عمران خان کا امریکہ میں فاکس نیوز کو انٹرویو: ’اسامہ کی تلاش کا سرا آئی ایس آئی نے فراہم کیا تھا‘

اسامہ بن لادن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی کارروائی کو آٹھ سال مکمل ہو چکے ہیں لیکن اس فوجی کارروائی سے جڑے بہت سے سوال آج تک جواب طلب ہیں

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں امریکی کارروائی پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کی جانب سے دی گئی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی تھی۔

عمران خان نے یہ بات اپنے دورۂ امریکہ کے دوران ٹی وی چینل فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ سی آئی اے سے پوچھیں تو آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ آئی ایس آئی نے ابتدا میں اسامہ کی موجودگی کا ٹیلی فونک لنک امریکہ کو فراہم کیا تھا۔‘

عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم امریکہ کو اپنا اتحادی سمجھتے تھے اور یہ چاہتے تھے کہ ہم خود اسامہ بن لادن کو پکڑتے لیکن امریکہ نے ہماری سرزمین میں گھس کر ایک آدمی کو ہلاک کر دیا۔‘

مزید پڑھیے

ثالثی کی پیشکش: ’پاکستان کے ساتھ ہاتھ ہو گیا‘

الحمدللہ، بوائز پلیڈ ریئلی ویل!

’ٹرمپ پاکستان سے ایک نیا رشتہ استوار کرنا چاہتے ہیں‘

شکیل آفریدی کی اپیل باقاعدہ سماعت کے لیے منظور

میزبان کے اس تبصرے پر کہ اسامہ کوئی عام آدمی نہیں تھے بلکہ لگ بھگ تین ہزار امریکی باشندوں کے قتل کے ذمہ دار تھے، عمران خان نے کہا کہ ’ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان کو اس جنگ کے نتیجے میں 70 ہزار سے زائد جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

’ساتھ ہی آپ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ اس وقت پاکستان امریکہ کی جنگ لڑ رہا تھا اور اس واقعے کے بعد پاکستان کو شدید شرمندگی اٹھانی پڑی تھی۔‘

عمران خان نے انٹرویو میں یہ عندیہ بھی دیا کہ اسامہ بن لادن کے خلاف کارروائی میں امریکہ کی مبینہ طور پر مدد کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے رہائی کے بدلے امریکہ میں قید پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وطن واپسی پر بات ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ سے ان کی بات چیت میں تو ڈاکٹر شکیل آفریدی کا معاملہ زیرِ بحث نہیں آیا تاہم ’مستقبل قریب میں اس بارے میں مذاکرات ہو سکتے ہیں‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈاکٹر شکیل آفریدی پر یہ الزام ہے کہ انھوں نے اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں گرفتاری کے لیے کیے گئے آپریشن میں امریکہ کی مدد کی تھی

عمران خان نے پروگرام ’سپیشل رپورٹ‘ کے اینکر بریٹ بیئر کو بتایا کہ ’یہ پاکستان میں یہ ایک بہت جذباتی مسئلہ ہے کیونکہ وہاں شکیل آفریدی کو امریکہ کا جاسوس سمجھتے ہیں۔‘

خیال رہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو سنہ 2011 میں پشاور کی کارخانو مارکیٹ سے گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد انھیں شدت پسند تنظیم کے ساتھ تعلق رکھنے کے الزام میں اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ خیبر ایجنسی کی عدالت نے تین مقدمات میں 20 برس سے زیادہ قید کی سزا سنائی تھی۔

وہ اس وقت پنجاب کے شہر ساہیوال کی انتہائی سخت حفاظتی انتظامات والی جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔

ان کا تبادلہ جن خاتون یعنی عافیہ صدیقی سے کرنے کی بات کی جا رہی ہے انھیں سنہ 2008 میں امریکی فوج اور حکومت کے اہلکاروں پر افغانستان میں مبینہ طور قاتلانہ حملہ کرنے کے الزام میں امریکی عدالت نے 86 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

