگر'، ہے تاہم اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ کامیابی عمران خان اور جنرل باجوہ کے حصے میں ہی آئے گی۔

عاصمہ شیرازی کے مزید کالم پڑھیے

جمہوریت بمقابلہ فسطائیت

بھاگ لگے رہن۔۔۔

عزیز ہم وطنو!

آنے والے دنوں میں پاکستان اور انڈیا کے تعلقات سے لے کر پاکستان و افغان معاملات میں بہتری تک موجودہ سیاسی اور فوجی قیادت ایک صفحے پر ہی رہے گی البتہ ایف اے ٹی ایف کی سیاہ فہرست سے بچنے کے لیے صرف حافظ سعید کی گرفتاری پر اکتفا نہیں کیا جائے گا بلکہ یہاں 'ڈومور' کی فہرست موجود ہے۔

ممبئی حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری صدر ٹرمپ کی 'کامیابی' ہے تو اسے پاکستان کی کامیابی بھی بنانا ہوگا۔

خطے میں بہتر کردار، بیرونی روابط، دوست ممالک سے امداد کی کوششوں کا سہرا کس کو جاتا ہے اور کس کو نہیں، اس سب سے قطع نظر بیرونی محاذ پر بہرحال 'بوائز پلیڈ ریئلی ویل۔'

اب تک کپتان کے ستارے عروج پر ہی رہے ہیں تاہم اب کپتان کو اصل چیلنج یعنی ملک کے اندر سیاسی ہلچل اور خراب طرز حکمرانی کے تاثر سے نمٹنا ہوگا۔

کیا اس کے لیے اُن کی سیاسی ٹیم تیار ہے؟

اسی بارے میں