چاغی سے غیرملکی ڈرون برآمد، تحقیقات جاری

Image caption ڈرون طیارے کو نوکنڈی کے علاقے تزگی وڈھ سے برآمد کیا گیا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سرحدی ضلع چاغی میں حکام نے ایک غیرملکی ڈرون طیارے کو اپنی تحویل میں لیا ہے۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق صوبائی محکمۂ داخلہ کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ مقامی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو یہ ڈرون نوکنڈی کے علاقے میں ملا۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ ڈرون طیارے کو نوکنڈی کے علاقے تزگی وڈھ سے برآمد کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان نے ایرانی ڈرون گرانے کی تصدیق کر دی

اہلکار نے بتایا کہ یہ ڈرون اہلکاروں کو صحیح حالت میں ملا جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کسی فنی خرابی کے باعث اس علاقے میں اتر گیا تھا ۔

محکمۂ داخلہ کے اہلکار کے مطابق ڈرون پر بعض تحریر شدہ الفاظ کے مطابق یہ بظاہر ایرانی ڈرون لگتا ہے تاہم اس سلسلے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

بلوچستان کے ایران کے ساتھ سرحدی علاقے میں سالم حالت میں کسی ڈرون طیارہ ملنے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

اس سے قبل 2017 میں پنجگور کے علاقے میں پاکستان کی جانب سے ایک ایرانی ڈرون طیارے کو مار گرایا گیا تھا۔

Image caption اس ڈرون پر فضا سے نگرانی کے لیے کیمرے نصب ہیں

اس موقع پر پاکستان نے کہا تھا کہ پاکستانی طیارے نے اس لیے ایرانی ڈرون کو نشانہ بنایا کہ اس پر کوئی نشان نہیں تھا اور اس پرواز کی اس سے پہلے کوئی معلومات نہیں تھیں۔

چاغی کی طرح پنجگور بھی بلوچستان کا ایران سے متصل سرحدی ضلع ہے ۔

پنجگور میں گزشتہ سال جون کے مہینے میں ڈرون طیارہ داخل ہوا تھا جسے پاکستان فضائیہ کے طیاروں نے مار گرایا تھا۔

تاحال ایرانی حکام کی جانب سے اس بارے میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے کہ آیا مذکورہ ڈرون انھی کا ہے اور اگر ایسا ہے تو وہ پاکستانی علاقے میں کیا کر رہا تھا۔

گذشتہ کئی سال سے ایران کے صوبے سیستان بلوچستان میں شدت پسندی کے جو واقعات رونما ہورہے ہیں ان کے بعد سے ایران کی جانب سے پاکستان کے ساتھ سرحدی علاقوں میں سکیورٹی کو سخت کرنے کے ساتھ ساتھ نگرانی کو بھی بڑھایا گیا ہے۔

اسی بارے میں