’ساتھ ہی آپ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ اس وقت پاکستان امریکہ کی جنگ لڑ رہا تھا اور اس واقعے کے بعد پاکستان کو شدید شرمندگی اٹھانی پڑی تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں یرغمال بنائے گئے دو یا تین امریکی اور آسٹریلوی باشندوں کی بازیابی کے لیے بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمیں یقین ہے کہ ہم اس حوالے سے اگلے 48 گھنٹوں میں کوئی خوشخبری سنائیں گے۔‘

جوہری ہتھیاروں کی تخفیف

اس سوال پر کہ اگر انڈیا اپنے جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کی حامی بھرتا ہے تو کیا پاکستان بھی تخفیف پر رضامند ہو جائے گا، عمران خان نے کہا: ’ہاں! جوہری جنگ کسی تنازع کا حل نہیں ہے بلکہ یہ تو اپنے آپ کو تباہ کرنے کے مترادف ہے کیونکہ انڈیا کے ساتھ ہماری ڈھائی ہزار کلومیٹر کی سرحد ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک اعشاریہ تین ارب لوگوں کے سلامتی اور امن کا سوال ہے۔‘

یاد رہے کے پاکستان اور انڈیا کے درمیان فروری میں کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کے جوہری پروگراموں پر اقوامِ عالم نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جوہری جنگ کسی تنازع کا حل نہیں ہے بلکہ یہ تو اپنے آپ کو تباہ کرنے کے مترادف ہے کیونکہ انڈیا کے ساتھ ہماری ڈھائی ہزار کلو میٹر کی سرحد ہے

اینکر نے جب عمران خان سے پوچھا کہ کیا پاکستان کے جوہری ہتھیار کتنے محفوظ ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ کسی کو بھی پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس دنیا کی سب سے پیشہ وارانہ فوج ہے اور ان جوہری ہتھیاروں کا کمانڈ اور کنٹرول بھی جامع اور جدید ہے اور امریکہ کو یہ سب معلوم ہے۔‘

’ایران میں امن کے قیام کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے‘

ایران میں حالیہ کشیدگی اور مبینہ جوہری خلاف ورزیوں کے بارے میں عمران خان نے کہا کہ وہ ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے بارے میں تو کچھ نہیں کہہ سکتے البتہ ’ایران کے ہمسائے کی حیثیت سے ہم چاہیں گے کہ یہ تنازع ایک جنگ کی شکل اختیار نہ کرے۔‘

انھوں نے کہا کہ ہم اپنے تجربے کی بدولت یہ کہہ سکتے ہیں کہ ’ایران میں جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے کیونکہ نہ صرف ہمسائے کی حیثیت سے ہم اس سے متاثر ہوں گے بلکہ تیل کی قیمتوں پر بھی اس کا برا اثر پڑے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم ایران میں امن کے قیام کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عمران خان کا حالیہ افغان امن مذاکرات کے بارے میں کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ مزاکرات اب تک سب سے زیادہ مفید رہے ہیں

’افغان امن عمل‘

عمران خان کا حالیہ افغان امن مذاکرات کے بارے میں کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات اب تک سب سے زیادہ مفید رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ امریکہ کو طالبان سے کوئی مسئلہ نہیں ہو گا کیونکہ افغان طالبان ایک مقامی گروہ ہے جو افغانستان سے باہر کوئی حملہ نہیں کرنا چاہیں گے اور ’میرے خیال میں افغان حکومت کا طالبان کے ساتھ مشترکہ حکومت کا قیام امریکہ اور پورے خطے کی سلامتی کے لیے اچھا رہے گا۔‘

ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اس حوالے سے خطرہ یہ ہے کہ اگر ہم کوئی امن معاہدہ نہیں کر پاتے تو دولتِ اسلامیہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے مسئلہ بن سکتی ہے۔‘

اسی بارے میں